|

وقتِ اشاعت :   December 9 – 2017

کوئٹہ :  وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری کی زیر صدارت جمعہ کے روز یہاں منعقد ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اہم صوبائی امور کا جائزہ لیتے ہوئے اہمیت کے حامل فیصلے کئے گئے۔ 

صوبائی کابینہ نے بلوچستان وائلڈ لائف ایکٹ 2014پر مکمل طور پر عملدرآمد کے ذریعہ جنگلی حیات کے تحفظ اور غیرقانونی شکار کی مکمل روک تھام کو یقینی بنانے کی ضرورت سے اتفاق کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ چونکہ 18ویں ترمیم کے تحت پرندوں کے شکار کے لائسنس اور پرمٹ کا اجراء حکومت بلوچستان کا اختیارہے ۔

لہذا وزارت خارجہ صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر شکار کے لائسنس اور پرمٹ کے اجراء کی مجاز نہیں ہوگی۔ وفاقی حکومت صوبے کا کوئی بھی علاقہ شکار کیلئے الاٹ کرنے کیلئے صوبائی حکومت سے رجوع کرے گی۔ کابینہ نے پرندوں کی افزائش کے علاقوں میں شکار پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔ 

صوبائی کابینہ نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ صوبائی محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات کی جانب سے پرمٹ اور لائسنس کے اجراء کے بغیر ہر شکار غیر قانونی تصور ہوگا اور تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرغیر قانونی شکار کی روک تھام کے ذمہ دار ہوں گے جبکہ شکار کے پرمٹ اور لائسنس کے اجراء کے حوالے سے متعلقہ اضلاع کے عوام اور اراکین اسمبلی کے تحفظات کو دور کیا جائے گا۔

اجلاس میں سوئی گیس فیلڈ کے حوالے سے پی پی ایل کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے بعض نکات پر صوبائی حکومت کے اعتراضات اور تحفظات کا جائزہ بھی لیاگیا اور سیکرٹری توانائی کی جانب سے صوبائی کابینہ کو بریفنگ دی گئی۔ 

وزیراعلیٰ نے معاملے کو مؤثر طریقے نمٹانے کیلئے اپنی زیر صدارت کابینہ کی سب کمیٹی تشکیل دی اور فیصلہ کیاگیا مذکورہ کمیٹی ایم ڈی پی پی ایل اور ڈائریکٹر جنرل وزارت پیٹرولیم سے ملاقات کرے گی اور معاہدے کے حوالے سے صوبائی حکومت کے تحفظات دور کرنے کیلئے ان سے بات چیت کی جائے گی اورضرورت پڑنے پر کمیٹی وزیراعظم سے بھی ملاقات کرے گی۔ 

کابینہ کو بلوچستان لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں آئین کے آرٹیکل 140-Aکے تحت ترامیم کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی اور فیصلہ کیاگیا کہ اس ضمن میں قائم کمیٹی جلد اپنی سفارشات کو حتمی شکل دیکر منظوری کیلئے کابینہ کو پیش کرے گی۔ 

صوبائی کابینہ کو پی ایس ڈی پی 2017-18 کی پیشرفت کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی کابینہ نے بعض ترقیاتی منصوبوں میں ناگزیر ردوبدل کی منظور دی ۔ اجلاس میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کو محکمہ تعلیم کے تعمیراتی منصوبوں بالخصوص سکولوں میں صاف پانی کی فراہمی اور ٹوائیلٹس کی تعمیر کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس میں فیصلہ کیاگیاکہ تمام محکموں کے ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت اور بھرتیوں کے عمل کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعلیٰ کی زیر صدارت علیحدہ علیحدہ اجلاس منعقد کئے جائیں گے جبکہ کابینہ کی جانب سے تمام محکموں کو خالی آسامیوں پر میرٹ کے مطابق بھرتیوں کے عمل کو جلدازجلد مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس میں تعلیمی اداروں کی سیکورٹی سے متعلق امور کا جائزہ لیتے ہوئے آئی جی پولیس کو تعلیمی اداروں کو فول پروف سیکورٹی کیلئے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے خالی اسامیوں پر بھرتیوں میں تاخیر اور ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد میں سست روی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہم اپنی کوتاہیوں کی ذمہ داری کسی دوسرے پر نہیں ڈال سکتے۔ عوامی خدمت سیاسی حکومت اور بیوروکریسی کی ذمہ داری ہے۔ 

یہ صوبہ ہمارا ہے اور اس کے نفع نقصان کے ہم خود ذمہ دار اور عوام کے سامنے جوابدہ ہیں انہوں نے کہا کہ بھرتیوں اور ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کا نقصان صوبے کے نوجوانوں اور عام آدمی کوپہنچے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کسی کو روزگار کی فراہمی سب سے بڑی خدمت خلق ہے اور ایک فرد کو نوکری دینے سے ایک پورے خاندان کو چولہا جل سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تمام وسائل عوام کی امانت ہیں ترقیاتی فنڈز کے ضیاع اور لیپس ہونے کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے۔ 

