|

وقتِ اشاعت :   May 7 – 2017

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہاہے کہ پاکستان اور افغانستان کی دونوں حکومتوں کو اپنے تمام ترمسائل اور تنازعات کو باہمی مذاکرات سے حل کرنے چاہئیں اور دہشت گردوں کو اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں دیناچاہئے۔ انہوں نے چمن میں پیش آنے والے واقعہ اور انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اورافسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے واقعات کے روک تھام کے لیے دونوں ممالک کوباہم مل بیٹھ کرپرامن حل اور راستہ نکالنا ہوگا۔انہوں نے کہا بارڈر کی بندش سے نہ صرف پاک افغان تعلقات متاثر ہوں گے بلکہ دونوں جانب کے پختون تاجروں کو سخت مشکلات اور نقصان بھی پہنچ رہاہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کا امن ایک دوسرے کیساتھ جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گریٹ گیم کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان دونوں جانب کے پختونوں کا ہوا اور اب بھی پختون خطے کو تختہ مشق بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے پاک افغان کے مابین فائربندی کی روک تھام کے سلسلے میں اے این پی بلوچستان کے صدر اضغرخان اچکزئی کی حالیہ کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا دونوں ممالک میں امن کاقیام اے این پی کوباچاخان کی میراث میں ملا ہے اور اس ضمن میں اے این پی کی پالیسی واضح ہے جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزاکرات ہی تمام مسائل اور تنازعات کا واحد راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر کی کوشش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور تناؤ رہے تاکہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا پاکستان کی جانب سے حالیہ پارلیمانی کوششیں قابل تعریف ہیں اور اس عمل کوجاری رکھنا چاہیے کیوں کہ دونوں ممالک کے عوام امن چاہتے ہیں۔انہوں نے دونوں ممالک کے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ اپنے اپنے عوام کو جنگ وجدل کی پالیسی سے بچانا وقت کا تقاضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پختون گزشتہ چار عشروں سے بدامنی اور دہشت گردی کا شکار ہیں لہذا دونوں ممالک میں جاری کشیدگی کا مکمل خاتمہ کرنا ہوگا اور برادر ہمسایہ ممالک کی طرح اپنے تعلقات بحال کریں۔