|

وقتِ اشاعت :   December 3 – 2017

کوئٹہ: پاکستان مسلم لیگ (ن )کے سربراہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ احتساب کے نام پر انتقام لیا جارہا ہے ،صادق و امین کا فیصلہ وہ کررہے ہیں جنہوں نے آمروں سے حلف لیا،ملک میں اندھیرے پھیلا کر جانے والوں کو کسی نے آج تک نہیں پوچھا، جب مائنس ون کے لئے کوئی بہانہ نہ ملا تو بیٹے سے تنخواہ کے بہانے پر فارغ کردیا، ملک ایسے ہی فیصلوں سے برباد ہوجاتے ہیں۔

وہ کیا مائنس ون ہوگا جسے عوام پلس کردیں، اب ملک میں 70 سال سے جاری مائنس پلس کے کھیل کو ختم کرنا ہوگا۔عوام کو 2018 میں حتمی فیصلہ کرنا ہوگا،ایسا فیصلہ جسے پھر سوائے عوام کے کوئی تبدیل نہیں کرسکے، نہ کوئی پانچ بندے تبدیل کرسکیں، نہ مارشل لا، نہ کوئی آمر اور نہ کسی اور طریقے سے تبدیلی کی جاسکے، پاکستان میں آئین و قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں اورووٹ کے تقدس کو بحال کریں۔

پنجاب اور بلوچستان کیا خیبرپختونخوا اور سندھ بھی ہمارے ساتھ ہیں اور 2018 کے الیکشن میں ناچنے گانے والے فارغ ہوجائیں گے۔خیبرپختونخوا نیا پاکستان کیا بنتا وہ تو پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوگیا، کرکٹر خان لاہور میں بننے والی میٹرو بس کو جنگلہ بس کہتا تھامگر اب خود پشاور میں میٹرو بس بنارہا ہے لیکن پانچ سال پورے ہونے کو ہے لیکن ان سے بن نہیں پارہی ، ہم نے لاہور کے بعد اسلام آباد، ملتان اور راولپنڈی میں بھی میٹرو بس بنادی اور دوبارہ موقع ملا تو کوئٹہ میں بھی بنائیں گے۔ 

پشتونخوا میپ اور مسلم لیگ (ن) نظریاتی رشتے میں منسلک ہیں۔نواز شریف نے ان خیالات کا اظہار کوئٹہ کے ایوب اسٹیڈیم فٹبال گراؤنڈ میں پشتونخواملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام پارٹی کے بانی عبدالصمد خان اچکزئی کی44ویں برسی کی مناسبت سے منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ 

جلسے سے پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی، مسلم لیگ ن بلوچستان کے صدر نواب ثناء اللہ زہری نے بھی خطاب کیا۔جلسے میں مسلم لیگ ن کے رہنماء پرویز رشید، آصف کرمانی کے علاوہ مسلم لیگ ن کے مرکزی و صوبائی قائدین، پشتونخواملی می عوامی پارٹی کے رہنماؤں سمیت دونوں جماعتوں کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ 

اپنے خطاب سے قبل میاں نواز شریف نے ڈائس سے بلٹ پروف شیشے ہٹاتے ہوئے کہا کہ ہمارے اور عوام کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے ، عوام سے ہمارا بڑا مضبوط رشتہ ہے ،سیکورٹی اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی اور مسلم لیگ ن ہم سب ایک ہیں۔ محمود خان اچکزئی،نواز شریف، نواب ثناء اللہ زہری ہم سب ایک ہیں۔ میری محمود خان اچکزئی کیساتھ نظریاتی وابستگی اور تعلق ہے ۔ مسلم لیگ ن اور پشتونخواملی عوامی پارٹی ایک نظریاتی رشتے میں منسلک ہیں ۔نظریہ مجھے ہمیشہ عزیز رہا ہے۔ 

نظریہ میں کبھی نہیں چھوڑتا اور نہ کبھی چھوڑوں گا۔میری ساری سیاست انشاء اللہ اسی نظریے پر چلے گی ۔ محمود خان اچکزئی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے عبدالصمد خان اچکزئی کی برسی پر مجھے دعوت دی ۔ عبدالصمد خان اچکزئی شہید کی بڑی قربانیاں ہیں۔

