کوئٹہ: وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت ملک کو معاشی ترقی پر گامزن کررہی تھی کہ سپریم کورٹ پاکستان کے فیصلے نے اس ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرکے بحرانی کیفیت پیدا کی بھارت خطے میں جنگجو جنون میں دراندازی کررہا ہے لیکن ہم نے معاشی ترقی اور امن کی طرف جانا ہے نہ کہ جنگ کی طرف پاکستان ‘ چین اور افغانستان خطے میں معاشی ترقی کے بلاک کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔
ہم نے انسانی ہمدردی کے تحت بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو اس کی ماں اور بیوی سے ملوایا لیکن بھارت نے کنٹرول لائن پر دراندازی کرکے ہمارے نیک مقصد کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی ہے افغانستان میں ہائی سپرطاقتوں کی موجودگی میں داعش کی جانب سے مضبوط ہونے کا عمل ان کی موجودگی پر سوالیہ نشان ہے داعش کی موجودگی افغانستان اور خطے کے لئے خطرناک ہے ۔
امریکی صدر اور نائب صدر کی پاکستان کو دھمکیوں کا متحد ہو کر جواب دیاجاسکتا ہے نہ کہ دھرنے اور تحریکوں سے ہمیں معاشی ترقی کے لئے ملک اور قوم کے مفاد کو لیکر آگے بڑھنا ہوگا ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے 2 روزہ کوئٹہ کے دوران بلوچستان حکومت کے ترجمان انوار الحق کاکڑ کی جانب سے ان کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کیا ۔
وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت ملک بھر میں اعلیٰ تعلیم کی سہولیات نوجوانوں کو فراہم کرنے کے لئے روز اول سے ہی اپنا کردار ادا کررہی ہے ۔
اس لئے ہم نے ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے تحت بلوچستان کے پسماندہ علاقوں اور اضلاع میں یونیورسٹیوں کے کیمپس قائم کئے جس میں نوجوانوں کو ان کے علاقوں میں اعلیٰ تعلیم کے موقعے فراہم ہوسکیں خضدار وڈھ ‘ نوشکی ‘ پشین میں یونیورسٹیز کے کیمپس قائم کئے گئے ہیں جس کا آج افتتاح کیا جائے گا کوئٹہ سٹی میں بھی اعلیٰ تعلیم کے بہتر مواقعے فراہم کررہے ہیں کیونکہ تعلیم کے ذریعے ہی بلوچستان کی پسماندگی کو دور کیا جاسکتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت میں آنے کے بعد ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے 13 ارب روپے کے بجٹ کو بڑھا کر 35 ارب روپے کیا ہے یہ صرف ترقیاتی بجٹ ہے اگر ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ کو اکٹھا کیا جائے تو یہ 100 ارب روپے بنتا ہے ہماری حکومت تعلیم کے فروغ کے لئے تمام وسائل بروئے کار لارہی ہے ۔
گزشتہ 70 سالوں میں بھی وہ کام نہیں ہوئے جس طرح ہم نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام سمیت دیگر شعبوں میں کئے ہیں کچھ ناقدین ہمارے ان ترقیاتی منصوبوں پر تنقید کرتے تھے آج جب منصوبے مکمل ہورہے ہیں اور مساویانہ ترقی کے ذریعے صوبوں کو آگے بڑھا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی صوبہ ترقی کے اس عمل میں نظرانداز نہ ہو ۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے بلوچستان پر خصوصی توجہ دی ہے انہوں نے کہا کہ سی پیک 2030ء کا منصوبہ روڈ میپ اورانفرااسٹکچر پر توجہ دی جارہی ہے گوادر یونیورسٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے3 سال میں مردہ منصوبوں کو اربوں روپے کی سرمایہ کاری سے مکمل کررہے ہیں ۔
650 کلومیٹر گوادر سے کوئٹہ شاہراہ مکمل ہونے سے 2 دنوں سفر 8 گھنٹوں پر سمٹ کر آگیا ہے یہ کام گزشتہ 70 سال میں نہ ہو سکا لیکن ہماری حکومت نے 3 سال کی قلیل مدت میں کارنامہ سرانجام دیا ہے گوادر ‘ خضدار ‘ رتوڈیرو کے علاوہ بلوچستان کو سندھ کے علاقے سکھر رتوڈیرو اور جیکب آباد سے ملایا جارہا ہے اسی طرح کوئٹہ ڈیرہ اسماعیل خان 4 رویہ ایکسپریس ہائی وے سی پیک کا حصہ بن چکی ہے اور اس کی منظوری دی گئی ہے ۔
حکومت بلوچستان میں 1000 کلومیٹر کے منصوبوں کے لئے فنڈز مہیا کرچکی ہے اس طرح گزشتہ 4 سال کے دوران ہم نے بہت سے ترقیاتی منصوبے مکمل کرکے ترقیاتی سفر میں آگے بڑھے ہیں ۔