وزیراعلیٰ نے اس موقع پر تمام محکموں کو ضروری قانون سازی کیلئے التواء کا شکار بلوں کو فوری طو رپر منظوری کیلئے صوبائی کابینہ میں پیش کرنے کی ہدایت دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ آج کا بلوچستان ماضی کے مقابلے میں بہت بدل چکا ہے سی پیک سمیت پاکستان کی ترقی کے تمام راستے بلوچستان سے گزرتے ہیں اور بلوچستان پاکستان کے معاشی و اقتصادی استحکام میں بھرپور کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔ 

ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے زیر اہتمام منعقدہ نیشنل سیکورٹی ورکشاپ کی تقریب تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ورکشاپ میں عوامی نمائندگان ، سول سوسائٹی، شعبہ تعلیم ، انتظامیہ اور ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ معاشی و اقتصادی استحکام کے لئے کئے جانے والے اقدامات سے نہ صرف عام آدمی کی زندگی میں خوشحالی آئیگی بلکہ سیکورٹی کی صورتحال مزید بہتر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل سیکورٹی ورکشاپ کے کوئٹہ میں انعقاد سے بلوچستان کی لیڈرشپ کو نیشنل سیکورٹی کے حوالے سے امور کو سمجھنے میں مدد ملی ہوگی جبکہ اس ورکشاپ کاانعقاد سیکورٹی کے حوالے سے لائحہ عمل اور پالیسی سازی میں بھی کارآمد ثابت ہوگا۔ 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارے آباواجداد نے اس خطے کے تحفظ کے لئے بے پناہ قربانیاں دیں اور اسے پاکستان کے لئے بچاکے رکھا۔ صوبے کے قیام سے اب تک بلوچ اس صوبے کے حکمران رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے غلط طرز حکمرانی ، منفی سوچ اور ناقص پالیسیوں کے باعث بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال خراب رہی۔

بے روزگاری کے وجہ سے بیرونی ایجنسیاں اور چند بکے ہوئے عناصر کو ہمارے نوجوانوں کو بہکانے اور انہیں ملک کے خلاف استعمال کرنا کاموقع ملا جس کی نتیجہ میں برادر کشی ہوئی۔ 

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم نے صورتحال کا اداراک کرتے ہوئے بہتر طرز حکمرانی کی بنیاد رکھی، منفی سوچ اور سیاست کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی اور صوبے کی مجموعی ترقی بلخصوص نوجوان نسل کی تعلیم و تریبت کے ذریعے صیحح سمیت میں رہنمائی کے لئے مثبت پالیسیاں اپنائیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے امن و امان کی صورتحال کی بہتری کے لئے سیکورٹی اداروں کو وژن دیا جس پر عملدرآمد سے آج امن و امان کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں بہت بہتر ہے۔ 

پرامن بلوچستان پالیسی کے تحت ہتھیار اٹھا کر پہاڑوں میں جانے والے واپس قومی دھارے میں شامل ہورہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ امن و امان کی بہتری کے لئے پولیس اور لیویز فورسز کی تنظم نو کرتے ہوئے انہیں جدید تربیت اور سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ایلٹ فورس کاقیام عمل میں لایا گیا ہے۔

بلوچستان کی آزادی کی نام و نہاد تحریک کو ناکام بنادیا گیا ہے۔ عوام کے تعاون اور سیکورٹی اداروں کی قربانیوں اور کاوشوں کے ذریعے مذہبی دہشت گردی کی صورت میں درپیش مسئلے پر بھی جلد قابو پالیاجائے گا۔ 

انہوں نے کہا کہ ہم روایتوں کے پاسدار اورامین ہے ، ہم نے ان عناصر کی خواتین اور بچوں کو بھی عزت اور احترام دیا اور بلوچی روایت کے تحت چادریں پہنا کر انہیں ان کے ورثاء کے حوالے کیا جو میرے بچوں کی شہادت میں ملوث ہیں۔ تاہم یہ افسوس ناک امر ہے کہ ان ہی عناصر نے چند دنوں بعد ہی روزی کمانے کے لئے بیرون ملک جانے والے لوگوں کو بے دردی سے قتل کردیا۔ 

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے عوام ، حکومت اور اپنی جانب سے ملک کے تحفظ اور دہشت گردی کے جنگ میں جانوں کا نظرانہ پیش کرنے والے شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں۔ بعدازاں وزیر اعلیٰ نے ورکشاپ کے شرکاء میں سرٹیفیکٹ تقسیم کیے۔