انہوں نے جام شہادت نوش کیا،زندگی کے چوبیس سال جیلوں میں گزارے ۔ یہ ساری قربانیاں انہوں نے نظریے کیلئے دیں لیکن پاکستانیت، آئین اور قانون کی حکمرانی پر سمجھوتہ نہیں کیا،اپنے اصولوں پر کھڑے رہے اور سزائیں بھگتیں اس لئے آج نہ صرف پاکستان بلکہ پورے برصغیر میں ان کا نام گونجتا ہے۔ 

اس وقت بھی عبدالصمد خان اچکزئی پاکستان کی ترقی کی بات کرتے تھے انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ میں افغانستان گیا وہاں بہترین سڑکیں تھیں کاش کہ پاکستان کے اندر اس طرح کی سڑکیں ہوں۔ محمود خان اچکزئی صاحب! ہم نے ان کے نظریے پر الحمداللہ عمل کرکے دکھایا ہے۔ 

آج افغانستان سے بھی اچھی سڑکیں اور موٹرویز بلوچستان میں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ترقی کریں اور افغانستان بھی ترقی کریں،یہ خطہ بھی ترقی کریں اور ہم سب بھائیوں کی طرح اس خطے کے عوام کی خدمت کیلئے کام کریں۔ مجھے خوشی ہے کہ آج محمود خان اچکزئی اپنے والد کے مشن کی پیروی کررہے ہیں۔

انشاء اللہ وہ نواز شریف کو اپنے ہر قدم پر شانہ بشانہ پائیں گے۔ ہم ہر قدم پر ہاتھ سے ہاتھ ملاکر آگے بڑھیں گے اور پاکستان میں آئین و قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں گے ۔یہ میرا محمود خان اچکزئی کے ساتھ وعدہ ہے اورآج اپنے اس وعدے اور عہد کی تجدید کرتا ہوں۔ کوئٹہ آکر بہت خوشی محسوس ہوتی ہے کوئٹہ اور بلوچستان کے لوگوں کی محبت، پیار اور خلوص اور بہادری کا میں بڑا قائل ہے۔ 

بلوچستان کے غیور عوام نے ہمیشہ بہادری کا ثبوت دیا ۔ نواز شریف نے جلسے کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستان کے بھی رکھوالے ہیں۔ آئین کی پاسداری اور قانون کی حکمرانی آپ کے دلے میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اس لئے مجھے آپ سے بہت پیار ہے۔

آپ نے ہمیشہ آمریت کا مقابلہ کیا ہے اور مجھے اس کا اعتراف ہے۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ سچے اور کھرے لوگ ہیں اور ہر آزمائش ، مشکل اور امتحان پر پورے اترے ہیں۔ بلوچستان کے عوام نے کبھی پاکستان کا پرچم جھکنے نہیں دیا۔ ہمیں آپ پر فخر ہے اس لئے آپ کو محبت اور خلوص کا سلام پیش کرنے کوئٹہ آیا ہوں۔ آپ نے ہمیشہ نفرتوں کی آگ بھڑکانے والوں کا مقابلہ کیا ،ان کے منصوبوں کو ناکام بنایا۔ دہشتگردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ 

میں آج آپ کی غیرت مندی اور بہادری کا قائل ہوکر سلام پیش کرنے آیا ہوں۔ سابق وزیراعظم نے کہ اکہ بلوچستان میں گزشتہ چار سالوں سے ترقی ہورہی ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بلوچستان میں سڑکیں اور موٹرویز بن گئی ہیں۔ آج سے چار سال پہلے کا منظر لوگوں کو یاد ہے جب بلوچستان میں کچھ بھی نہیں ہوتا تھا اورکوئی ترقی کے آثار نہیں تھے ۔ آج بلوچستان میں مثالی ترقی ہورہی ہے۔

گوادر سے کوئٹہ تک سڑک بن گئی ہے ،آج کوئٹہ اسلام آباد سے ملنے جارہا ہے۔ کوئٹہ ، ژوب، ڈیرہ اسماعیل خان برہان موٹروے پر بہت جلد کام مکمل ہوگاجس کے بعد کوئٹہ سے اسلام آباد کا سفر آٹھ گھنٹوں میں طے ہوسکے گا۔ کوئٹہ قلعہ سیف اللہ لورالائی تا ڈیرہ غازی خان سڑک اورخضدار رتو ڈیروشاہراہ کی تکمیل بھی جلد ہوگی۔ 

