کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اخترجان مینگل نے کہاہے کہ سی پیک بلوچستان کے لوگوں کیلئے نہیں ہے ،91فیصد چین اور9فیصد وفاق لے جارہا ہے ، گوادراوربلوچستان کے نام پر اربوں روپے لیکر باقی صوبوں میں خرچ کئے جارہے ہیں جبکہ گوادر کے لوگوں کو پینے کا پانی تک میسر نہیں ۔
صوبے کے مفادات سے متصادم اور مقامی لوگوں کو اقلیت میں تبدیل کرنیوالے کسی ترقی اور منصوبے کو قبول نہیں کرینگے۔
بلوچستان کے حقوق کے دعوے داروں کے دور میں صوبہ جنوبی ایشیا میں بد عنوانی میں پہلے نمبر پر آگیا ہے ، زرغون روڈ پر کالا ٹیکہ لگادینا چاہیے تاکہ نظر نہ لگے۔ہمیں کہا جاتا ہے کہ بلوچستان میں ظلم و زیادتیوں پر بات نہ کریں تو کیا عمران خان کی طرح اسٹیج پر گانے چلائے، سیاسی مخالفین کو گولیاں دیں، ہم سیاسی اخلاقیات کو نہیں چھوڑ سکتے۔
مسلم لیگ ن پنجاب اور اور پیپلز پارٹی سندھ کی قوم پرست جماعتیں بن گئی ہیں ،وفاقی کہلانے والی جماعتیں قوم پرست بننے پر شرمندہ نہیں تو چھوٹے صوبوں کے سیاسی لوگ کیوں وفاق کی سیاست کررہے ہیں۔
یہ باتیں انہوں نے اتوار کو کوئٹہ کے مقامی میرج ہال میں ممتاز سیاسی وقبائلی رہنماء سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی کی بلوچستان نیشنل پارٹی میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔
اس موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی ،بی این کے مرکزی سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ ،رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی ،موسی جان بلوچ ،آغا حسن بلوچ اور دیگر بھی موجود تھے۔ سردار اختر مینگل نے لشکری رئیسانی کو پارٹی میں شمولیت پر خوش آمدید کہا۔
انہوں نے کہاکہ حاجی لشکری رئیسانی سے کافی عرصے سے رابطے میں تھے ۔بعض لوگوں نے خوف کی فضاء پیدا کی ہوئی تھی کہ بلوچستان نیشنل پارٹی میں جو جائے گا بچ نہیں پائے گا یہ وہی لوگ ہیں جو ہماری عملی جدوجہد سے خائف ہیں ۔ لشکری رئیسانی کی بلوچستان نیشنل پارٹی میں شمولیت سے جمود اور خوف کی فضاء ختم ہوگئی ہے۔
حاجی لشکری رئیسانی قبائلی ، سماجی اور سیاسی سطح پر حیثیت رکھتے ہیں انہوں نے وفاقی جماعتوں میں ہوتے ہوئے پارٹی مؤقف کے برعکس ہمیشہ بلوچستان کے عوام کے حقوق کی آواز د وٹوک الفاظ میں بلند کیا ہے ۔
اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان میں تمام اقوام کے لوگ ہزاروں سال سے اکھٹے رہ رہے تھے کوئی نہیں کہتا تھا کہ میں بلوچ ہوں تم پشتون ہوں ، میں ہزارہ ہوں تم سیٹلر ۔ یہ ڈینگی مچھر کہیں اور سے آیا اور ہمیں ڈس ڈس کر نفرت میں مبتلا کر گیا ۔ان امراض سے بچنے کیلئے مضبوط سیاسی پلیٹ فارم کی ضرورت ہے ۔
اختر مینگل نے کہا کہ ایک زمانے میں وفاق کی علامت سمجھے جانے والی جماعتیں اوروفاق کا بیڑا اٹھانے والی جماعتیں اب خود مقامی جماعتیں بن گئی ہیں ۔ان کا منشور وفاقی اکائیوں کو ساتھ لیکر چلنے کا تھا لیکن گزشتہ تیس سالوں سے مسلم لیگ پنجاب اور پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کی قوم پرست جماعتیں بن گئی ہیں ۔
