اسلام آباد: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ فوج دارالحکومت میں سرکاری تنصیبات کی حفاظت پر مامور رہے گی تاہم دھرنے کیخلاف آپریشن میں حصہ نہیں لے گی۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت وزیر اعظم ہاؤس میں مشاورتی اجلاس ہوا جس میں وزیر داخلہ احسن اقبال، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں طے پایا کہ آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو طلب کیا گیا ہے اور آرمی سرکاری تنصیبات کی حفاظت کے لیے موجود رہے گی تاہم اس کا دھرنے کے خلاف آپریشن سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
اجلاس کے شرکا نے زور دیا کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کی ذمہ داری پولیس اور سول سیکورٹی اداروں کی ہے، انتظامیہ اور ضلعی پولیس کا کام ہے کہ وہ دھرنے والوں سے مذاکرات کریں اور مظاہرین کو پرامن طریقے سے منتشر کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے وزیراعظم اور شرکا کو دھرنا مظاہرین کے خلاف کارروائی، گرفتاریوں اور ملکی داخلی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ بھی دی۔
اجلاس میں ملکی مجموعی سلامتی صورتحال پر بات کی گئی اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ملک میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بات کی جائے گی۔
دھرنے کے خاتمے کے لیے مختلف آپشنز اور عدالتی احکامات پر بھی مشاورت کی جارہی ہے۔
اس کے علاوہ اجلاس میں آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو طلب کرنے سے متعلق صورتحال پر بھی غور جاری ہے۔ واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ متحدہ عرب امارات کا دورہ مختصر کر کے وطن پہنچے ہیں۔