|

وقتِ اشاعت :   May 2 – 2017

کوئٹہ : بلوچستان کے سیاسی ، مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کے منتخب اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹرز صوبے کے ہزاروں افراد کی حج کی سعادت سے محرومی کے مسئلے کو سینٹ اور قومی اسمبلی میں اٹھائیں گے اور اس پر وفاقی حکومت سے بات کی جائے گی ۔ ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق ، پشتونخوا میپ کے سینیٹر محمد عثمان خان کاکڑ ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی ،عوامی نیشنل پارٹی کے داؤد خان اچکزئی ، نیشنل پارٹی کے کبیر محمد شہی اور جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ نے الحاج عبدالقیوم کاکڑ کے رابطہ کرنے پر بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ بلوچستان کے مختلف سیاسی ، مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کے سینیٹرز اور دیگر نے صوبے سے تعلق رکھنے والے ہزاورں حجاج کرام کی سر کاری سطح پر حج کی سعادت سے محرومی پر حیرت اظہار کیا اور کہاکہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہورہا بلکہ اس سے قبل بھی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے حجاج کرام سرکاری سطح پر حج کی ادائیگی سے محروم رہے ہیں ۔ بلوچستان میں صرف 6 ہزار خواہش مند افرا د نے حج درخواستیں جمع کی تھیں لیکن ستم بالائے ستم یہ ہیں کہ ان میں سے صرف 10 فیصد کے ہی نام قرعہ اندازی میں کامیاب قرار پائے ہیں جبکہ دیگر کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑاہے ۔ بعض فارم جمع کرنے والے ایسے ہیں جنہیں اب تک یہ معلوم نہیں کہ ان کے نام قرعہ اندازی میں کامیاب امیدواروں میں شامل ہے یا نہیں بلکہ ان کی جانب سے وزارت مذہبی امور سے رابطہ کی کوششیں بھی ناکام ہوئی ہیں وہ مذہبی امور کے ویب سائٹ پر اپنا فارم ،نمبر اور شناختی کارڈ نمبر لکھ کر کلک کرتے ہیں تو انہیں ویٹنگ لسٹ میں شامل ہونے اور انتظار کاکہا جاتا ہے جسے مذکورہ افراد تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ انہیں اب یہ معلوم نہیں ہورہا کہ وہ پرائیویٹ کمپنیوں کے ذریعے فارم جمع کریں یا نہیں کیونکہ انہیں کچھ پتہ ہی نہیں۔ عبدالقیوم کاکڑ کے مطابق بلوچستان کے مذہبی ، سیاسی اور قوم پرست جماعتوں و دیگرکے سینیٹرز نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس مسئلے پر قومی اسمبلی اور سینٹ میں آواز اٹھائیں گے اور صوبے کی عوام کی حق تلفی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ 86 ہزار افراد میں سے بلوچستان کے تمام فارم جمع کرنے والے افراد کی گنجائش بنتی ہے مگر ایسانہیں کیا جارہا اس لئے وہ اس کے خلاف وزارت مذہبی امور سے بھی بات کریں گے ۔ قیوم کاکر نے بتایا کہ وہ خود چیئرمین سینٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کو اس سلسلے میں خصوصی خطوط بھی ارسال کریں گے ۔