ان شاہراہوں ے ذریعے سے ہم بلوچستان کو ایک طرف سندھ، پنجاب، خیبر پشتونخوا سے ملارہے ہیں۔ دوسری طرف خنجراب سے چینی سرحد اور گوادر کے ذریعے بلوچستان کو باقی دنیا سے جوڑ رہے ہیں۔ یہ ہمارا وژن ہے جس پر ہم نے عمل کرکے دکھایا ہے۔ 

یہ زبانی جمع خرچ نہیں ہے یہ ہم عملی کام کرکے دکھارہے ہیں ۔چند سالوں میں کوئٹہ پوری دنیا کے ساتھ ملے گا۔ بلوچستان آپس میں اور باقی صوبوں سے بھی مل رہا ہے ۔بلوچستان پاکستان کا حب اورترقی کا مرکز ہوگا۔ گوادر ترقی کی شاہراہ پر بہت اہم شہر ہوگا۔ بلوچستان کی ترقی کے حوالے سے ہم پچھلی تمام کسر نکال رہے ہیں ۔

آج ہم مشنری جذبے کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ پاکستان میں آئین و قانون کی حکمرانی قائم ہوجائے گی پھر ترقی انشاء اللہ سالوں میں نہیں مہینوں ،ہفتوں اور گھنٹوں میں ہوا کرے گی۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ2013ء میں جب ہم نے حکومت سنبھالی تو پاکستان میں بیس بیس گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی، فیکٹریاں اورکاشتکاروں کے ٹیوب ویل سمیت سب کچھ بند تھا۔ 

اندھیرے ہی اندھیرے تھے۔ آج تک کسی نے ان سے پوچھا جنہوں نے پاکستان میں تاریک اندھیرے پیدا کردیئے تھے اور پھر ہمارے لئے یہ کام چھوڑگئے۔ چار سال پہلے ہر طرف احتجاج ہوتا تھا۔لوگ سڑکوں پر آکر ٹائر جلاکر لوڈ شیڈنگ کا رونا روتے تھے ۔کبھی ان کا بھی احتساب تو لو۔ میرا تو احتساب کرتے ہواور احتساب کے نام پر انتقال لیتے ہو۔ 

اللہ کے فضل و کرم سے ان چار سالوں میں بدعنوانی کا کوئی اسکینڈل سامنے نہیں آیا۔ ہم کسی بد عنوانی کے مرتکب نہیں ہوئے۔ ایک پیسے کی کرپشن نہیں کی۔لیکن اس لئے نکال دیا کہ نواز شریف نے ملکی پیسہ تو نہیں کھایا لیکن اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہیں لی۔ اس موقع پر شیم شیم کے نعرے لگے تو نواز شریف نے کہا کہ سب لوگ شیم شیم کررہے ہیں۔ 

یہ کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم کو نکالنے کا یہ بھی کوئی فیصلہ تھا ۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ مجھے نکالا گیا کہ اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہیں لی لہٰذا نواز شریف صادق اور آمین نہیں ہوسکتا ۔صادق اور آمین کا فیصلہ کون دے رہے ہیں جو ہمیشہ آمرسے حلف لیتے رہے ہیں اور جو پی سی او کے تحت حلف لیتے رہے ہیں وہ مجھے کہتے ہیں کہ تم صادق اور امین نہیں ہو۔ لوگوں کی سمجھ میں یہ بات اچھی طرح آتی ہے۔ 


انہوں نے کہا کہ آج کوئٹہ کے عوام بھی اعلان کررہی ہے کہ ہمیں یہ فیصلہ قبول نہیں۔ پہلے ایبٹ آباد والوں نے فیصلہ دیا تھا آج کوئٹہ اوربلوچستان کے عوام نے بھی اس جلسے کے ذریعے فیصلہ دیدیا ہے۔عوام کو نواز شریف کی بے دخلی کا فیصلہ منظور نہیں ۔ملک کیلئے آپ نے کیا فیصلہ کیا ؟، کس طرح سے آپ نے ملک میں چھ بہترین ہیرے چن کر تلاش کئے ۔ 

