اسلام آباد : سپریم کورٹ کی جانب سے نا اہل قرار دیئے جانے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف نے براستہ جی ٹی رائیونڈ لاہور کا رخ کر لیا، بدھ کو وزیراعظم عباسی سمیت کابینہ کے درجنوں ازراء نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو رخصت کیا، قافلہ پنجاب ہاؤس طے شدہ وقت سے تین گھنٹے تاخیر سے روانہ ہوا۔
سفر لاہور کے شرکاء کی تعداد ابتداء میں بہت ہی کم تھے، تاہم راولپنڈی پہنچنے کے بعد استقبال کرنے والوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کو پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کی طرف سے نا اہل قرار دیئے جانے کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وفاقی کابینہ کے ارکان، مسلم لیگی ارکان پارلیمنٹ اور کارکنوں نے انتہائی شاندار انداز میں لاہور کیلئے روانہ کر دیا،نواز شریف سینکڑوں گاڑیوں اور ہزاروں افراد پر مشتمل قافلے کی شکل میں انتہائی سخت سیکیورٹی میں کمانڈوز کے حصار میں بلٹ پروف گاڑی میں پنجاب ہاؤس سے روانہ ہوئے،نواز شریف کیلئے خصوصی طور پر بم پروف کنٹینر بنوایا گیا ۔
جو ریلی کے ساتھ چل رہا ہے،روانگی کے موقع پر 7بکروں کا صدقہ دیا گیا جبکہ سفر خیریت سے مکمل ہونے کیلئے خصوصی دعا بھی کرائی گئی، ریلی نے پنجاب ہاؤس سے فیض آباد تک 10منٹوں کا سفر10گھنٹوں میں طے کیا،نواز شریف کا قافلہ جوں جوں آگے بڑھ رہا ہے شرکاء کی تعداد میں مسلسل اضافے سے کارواں کی شکل اختیار کرتا چلا جا رہا ہے۔
بدھ کو سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نا اہلی ہونے کے بعد اپنے گھر لاہور کیلئے اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس سے انتہائی سخت سیکیورٹی میں روانہ ہوئے۔ سابق وزیر اعظم کی گاڑی کو چاروں اطراف سے پولیس و کمانڈوز نے اپنے حصار میں لے رکھا تھا جبکہ نواز شریف کی گاڑی کے آگے اور پیچھے جیمبرز والی گاڑیاں بھی موجود تھی، اس موقع پر سابق سینیٹر چوہدری جعفر اقبال نے دعا کرائی تا کہ یہ سفر خیریت سے مکمل ہو جبکہ نواز شریف کی روانگی سے قبل ہی 7بکروں کا صدقہ بھی دیا گیا۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وفاقی وزراء ، وزرائے مملکت، مسلم لیگی رہنماؤں اور کارکنوں کی موجودگی میں پنجاب ہاؤس سے روانہ کیا گیا۔ نواز شریف کے قافلے میں پنجاب ہاؤس سے200سے زائد گاڑیاں شامل ہوئیں جن میں مسلم لیگی وزراء، ارکان پارلیمنٹ، آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کی حکومتوں کے نمائندوں سمیت کارکنان کی بڑی تعداد شامل تھی۔
جب یہ قافلہ اسلام آباد کے ڈی چوک پر پہنچا تو وہاں سابق وزیراعظم کا پہلا استقبال کیا گیا، ہزاروں کی تعداد میں کارکنان ڈی چوک میں موجود تھے جبکہ اس قافلے میں بلٹ پروف کنٹینر جو خصوصی طور پر سفر لاہور کیلئے تیار کروایا گیاہے سب گاڑیوں سے آگے آگے تھا جبکہ قافلے کے آخر میں 30سے زائد ایمبولینس تھیں۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کے قافلے میں ڈی چوک میں گاڑیوں اور کارکنان کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گیا اور جناح ایونیو سے یہ سفر شروع ہوا۔ ریلی میں موجود لیگی کارکنان اور رہنما نعرے بازی کرتے رہے ، ڈی چوک اور جناح ایونیو کو نواز شریف کے حق میں تحریروں پر مبنی بینرز اور لیگی پرچموں سے سجایا گیا تھا، کارکنان نے نواز شریف کی گاڑی کو گھیرے میں لئے رکھا اور وہ مسلسل نواز شریف کے حق میں نعرے بازی کرتے رہے اور ڈھول کی تھاپ پر رقص بھی کرتے رہے۔
ڈی چوک سے فیصل ایونیو سے ہوتے ہوئے یہ قافلہ اسلام آباد ایکسپریس وے سے براستہ زیرو پوائنٹ فیض آباد پہنچا۔ ریلی کے شرکاء کا دوسرا استقبال زیروپوائنٹ جبکہ تیسرا استقبال فیض آباد کے مقام پر کیا گیا، ڈی چوک سے فیض آباد تک کا سفر 5گھنٹوں میں طے ہوا۔یہ ریلی فیض آباد سے مری روڈ پر چڑھی جہاں سے مریڑ چوک کچہری چوک سے ہوتے ہوئے جی ٹی روڈ پر چڑھے گی۔ مری روڈ پر پہنچتے ہی ریلی کے شرکاء کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو گیا، ریلی کے سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنانے کیلئے اسلام آباد اور راولپنڈی کے راستوں میں آنے والے کاروباری مراکز کو بند کرا دیا گیا تھا۔
وفاقی دارالحکومت کی حدود میں سیکیورٹی انتظامات وفاقی پولیس جبکہ راولپنڈی کی حدود میں سیکیورٹی انتظامات پنجاب پولیس کے ذمہ ہیں۔دریں اثناء سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ شاہد خاقان عباسی ہمارے شروع کردہ منصوبوں کی تکمیل اور حکومت کی مدت پوری ہونے تک وزیر اعظم ہی رہیں گے کوئی پاور شو نہیں کر رہا گھر بھیجا گیا ہے تو گھر جا رہا ہوں ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب ہاؤس میں لاہور روانگی سے قبل وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور لیگی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران کیا ۔ میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ شاہد خاقان عباسی حوکتم کی آئندہ مدت تک وزیر اعظم رہیں گے اور شہباز شریف بدستور وزیر اعلی پنجاب رہیں گے کیونکہ شہباز شریف پنجاب کی جان اور پاکستان کی شان ہیں شہباز شریف نے پنجاب کو رول ماڈل بنایا اور مزید بہت کچھ کرنا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی دیرینہ ساتھی اور دوست ہیں لیگی وزراء اور راہنما ان سے مکمل تعاون کریں ۔ اللہ ہمیں پاکستان کی ترقی اور عوام کی خدمت کی توفیق دے اور آپ سب رہنماؤں اور عوام کے لئے نیک خواہشات ہیں ۔
نواز شریف نے مزید کہا ہے کہ عوام نے مجھے منتخب کیا ہے اس لئے عوام کا شکریہ ادا کرنے کے لئے جا رہا ہوں کوئی پاور شو نہیں کر رہا ۔ ایک نیک مقصد کے لئے جا رہا ہوں سفر طویل ہے مگر خوشی ہے کہ اپنے گھر جا رہا ہوں انہوں نے کہا کہ بہت سے سوالات کا جواب ڈھونڈ رہا ہوں ۔مگر ابھی کہیں نہیں جا رہا سیاست میں ہی رہوں گا کیونکہ ہٹرک مکمل کرنی ہے اگر سیاست سے پیچھے ہٹ گیا تو لوگ سمجھیں گے میرے دل میں چور ہے ۔
نوازشریف کا سفر لاہورشروع،10منٹ کاراستہ 10گھنٹوں میں طے
![]()
وقتِ اشاعت : August 10 – 2017