حکومت نے برسرے اقتدار آنے کے بعد امن کی بحالی کو یقینی بنا کر دہشت گردی کی کمر توڑی ہے اکا دکا واقعات کی بڑی وجہ ہماری مغربی سرحد جہاں سے ہمارا مشرقی دشمن دراندازی کرکے عوام اور سیکورٹی فورسز کو نشانہ بناتا ہے اس پر بھی ہم عوام اور سیکورٹی فورسز کے تعاون سے قابو پالیں گے کیونکہ ہماری کمٹمنٹ کہ ہم نے امن قیام کرنا ہے ہمارے شہیدوں کا جب بھی دھرتی پر خون گرتا ہے تو ہمارا عزم اور بھی مضبوط ہو جاتا ہے ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکہ سمیت دیگر بڑی سپرپاور طاقتوں کی موجودگی میں داعش کی مضبوطی ان کی سپرپاور اورموجودگی پر سوالیہ نشان ہے اگر خطے کو مضبوط بنانا ہے تو اس سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا کیونکہ داعش کی موجودگی میں افغانستان اور پاکستان سمیت خطے کے لئے نقصان دے ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہم مغربی سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے اوپن بارڈر پر باڑ لگا کر چیک پوسٹوں کے ذریعے محفوظ بنارہے ہیں تاکہ دراندازی روک کر آگے بڑھا جاسکے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکن صدراورنائب صدر کے پاکستان کو دھمکی آمیز بیانات کے بعد ہم سب کو متحد ہو کر ان دھمکیوں کا جواب دینا ہے ۔
ناکہ اے پی سی کے ذریعے دھرنوں اور تحریکوں کا اعلان کرکے پاکستان کو اپنے دشمنوں کو کمزور ملک پیش کرنا ہے ہماری کوشش ہے کہ ہم متحد ہو کر اپنے دشمنوں کو اندرونی طورپر خارجی طورپر بھی جواب دیں ۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 4 سال میں حکومت نے توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے جو اقدامات اٹھائے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں جن علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ جاری ہے وہاں پر بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے بلوں کی وصولی کی عمل درست نہیں جس کی وجہ سے خسارہ ڈیٹ کو بہتر بنانے کے لئے لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے ہم نے گزشتہ ساڑھے 4 سال میں 10 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کی ہے جبکہ گزشتہ 66 سالوں میں 16 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوئی ہے ۔
ہماری کوشش ہے کہ پاکستان کو سیاسی استحکام کی جانب لے جانے اور بحران سے نکالنے کے لئے گروتھ ریٹ کو 6 فیصد تک لے جائیں حالانکہ ہمارے مخالفین مسلم لیگ (ن) اور میاں نوازشریف کو سڑک بنانے والی جماعت کہتے ہیں جبکہ دنیا کے 70 ممالک نے بین الاقوامی طورپر سڑک کو ترقی کی کنجی قرار دیکر اس پر معاہدہ کیا ہے کیونکہ روڈ کے ذریعے ہی ترقی کا سفر شروع ہوتا ہے ہم توانائی بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہو چکے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ترقی کے اس سفر میں چیلنجز سے نمٹنے کے لئے حکومت آگے بڑھ رہی ہے کیونکہ پاکستان پر بیرونی دباؤ کا اس کو کم کرنے کے لئے ہم سب کو متحد ہو کر آگے بڑھنا ہوگا حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے میں تقریباً 5 ماہ کا عرصہ باقی ہے ۔
بیرونی دباؤ کا تقاضا ہے کہ اس کو متحد ہو کرختم کیا جاسکے ہماری حکومت بلوچستان میں ڈیمز کی تعمیر کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے اور وفاقی پی ایس ڈی پی میں 40 ڈیمز کا منصوبہ شامل کیا ہے حالانکہ 18 ویں ترمیم کے بعد ڈیمز کی تعمیر صوبوں کو منتقل ہو چکی ہے لیکن وفاق بلوچستان کو اس کے حق سے زیادہ ترقیاتی منصوبوں کی مد میں فنڈز فراہم کررہا ہے سی پیک کے حوالے سے انڈسٹریل زون کی تعمیر کے لئے تمام صوبے اپنی فزیبلٹی رپورٹ بنا رہے ہیں ۔
ہم نے 2020-2025ء اور 2030ء کے حوالے سے ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے تاکہ کم ترقیاتی یافتہ علاقوں میں ترقی یافتہ علاقوں سے ملایا جاسکے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو انسانی ہمدردی کے تحت اس کی ماں اور بیوی سے ملوایا لیکن بھارت نے جنگی جنون پر عمل کرکے کنٹرول لائن پر دراندازی کی ہم خطے میں جنگ کے بجائے امن و ترقی کے لئے کام کررہے ہیں ۔
تاکہ پاکستان کو معاشی اوراقتصادی طورپرمضبوط ملک بنا کر جمہوریت کو مستحکم بنایا جاسکے موجودہ حکومت اپنی دوسری بار مدت پوری کرکے دنیا کو پاکستان کو مستحکم جمہوریت پسند ملک کا پیغام دینا چاہتی ہے ۔
پاکستان افغانستان اور چین کیساتھ ملکر اقتصادی بلاک بنانے جارہے ہیں کیونکہ خطے میں جنگ بھارت کے لئے بھی خطرناک ہے اور اس وقت بھارت اپنا جنگی جنون چھوڑ کر امن کی جانب لوٹے گا ۔