ان ہیروں کی جے آئی ٹی بنائی اور کس طرح ایک ہی بنچ نے بار بار فیصلے کئے۔ کبھی دو کبھی تین اور کبھی پانچ ججوں نے۔ شاید ہی پاکستان کی تاریخ میں ایسا فیصلہ کبھی ہوا ہو۔ کبھی نہیں ہوا۔ایک پیسے کی کرپشن کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ ثبوت تو دور کی بات ،کوئی سرکاری پیسہ کے خورد بردکا الزام تک نہیں۔ 

اگر فیصلہ دیتے تواس بات پر دیتے کہ نواز شریف نے پانچ ہزار روپے سرکاری روپیہ کھایا ہے۔ ایک ہزار روپیہ کھایا ہے تو میں میں سرتسلیم خم کرتا اور گھر چلا جاتا۔ لیکن پیسہ نہیں کھایا تو تم کیسے ایک وزیراعظم کو بے دخل کرسکتے ۔ جب مائنس ون کیلئے کوئی بہانہ نہیں ملا تو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر آپ نے ایک وزیراعظم کو فارغ کردیا۔ ملک ہمیشہ اسی طرح کے فیصلوں سے برباد ہوتے ہیں۔

ایسے ہی فیصلے انتشار اور افرا تفری پیدا کرتے ہیں اور منزل دور چلی جاتی ہے۔مائنس ون کا یہ سلسلہ چلانا چاہتے ہیں ۔وہ کیا مائنس ون ہوگا جسے عوام پلس کریں۔جسے عوام پلس کردیں وہ مائنس نہیں ہوسکتا، یہ کوئی نہیں مانے گا۔ 


سابق وزیراعظم نے کہا کہ گیس ابھی گلستان (محمود خان اچکزئی کا آبائی علاقہ )پہنچی تھی کہ نواز شریف کو نکال دیاگیا۔ انشاء اللہ ہم چمن تک ہر قیمت پر گیس پہنچا کر دم لیں گے۔ہم نے بلوچستان کی خدمت کی ہے۔ برسوں سے تاخیر کے شکار کچھی کینال کو مکمل کیا جس سے ستر ہزار ایکڑ زمین سیراب ہورہی ہے۔ 

کچھی کینال کا دوسرے مرحلہ بھی جلد شروع کرینگے جس سے بلوچستان کی ایک لاکھ چالیس ہزار ایکڑ اراضی سیراب ہوگی۔ہم بلوچستان کے اندر وہ ترقی کرکے جائیں گے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملے گی ۔عنقریب 2018ء میں عوام اپنا فیصلہ سنائے گی اورانشاء اللہ پاکستان کی عوام ہمیں سرخرو کرے گی۔ 

کوئٹہ کی عوام سے میرا ،محمود خان اچکزئی اور ثناء اللہ زہری کا آپ سے وعدہ ہے ہمیں دوبارہ موقع ملے گا توکوئٹہ کو مثالی شہر بنے گا جو کسی طور پر بھی کراچی، لاہور، اسلام آباد یا پشاور سے کم نہیں ہوگا۔پشاور کا نام تو میں نے ویسے ہی نام لے لیا کیونکہ پشاور توپہلے سے بھی خراب ہوگیا ہے وہاں نیا پاکستان بن رہا تھا ۔ 

وہ جوکرکٹر ہے نااس نے کہا تھا کہ لاہور میں شہباز شریف نے جنگلہ بس بنائی ہے اور اب وہی کرکٹر خان جنگلہ بس بنانے کی کوشش کررہا ہے اور وہ بن نہیں رہی ۔ چھ مہینے بعد پانچ سال ہونے والے ہیں لیکن ان سے پشاور میں میٹرو بس نہیں بن سکی۔ شہباز شریف نے لاہور کے بعد ملتان اور راولپنڈی میں بھی میٹرو بس بنادی ۔

ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں ہمیں موقع ملے گا توہم کوئٹہ کے اندر میٹرو بس بنائیں گے۔ کوئٹہ میں مثالی ترقی ہوگی۔نواز شریف نے کہا کہ اب پاکستان میں بجلی کی پیداوار ضرورت سے زیادہ ہوتی جارہی ہے۔ ضرورت پیچھے رہ گئی ہے بجلی آگے بڑھ رہی ہے اب انشاء اللہ وہ وقت قریب ہے جب صفر لوڈ شیڈنگ ہوگی۔ ترقی یہ ہوتی ہے ۔ دہشتگردی کو ہم نے ختم کیا ۔ چار سال پہلے کا میڈیا دیکھیں کہ ملک کا کیا حشر تھا۔ 

