|

وقتِ اشاعت :   October 16 – 2017

کراچی/کوئٹہ : بلوچ قوم متحد ہو کر اپنی سیاسی، قومی جمہوری جدوجہد کو تقویت دے سکتے ہیں وقت اور حالات تقاضا ہے کہ ہم کراچی سمیت بلوچستان کے نوجوانوں کو علم اور شعور ی جدوجہد کی جانب راغب کریں ۔

ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ نے پارٹی کراچی کے صدر حمید ساجنا بلوچ کی قیادت میں وفد نے ان سے ملاقات کی اس موقع پر وفد نے مشتاق احمد بلوچ اور نظام بلوچ ودیگر شامل تھے ۔

انہوں نے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کے بلوچ آج جس معاشی ومعاشرتی مشکلات کا شکار ہے اس کیلئے ضروری ہے کہ یہاں پر بلوچستان نیشنل پارٹی کو فعال ومتحرک بنایا جائے کیونکہ پارٹی سمجھتی ہے کہ سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں کراچی تا ڈی جی خان، راجن پور اور خان گڑھ تک بلوچستان نیشنل پارٹی کو ایک سیسہ پلائی دیوار بنا کر بلوچوں کو استحصال کا نشانہ بنایا گیا ۔

اس کے خلاف اب تک ہی کامیابی سے ہمکنار ہو نگے علم وآگاہی شعور اور قومی جدوجہد کو تقویت دینگے اکیسویں صدی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ بلوچ عوام جہاں بھی ہوں بی این پی کو نجات دھندہ سیاسی قوت تصور کریں ہمارے سامنے بلوچ عوام کو منظم اور متحرک کر نا اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔

انہوں نے کہا ہے کہ آج تاریخی حوالے سے کراچی مائی کلاچی کی سر زمین ہے لیکن آج یہاں کے بلوچ معاشی، معاشرتی، بدحالی اور پسماندگی دیگر سماجی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں یہاں کے بلوچوں کو چاہئے کہ وہ بلوچ قومی جہد کے ساتھ وابستہ اور بی این پی کے فلیٹ فارم پر سے اپنے حقوق کے جمہوری طریقے سے جدوجہد کو پروان چڑھائے ۔

انہوں نے کہا ہے کہ بی این پی ہی بلوچوں کے قومی تشخص تاریخ، تہذیب وتمدن اور اجتماعی حقوق کی حصول کیلئے جدوجہد کر رہی ہے پارٹی نے بلوچوں کو متحد ومنظم کرنے کے لئے ماضی بھی بے شمار قربانیاں دی ہیں اور اب بھی ہماری جدوجہد اسی طرح مثبت انداز میں جاری رہے گی ۔