جب انہیں اس چیز میں شرمندگی محسوس نہیں ہوتی تو حیرت اس بات پر ہے کہ چھوٹے صوبوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی لوگ اب تک وفاق کی ہاتھی کی دم کیوں تھامے ہوئے ہیں۔کچھ نہیں ملنا ان سے۔ ہم ان کے اتحادی رہے ہیں۔ لشکری رئیسانی ان جماعتوں میں رہ چکے ہیں۔
اس سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ان جماعتوں میں بلوچستان کیلئے کیا طرز عمل ہے۔ انہوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ ان کی اکائی نہیں بلکہ ایک کالونی ہے۔ 70سالوں میں بلوچستان کے ساتھ جو کچھ ہوا کونسا ایسا علاقہ ہے جس میں بلوچستان کی وفاقی پارٹیاں اور وفاقی حکومت کے ظلم و زیادتی کی داستانیں نہ لگی ہوئیں۔
حکومتی دعوؤں اور میڈیا کے دعوے اور پروپیگبڈہ پر یقین کیا جائے تو بلوچستان کے ہر گاؤں ہر چپے میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں،سکول ،کالج ،یونیورسٹیاں ،ہسپتال ہیں او ریہاں کوئی نوجوان بے روز گار نہیں ۔جبکہ حقیقت میں بلوچستان کی صورتحال اسکے برعکس ہے ۔ہمیں اس ملک میں اپنی آبادی یا کسی بناء پر اہمیت نہیں ۔
ہمیں پوچھے بغیر شامل کیا گیا ۔ ہمیں ملک میں سٹریٹیجک اہمیت کی وجہ سے شامل کیا گیا تھا اور آج بھی بلوچستان کو لوگوں کی بجائے جغرافیہ کی وجہ سے اہمیت دی جاتی ہے۔ آج ہمارے وسائل کو رقبے کے حساب سے لوٹا جارہا ہے جبکہ ہمیں ترقی آبادی کے لحاظ سے بھی نہیں دی گئیں۔
اور ہماری آبادیوں سے زیادہ ہمارے قبرستان بھر ے ہوئے ہیں ۔جب بھی زیادتیوں کا ذکر کرتے ہیں تو ہمیں ہمیشہ غیر جمہوری کہاگیا۔اختر مینگل نے کہاکہ ہمیں کہتے ہیں کہ ان باتوں کی ملک میں کوئی گنجائش نہیں تو وہی ہمیں بتایا جائیں کہ ہم کونسی باتیں کریں۔
کیا ہم عمران خان کی طرح سٹیج پر گانے گائے یا سٹیج پر چڑھ کر سیاسی مخالفین اور اکابرین کو گالی دیں ۔اگر چہ وہ ہم سے تعلیم میں آگے ہیں لیکن سیاسی اخلاقیات میں ہم ان سے بہت آگئے ہیں ۔میڈیا کا رویہ بھی وفاق کی طرح ہے جب ہماری لاشوں کے چیتھڑے بکرے ہوتے ہیں تو ہمیں گھنٹوں کے حساب سے لائیو کوریج دی جاتی ہے مگر جب کوئی مثبت کام ہو تو اسے چند سیکنڈ بھی نہیں ملتے ۔
انہوں نے کہاکہ طاقتور لوگوں نے جن سیاسی جماعتوں کا بیج بویا انہیں اپنی نرسری میں پایا تن آور درخت بنایا آج وہی جماعتیں ان سے برداشت نہیں ہورہی ہیں ۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی غیر جمہوریتی قوتوں نے شب خون مارا ہے بلوچستان کے قوم پرستوں نے ان کی مخالفت کی ہے میں ان وڈیروں کی بات نہیں کررہاجو مشرف کے دور میں ق لیگ ،زردار ی کے دور پیپلز پارٹی ،میاں نواز شریف کے دور میں مسلم لیگ (ن) اور آنے والے دنوں میں کسی او رجماعت میں ہونگے ۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں بلوچستان کے کسی بھی اہم مسئلے پر بات کرنے کی اجازت نہیں ۔ریکوڈک پر بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ عدالت میں ہے ۔سی پیک پر بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ سیکورٹی ایشوہے ۔