ہم نے اس معاملے کو ٹھیک کیا۔اللہ کا شکر ہے کراچی کے حالات کو درست کیا ۔ بلوچستان اور پورے ملک میں موٹرویز بن رہی ہیں اور مکمل ہورہی ہیں ۔اب ضرورت اس بات کی ہے جسے عوام پلس کریں اسے کوئی مائنس نہ کرسکیں اور حکومتیں ووٹ سے آئیں اور حکومتیں ووٹ سے ہی جائیں ۔ کوئی حکومت کو فارغ نہ کرسکے۔ کروڑوں عوام ایک وزیراعظم کو ووٹ دیتے ہیں۔ 

پانچ لوگ اس وزیراعظم کو فارغ کردیتے ہیں کیا یہ سب کچھ آپ کو منظور ہے۔ یہ عوام کو ہر گز قبول نہیں۔ یہ مائنس پلس کا کھیل بڑا ہوچکا ۔ ستر سال سے یہ مائنس پلس کا کھیل چل رہا ہے۔ اب عوام کو2018ء میں حتمی فیصلہ کرنا ہوگا کہ جسے پھر کوئی تبدیل نہ کرسکیں۔

کوئی پانچ بندے ،کوئی مارشل لاء اورنہ ہی کوئی آمر اس فیصلے کو تبدیل کرسکے۔عوام کے بغیر کسی اور طریقے سے تبدیلی نہ ہوسکے۔پاکستان میں قانون ،آئین کی حکمرانی کو یقینی بنائیں ، ووٹ کے تقدس کو بحال کریں۔سابق وزیراعظم نے جلسے کے شرکاء سے پوچھا کہاکہ آپ ووٹ کے تقدس کی بحالی میں آپ نواز شریف اور محمود خان اچکزئی کا ساتھ دینگے۔ 

اسلام آباد سے لاہور تک مارچ کیا پورے علاقے نے ووٹ کے تقدس کے حق میں ووٹ دیا۔ ایبٹ آباد کے بعد آج کوئٹہ کے عوام نے بھی ووٹ کے تقدس کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ اگر یہ سب لوگ ہمارے ساتھ ہیں توپاکستان کے عوام بھی ساتھ ہیں۔ بلوچستان کے عوام جس کے ساتھ ہوتے ہیں تو پاکستان کے عوام بھی ساتھ ہوتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ آج پنجاب بھی بلوچستان کے ساتھ اآواز میں آواز ملارہا ہے۔ پنجاب اورخیبر پشتونخوا بھی آپ کے ساتھ ہیں۔ یہ ناچنے اور گانے والے2018ء میں فارغ ہوجائیں گے اور سندھ بھی انشاء اللہ آپ کے ساتھ ہوگا۔ 
ساتھ ملکر پوری قوم قانون کی حکمرانی کیلئے مارچ کرے گی ۔نواز شریف نے جلسے کے شرکاء سے کہا کہ قانون کی حکمرانی کیلئے پھر میں آپ کے پاس کوئٹہ آؤنگا۔ آپ نے ووٹ کے تقدس کیلئے ساتھ دینا ہوگا تاکہ اس ملک میں پچھلے ستر سالہ تاریخ کو دوبارہ دوہرایا نہ جائے۔ اس کیلئے کوئٹہ کے عوام بتائیں آپ ہمارا ساتھ دینگے۔ 

اس موقع پر عوام نے اثبات میں نعروں کا جواب دیا۔ عوام کے نعروں کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ عوام ساتھ ہیں تو پھر سب ٹھیک ہے دریں اثناء پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہاہے کہ بتایاجائے کہ کیا پاکستان اداروں کیلئے ہے یا ادارے پاکستان کیلئے ؟ 

ہم ڈکٹیٹر چاہے فوجی ہو یا جج یا پھر کوئی اور کو تسلیم نہیں کرتے ،آئی جی آئی کے جلوس میں شامل نوازشریف کااستقبال کالی جھنڈیوں سے کیا تھا لیکن اب جب وہ قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی استحکام اور عوام کے ووٹ کے تقدس کیلئے میدان عمل میں نکلے ہیں تو اس کا ساتھ دے رہے ہیں جمہوری پاکستان کیلئے جدوجہد کرنے والے میاں نوازشریف کا ساتھ نہ دینے والے پشتون بے غیرت ہے ۔

