|

وقتِ اشاعت :   December 5 – 2017

واشنگٹن +تہران +انقرہ +قاہرہ: امریکہ نے اسرائیل میں اپنی سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا، اس کاباضابطہ اعلان اگلے چوبیس گھنٹوں میں متوقع ہے۔

امریکی فیصلے کو مسلم دنیا میں شدید مزاحمت کاسامنا ہے، تمام بڑے مسلم ممالک امریکہ کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے مشرق وسطی میں تشدد کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جائے گا ،امریکی محکمہ خارجہ نے کہاہے کہ امریکی صدر نے سفارتخانے کی منتقلی کے معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا ہے اور ہم اس حوالے سے بہت احتیاط سے کام لیں گے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پیر کو جاری کیے گئے ایک بیان میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھر ناٹ نے کہاکہ امریکی صدر نے سفارتخانے کی منتقلی کے معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا ہے اور ہم اس حوالے سے بہت احتیاط سے کام لیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ (آج منگل) تک سفارت خانے کی منتقلی کا فیصلہ کریں گے یا 6 مہینے کے لیے اس معاملے سے دستبردار ہوجائیں گے لیکن لگتا ہے کہ جنرل اسمبلی کی جانب سے اختیار کردہ قرار کی حیثیت مسترد ہوجائے گی۔

خیال رہے کہ آخری انتفادہ یا بغاوت سن 2000 میں ہوا تھا جب دائیں بازو کی مخالف جماعت کے رہنما ایریل شیرون نے مسجد اقصیٰ کا دورہ کیا تھا، جس کے نتیجے 3 ہزار فلسطینیوں کو قتل جبکہ ایک ہزار اسرائیلیوں کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے۔

مسلم ممالک کی نمائندہ تنظیم او آئی سی نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہ کرے ۔ اس حوالے سے اس کے کسی بھی اقدام کو پوری قوت سے مسترد کردیا جائے گا۔ مقبوضہ بیت المقدس کی قانونی پوزیشن کو نقصان پہنچانے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہوگی، غیرقانونی ہوگی۔

بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہوگی۔عرؓ ٹی وی کے مطابق او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ نے ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی ان اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا جن میں عندیہ دیا جارہا ہے کہ امریکی انتظامیہ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرکے اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے القدس منتقل کرنے والی ہے۔ 

او آئی سی نے توجہ دلائی کہ یہ رجحان سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 478 کے منافی ہے جس میں القدس اپنے سفارتخانے منتقل کرنے والے ممالک سے کہا گیاہے کہ وہ وہاں سے اپنے سفارتخانے ہٹا لیں ۔ او آئی سی نے توجہ دلائی کہ القدس سفارتخانہ منتقل کرنے کے سنگین نتائج خطہ ہی نہیں پوری دنیا بھگتے گی، عبر لیگ نے خبر دار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے بیت المقدس کو اسرائیلی دارلحکومت تسلیم کیا تو اسکے سنگین نتائج برآمد ہونگے ۔

غیر ملکی خبر رساں اداے کے مطابق عرب لیگ کی جانب سے جاری ہونیوالے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکہ نے بیت المقدس کو اسرائیلی دارلحکومت تسلیم کرنے کی غلطی کی تو اسکے سنگین نتائج مشرق وسطی میں مزید عدم استحکام کی صورت میں نکلیں گے ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی کو بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ بیت المقدس فلسطین کا اٹوٹ انگ اور قابض علاقہ ہے ، اْردن نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے۔ 

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیر خارجہ ایمن سفیدی نے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کو ایک ٹویٹ میں دھمکی دی کہ اس سے عرب اور مسلم دنیا اشتعال میں آئے گا اور امن کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

فلسطینی تحریک حماس نے بھی دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا یا اپنا سفار تخانہ متنازعہ علاقے میں منتقل کیا توایک نئی انتفادہ تحریک شروع ہوجائے گی۔

تاہم اس مسئلے پر امریکی محکمہ خارجہ نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے،اردن کے وزیر خارجہ نے امریکی حکام کو خبردار کیا ہے کہ اگر یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسیلم کیا گیا تو اس کے ’خطرناک نتائج‘ ہوں گے۔

اردن کے وزیر خارجہ ایمن سفادی نے امریکی سیکریٹری خارجہ ریکس ٹلرسن کو بتایا ہے کہ اس قسم کا اعلامیہ عرب اور اسلامی دنیا میں ناراضگی کو ابھار سکتا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی ٹی وی چینل سی این این سمیت بہت سے امریکی اورمغربی ذرائع ابلاغ امریکی حکام کے حوالے سے اطلاع دے رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ سے اس متنازع فیصلے کا اعلان رواں ہفتے متوقع ہے۔تاہم صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کا کہنا ہے کہ ابھی اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

امریکی اعلیٰ حکام کا کہنا ہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ یروشلم کوجلد اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔اقوام متحدہ یروشلم پر اسرائیل کی حاکمیت کو تسلیم نہیں کرتا اور اس کے مطابق یہ متنازع علاقوں میں شامل ہے جس پر اسرائیل نے قبضہ کر رکھا ہے۔

فلسطینی بھی کسی طور بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور ان کی طرف سے اس بارے میں شدید رد عمل سامنے آ سکتا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کر دیں گے۔ 

یروشلم سمیت اسرائیل میں بیس فیصد آبادی اسرائیلی عربوں کی ہے اور امریکہ کی طرف سے یہ اقدام اْن لوگوں کو بھی اشتعال دلا کر انھیں شدت پسندی پر مائل کر سکتا ہے۔بی بی سی کا کہنا ہے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان اصل میں ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اپنے ایک انتخابی وعدے کو پورا کیا جانا ہو گا۔

امریکہ کی ڈیلاویئر یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر ڈاکٹر مقتدر خان نے بی بی سی کے ریڈیو پروگرام سیربین میں ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکی خفیہ اداروں اور انٹیلی جنس اور فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدام سے خطے میں تشدد کی نئی لہر آ سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے اندازوں کے مطابق اس اعلان کا شدید رد عمل سامنے آئے گا اور اس کے نتیجے میں بہت زیادہ جانی نقصان ہو سکتا ہے۔

مقتدر خان نے مزید کہا کہ انٹیلی جنس رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ فلسطینیوں کے علاوہ یروشلم سمیت اسرائیل میں بیس فیصد آبادی اسرائیلی عربوں کی ہے اور امریکہ کی طرف سے یہ اقدام ان عربوں کو بھی اشتعال دلا کر انھیں شدت پسندی پر مائل کر سکتا ہے۔

امریکی صدر کے اس اعلان کے ممکنہ اثرات پر مزید روشی ڈالتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور دیگر تنصیبات کو بھی نشانہ بنائے جانے کے خدشات کئی گناہ بڑھ جائیں گے۔