سیندک پربات کرتے ہیں توکہتے ہیں کہ چینی ہمارے دوست ہیں ۔ہمیں بتایا جائے ہم کس مسئلے پر بات کریں ۔بی این پی کے سربراہ نے کہ اکہ 1997میں جب گوادر پورٹ کی بات کی جارہی تھی تب بلوچستان نیشنل پارٹی نے اس نقطے پر اس کی مخالفت کی تھی کہ ہم ان تمام ترقیاتی منصوبوں کی حمایت کرینگے ۔
جن کا براہ راست فائدہ بلوچستان کی عوام کا ملے گا اس وقت ہمارے بات نہیں سنی گئی پھر مشرف مکا ہلاتا ہوا آیا اور دم دباتا ہوا جارہاہے ہم نے تب بھی کہاکہ بلوچستان کے سائل وساحل پر ان کے لوگوں کا حق دیا جائے نوکریاں ہمارے مسئلے کا حل نہیں پہلے ہمیں اس ملک کا مالک سمجھاجائے اور واضح کیا جائے کہ اس سرزمین پر پہلا حق کس کا ہے ہمیں نوکریوں سے نہیں ٹرخایا جاسکتا ۔
جب ہم نے اے پی سی بلائی تھی تب بھی یہی مطالبہ کیا تھاکہ ہمیں واضح ثبوت دیا جائے کہ 46ارب روپے میں سے بلوچستان پر کتنے خرچ ہونگے اور آج یہ ثابت ہوگیا کہ سی پیک بلوچستان کے لوگوں کیلئے نہیں جب وفاقی وزیر سینیٹ میں یہ کہہ دے کہ 91فیصد چین لے جائیگا تو اس سے ہمیں کیا ملے گاہمیں تو سیندک میں سے صرف دو فیصد ملتا ہے وہ بھی سیکورٹی کی مد میں واپس لے لیا جاتاہے ۔
ہم ترقی چاہتے ہیں ہم کسی منصوبے کے مخالف نہیں لیکن ہم کسی بھی ایسے منصوبے کی حمایت نہیں کرینگے جس کی بنیاد بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار ہو اور یہاں کے لوگوں کو اقلیت میں تبدیل کردیا جائے ۔اگریہ بات کسی کو اچھی لگے یا نہ لگے میری بلا سے ۔ہم نے پہلے بھی مخالفت کی ہے اور آئندہ بھی کرینگے ۔
انہوں نے کہاکہ ایک رپورٹ آئے ہیں کہ بلوچستان ساؤتھ ایسٹ ایشیاء میں کرپشن میں پہلے نمبر پر ہے ۔ہم زرغون روڈ پر کالا ٹیکہ لگادیتے ہیں کہیں ان حکمرانوں کو نظر نہ لگ جائے جو اپنے آپکو قوم پرست ،صوبے کا محافظ،بلوچستان کے حقوق کا رکھوالا سمجھتے ہیں یہ انہیں کے دور میں ہورہا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ ہماری جدوجہد کسی قوم یاصوبے کیخلاف نہیں بلکہ صوبے کے عوام کو وہ سہولیات مہیا کرنا ہے جو ان کا بنیاد ی حق ہے ۔انہوں نے کہاکہ سی پیک کا نام پوری دنیا میں مشہور کردیا گیا ہے لیکن عقل کے اندھوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ گوادر کی مقامی آبادی کے پاس پینے کا پانی ہی نہیں ہے ۔
گوادر کو تو چاند پر پہنچادیا لیکن پینے کا صاف پانی مہیا نہیں کیا چار سال سے گوادر او ربلوچستان کے نام پر دنیا سے بھیک مانگ مانگ کر اپنے پیٹ پال لئے اور لوگوں کو ارب پتی بنادیا لیکن بلوچستان کے لوگوں کو انکے ساحل وسائل پر حق نہیں دیا ۔
بلوچستان کے نام پر لئے گئے پیسے سے دوسرے صوبوں میں پاور پلانٹ ،ٹرینیں ،سڑکیں بن گئیں لیکن یہاں پر کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔انہوں نے کہا کہ گوادر کے لوگوں کو تو پانی دستیاب نہیں باہر سے آنے والے یاجوج ماجوج کو کہاں سے دوگے۔