ہر اس فوجی ،جرنلسٹ ،سیاست دان اور جج کو سلام پیش کرتاہوں جو آئین کی پاسداری کرتے ہیں ،آئین پاکستان کو نہ ماننے والوں کو کسی صورت تسلیم نہیں کرتے ،میاں محمدنوازشریف ملک میں جمہوری محاذ بنانے کیلئے کرداراداکرے ،پاکستان 20کروڑعوام کی رہنے کی جگہ ہے اس میں کوئی آقا اور غلام نہیں ،سیاسی عالم لکھتے ہیں کہ یہ صدی بحر ہند کی صدی ہے ۔

اس لئے پاکستان ،چین ،بھارت ،ایران ،افغانستان ،بنگلہ دیش ،برما ،جاپان اور دیگر کے ساتھ ایسا الائنس بنائیں جس سے نہ صرف خطے میں امن ہو بلکہ ہم سب تیزرفتار ترقی کی منازل طے کرسکیں ۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے کوئٹہ کے ایوب اسٹیڈیم میں پشتونخواملی عوامی پارٹی کے بانی خان عبدالصمد خان شہید کی 44ویں برسی کے موقع پر منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیاجلسہ عام سے پشتونخوامیپ کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے اپنے والد خان صمد خان شہید کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔

انہوں نے کہاکہ صدائے حق بلند کرنے کی پاداش میں انہیں انگریز دور میں پابند سلاسل رکھا گیا بلکہ 1947ء سے 1968ء وہ صرف 2سال تک وقفے وقفے سے آزاد رہے ہیں ،انہوں نے میاں محمدنوازشریف اور وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کی جانب سے بھی جلسے میں شریک لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور کہاکہ میاں محمدنوازشریف ایسے میں بلوچستان کے شہر کوئٹہ آئے ہیں جب لوگ انہیں زیر عتاب سمجھتے ہیں ۔

بلوچ پشتون عوام نے ان کا پرتپاک استقبال کرکے ہمارا سر فخر سے بلند کردیاہے ،انہوں نے کہاکہ اس وقت پاکستان بدترین بحرانی کیفیت سے دوچارہیں جو 70سال سے جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کی چپقلش کے باعث پیداہوئی ہے ،ہمارا مقصد لوگوں کی سبکی کرنا نہیں پاکستان 20کروڑ عوام کا ملک ہے ۔

اس میں کوئی آقا اور غلام نہیں یہ ایک آزاد اور لوگوں کی مرضی کے مطابق وجود میں آنے والا فیڈریشن ہے جو ہم سب کا مشترکہ گھر ہے یہاں پشتون بلوچ ،پنجابی ،سندھی ،سرائیکی اپنی اپنی سرزمین پر آباد ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ میرے والد خان عبدالصمد خان شہید نے 1947ء سے 1968ء تک صرف 2سال آزاد گزارے وہ بھی قسطوں میں جبکہ ان کی باقی زندگی جیل کی نظر ہوگئی ہم اس کا کسی سے گلہ نہیں کرتے کیونکہ حق کی خاطر آواز بلند کرنے والوں کو قربانی کیلئے تیار رہناپڑتاہے ۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان سمیت دنیا بھر میں آباد بلوچ پشتون کا رشتہ ماموں اور بھانجے کا ہے ہم ایک دوسرے کو ماما ما ما کہہ کرپکارتے ہیں کسی کی بھی ان برادر اقوام کو لڑانے کی خواہش قطعاََ پوری نہیں ہوسکتی ہمارے بیچ اختلاف ضرورہے تاہم ان کا حل ہم بھائیوں کی طرح نکالیں گے ،انہوں نے کہاکہ آئین ایک کاغذ کاٹکڑا نہیں بلکہ یہ پاکستان کے اقوام کے درمیان ایک معاہدہ ہے ۔

دنیا میں کوئی ملک عوام کے بغیرترقی کرسکتاہے نہ ہی وہاں کوئی حکمرانی کرنے کا اہل قرار پاتاہے دنیا میں ممالک عوام کیلئے ہی ہوا کرتے ہیں ہمیں بتایاجائے کہ پاکستان اداروں کیلئے ہے یا ادارے پاکستان کیلئے یہ 20کروڑ عوام کا ملک ہے جہاں انہی کے ہی فیصلے چلیں گے ،محمود خان اچکزئی کاکہناتھا کہ ہم خدانخواستہ افواج پاکستان کی طرف انگشت نمائی نہیں کرتے لیکن ڈکٹیٹر چاہے جس بھی صورت میں ہو اس سے تسلیم بھی نہیں کرتے چاہے وہ فوجی ہو یا پھر کوئی جج ۔

