|

وقتِ اشاعت :   December 1 – 2017

پشاور کی زرعی ڈائریکٹریٹ کے ہاسٹل پر دہشت گردوں کے حملے میں 9 افراد ہلاک، 35 زخمی ہوگئے۔

حملے کے فوری بعد پاک فوج، فرنٹیئر کورپس (ایف سی) اور پولیس اہلکاروں نے علاقے کا محاصرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کردیا تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے پشاور کی زرعی یونیورسٹی کے سامنے ڈائریکٹوریٹ جنرل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر کی عمارت پر حملہ کیا جس کے بعد پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچی اور دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق حملے میں ملوث تینوں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے جبکہ ڈائریکٹریٹ میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران ان کے دو فوجی جوان بھی زخمی ہوئے تھے جنہیں سی ایم ایچ ہسپتال پشاور منتقل کردیا گیا۔

 رپورٹ کے مطابق 3 سے 4 برقع میں ملبوس دہشت گرد زرعی ڈائریکٹریٹ میں داخل ہوئے تھے جبکہ بتایا گیا کہ حملہ آور پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے۔

حملے کے فوری بعد پشاور کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی، تاہم ہسپتال ذرائع کے مطابق 2 ایف سی، 1 پولیس اہلکار، 7 طلبہ اور ایک مقامی صحافی کو خیبر ٹیچنگ ہسپتال لایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ذرعی ڈائریکٹوریٹ پر حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے قبول کرلی گئی ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے پشاور کے یونیورسٹی روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے جبکہ علاقے کی فضائی نگرانی بھی کی جارہی ہے۔

نوٹ: یہ ابتدائی خبر ہے جس میں تفصیلات شامل کی جا رہی ہیں۔ بعض اوقات میڈیا کو ملنے والی ابتدائی معلومات درست نہیں ہوتی ہیں۔ لہٰذا ہماری کوشش ہے کہ ہم متعلقہ اداروں، حکام اور اپنے رپورٹرز سے بات کرکے باوثوق معلومات آپ تک پہنچائیں۔