انہوں نے میاں محمدنوازشریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میاں صاحب لوگوں نے آپ کو کوئٹہ آنے کی دعوت پر ہمیں طعنے دئیے ،جب آئی جی آئی کاجلسوس یہاں گزررہاتھا تو اس میں نواب اکبر بگٹی سمیت مختلف جماعتوں کے ساتھی تھے لیکن آپ کو یاد ہوگاکہ پشتونخوامیپ نے کالی جھنڈیوں سے آپ کا استقبال کیاتھا ۔

اس وقت میاں نوازشریف ملک کے بڑے اور پنجاب کے ہر دل عزیز لیڈر ہے اور وہ آئین وقانون کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے نکلے ہیں اس لئے ہم ان کا ساتھ دے رہے ہیں اور ان کا نہیں کہتا جو پشتون اس جدوجہد میں اس کا ساتھ نہیں دیتا وہ بے غیرت ہے ہم آئین کیلئے نہ صرف پہلے لڑے ہیں بلکہ اب بھی اس جدوجہد میں شامل ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ میاں صاحب نواب نوروز خان اورا ن کے سات بچوں کو قرآن کا واسطہ دیکر کر پہاڑ سے اتارا گیا اورپھر تختہ دار پر لٹکایاگیا اس کا نواسا آج بھی آپ کے ساتھ اسٹیٹ پر بیٹھا ہے میرے والد کو 20سے 22سال تک پابند سلاسل رکھا گیا کوئی بھی شخص قید کو پسند نہیں کرتا ۔

انہوں نے کہاکہ چنگیز مری کے والد کو ضعیف العمری میں پابند سلاسل رکھا گیا بلکہ اکبر بگٹی کو بھی ماردیاگیا ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ اختلافات ضرور سہی لیکن جب ملک ٹوٹا اور ملک شدید بحرانی کیفیت سے دو چار تھا تو اس وقت اس ملک کو سہارا بھی انہوں نے دیا لیکن اس سے تختہ دار پرلٹکادیاگیا میں نے انہی دنوں کہا تھاکہ بھٹو زندہ رہا تو ہم اس سے نمٹ سکتے ہیں اور اگر اس سے پھانسی دی گئی تو امر ہوگا ،آج وہ امر ہوگیاہے ۔

انہوں نے کہاکہ جھالاوان کے لوگ ،مینگل ،مری ،زہری ،پشتون تمام انگریز سامراج کے خلاف لڑے آخر ہمیں کس وفاداری کی سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہے ،انہوں نے کہاکہ میرے والد نے لاہور ہائی کورٹ کے سامنے اپنا بیان قلم بند کروایاہے جس سے بڑھ کر ہر کوئی اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ ان کے عزائم کیا تھے محمود خان اچکزئی نے اپنے والد کا لاہور ہائیکورٹ کے سامنے ریکارڈ بیان بھی پڑھ کرسنایا ۔

محمود خان اچکزئی کاکہناتھاکہ پاکستان نے جمہوریت اور آئین کی حکمرانی اور اقوام کی آئین کے تحت حقوق تسلیم کرکے عوام کو طاقت کا سرچشمہ قراردیاجائے تو ہم بغیر کسی شرط کے میاں نوازشریف سمیت ہرکسی کا ساتھ دینگے ۔

انہوں نے کہاکہ میں خیبربخش مری کے صاحب زادوں عطاء اللہ مینگل اور دیگر سب کے پاس خود جاؤنگا انہوں نے کہاکہ ہمیں بتایاجائے کہ سی پیک کیسا بنے گا کوئی بنجارا بھی اس گاؤں کا رخ نہیں کرتا جس سے وہاں پتھر پڑتے ہو ہمیں اپنی ساورنٹی کیلئے حالات کاادراک کرناہوگا مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث آج ترکی ،سعودی عرب سب مشکل سے دوچارہے ۔

انہوں نے کہاکہ چین بھارت پاکستان افغانستان اور دیگر ممالک کے درمیان اختلافات ہے اگر وہ ایک دوسرے کے خلاف فوجیں اتار یں تو تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوگا،انہوں نے کہاکہ ہم سب چاہے فوجی ہو جج ہو سیاستدان ہو یا پھر جرنلسٹ نے آئین کی وفاداری کا حلف لیاہے آئیں اس آئین کی پاسداری کرے خدارا آئین کے معاہدے کو نہ چھیڑو ۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان کی آبادی صبح پنجاب کے ایک ضلع کی برابر ہے اور یہاں قدرتی وسائل اربوں ،کھربوں ڈالر کے موجود ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ یہاں کا مقامی باشندہ 3جوڑے کپڑوں کی استطاعت نہیں رکھتا ۔

انہوں نے کہاکہ 1960 کی دہائی میں بلوچستان سے سوئی گیس برآمد ہوئی لیکن سچ یہ ہے کہ آج بھی ڈیرہ بگٹی اور مری کے خواتین خس وخاشاک سے آگ جلاتی ہے محکوم قوموں کو ان کے ساحل اور وسائل پر آئینی گارنٹی دی جائے پاکستان ایک بہترین ملک بن جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ ایک بھائی کو چاقو دینے سے انکار کیاجاتاہے تود وسرے کو 30کلاشنکوفوں کو راہداری دیکر ہرقسم کی آزادی دی جاتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ میرے دوست کینیڈین مولوی نے پیپلزپارٹی کے دور میں ملک کے اعصابی نظام ریڈزون میں آکر دھرنا دیا بلکہ دوسرے نے بھی 126دن تک اسی عمل کو دہرایا ہم کسی کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ ہمیں فیل ریاست کی طرف لے جائیں ۔

انہوں نے کہاکہ اسٹیٹ کی طاقت کو عام لوگوں کے سامنے سرنڈر کرنا درست نہیں محمود خان اچکزئی کاکہناتھاکہ ایسا جمہوری پاکستان جس میں داخلہ اورخارجہ پالیسی سازی کااختیار پارلیمنٹ کے ہاتھ ہو اور آئین کے تحت تمام اداروں کے دائرہ کار معلوم ہو کیلئے ہم ہر وقت میاں نوازشریف کا ساتھ دینگے بلکہ جمہوری پاکستان تا قیامت زندہ باد کہیں گے اور غیر جمہوری پاکستان کو زندہ باد کہلوانا مشکل ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کرپشن ملک کا ایک متعدی بیماری ہے جس میں سیاست دان ،فوجی ،جج ،میڈیاسمیت ہر شعبے کے لوگ ملوث ہے ،آئیں تمام شعبوں اور اداروں سے تعلق رکھنے والے افراد کی گول میز کانفرنس بلائیں اور اس ملک کو بچانے کا سوچیں ،صرف میاں نوازشریف یا چند دیگر افراد کااحتساب اور یاروں کو بچانا کسی صورت درست نہیں ہوگا بلکہ یہ مکل کو قصداََ خانہ جنگی کی جانب لے جانے کے مترادف ہے ۔


انہوں نے کہاکہ میں آج بھی کہتاہوں کہ ہر اس جرنیل کومیرا سلوٹ جو آئین کی پاسداری کرنے والاہے اور اس جج ،میڈیا نمائندے اور سیاستدان کو بھی میرا سلام جو آئین کے پاسدار اور جو آئین کو نہیں مانتا ہم اس سے نہیں مانتے ۔

انہوں نے کہاکہ مجھے یہاں جلسوں میں نام لیکر لیکر گاڑیاں دی گئی میں لوگوں کو گالی دینا پسند نہیں کرتا صرف اتنا کہتاہوں کہ ایک ضرب دس اور ایک ضرب سو انہوں نے کہاکہ سیاسی عالم کہتے ہیں کہ یہ صدی بحرہند کی صدی ہے ۔

اس لئے میاں محمدنوازشریف چین ،بھارت ،ایران ،افغانستان ،بنگلہ دیش ،برما اورجاپان سمیت اس خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ اتحاد بنائیں تاکہ خطہ پرامن ہوسکیں اور تیز رفتار ترقی کے منازل طے کرے ،انہوں نے میاں نوازشریف کو سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر جمہوری محاذ بنانے کی بھی تجویز دی ۔