کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام کے اراکین اور سابق مشیر برائے خزانہ خالد لانگو میں تلخ کلامی ہوئی۔
اسپیکر راحیلہ حمید درانی کی زیر صدارت اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر جے یوآئی کے سردار عبدالرحمان کھیتران نے آفیشل گیلری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں سے ہم احتجاج کررہے ہیں کہ آفیشل گیلری میں بیوروکریٹس نہیںآ تے اسمبلی ختم ہونے میں صرف دو ماہ باقی ہیں سپیکر نے رولنگ بھی دی ہم نے احتجاج بھی کیا مگر ایسا لگتا ہے کہ ہم بھینس کے آگے بین بجارہے ہیں ۔
صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ بیورو کریٹس کی آفیشل گیلری میں عدم موجودگی کا سخت نوٹس لیا جائے گا جتنے بھی غیر حاضر افسران ہیں یقین دہانی کراتا ہوں کہ اگلی بار وہ اورحکومتی اراکین اجلاس میں شرکت کریں گے اگر آئندہ بیورو کریسی اجلاس میں نہ آئی تو ہم بھی نہیں آئیں گے۔
پشتونخوا میپ کے ڈاکٹر حامد اچکزئی نے کہا کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی جمہوری اقدار کو کبھی پس پشت نہیں ڈالے گی یہ اقلیتی حکومت ہے جس میں بیوروکریسی حکومت چلا رہی ہے بیورو کریسی اس وقت بے لگام ہوچکی ہے ۔حکومت کو چاہئے کہ وہ بیور و کریٹس کو پابند کرے کہ وہ اجلاس میں شر کت کریں ۔
انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کے اراکین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ایسے اراکین بھی ہیں جو بیک وقت حکومت اور اپوزیشن دونوں میں ہیں ۔ اس موقع پر جے یوآئی کے مفتی گلاب کاکڑ نے کہا کہ جب سے ہم پر کچھ نرمی ہوئی ہے اسی وقت سے کچھ لوگوں کو مسئلہ ہورہا ہے گزشتہ حکومت نے ہمارے ساتھ ناروا رویہ رکھا تھا جس کی وجہ سے آج وہ ہم پر اعتراضات اٹھا رہے ہیں ۔
جے یوآئی کے مولانا عبدالواسع نے کہا کہ ہم پر بے بنیاد الزامات لگائے جارہے ہیں کہ ہم حکومت کا حصہ ہیں سابقہ حکومت میں بدعنوانی اور کرپشن عروج پر تھی ۔ حکومت کی اپنی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے بغاوت ہوئی اور جب ان کے اپنے اراکین آپس میں لڑپڑے تو حکومت ختم ہوگئی ۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے روز اول سے عوامی خدمت کا وعدہ کیا ہے ہم نے اپنے دور حکومت میں صوبے بھر میں کالجز ، یونیورسٹیوں ، سڑکوں کا جال بچھایا ۔ انہوں نے تنقید کرنے والے اپوزیشن ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگوں کی ٹینکیاں پانی سے بھررہے تھے اورگزشتہ حکومت میں وزراء پانی کی ٹینکیاں پیسوں سے بھررہے تھے ۔ حاضر وزراء کو کرپشن کے الزامات پر گرفتار کیاگیا۔
اس موقع پر کرپشن کے الزام میں گرفتار سابق مشیر برائے خزانہ اور نیشنل پارٹی کے میر خالد لانگو اپنی نشست کھڑے ہوگئے اور شدید احتجاج کیا ۔ انہوں نے کہا کہ خزانہ سکینڈل کو بارباردہرانا اور طعنے کسی صورت درست نہیں جس نے کرپشن کی ہے اسے سزا مل جائے گی ۔
اس اثناٗ میں جمعیت علمائے اسلام کے مفتی گلاب بھی اپنی نشست سے کھڑے ہوگئے اور دونوں اراکین کے تلخ کلامی ہوئی ۔اراکین اسمبلی نے بیچ بچاؤ کراتے ہوئے میر خالد لانگو اور مفتی گلاب کو الگ الگ دروازوں سے ایوان سے باہر نکالا۔اسی ہنگامہ آرائی میں اسپیکر نے اسمبلی کا اجلاس 30مارچ تک ملتوی کردیا ۔
اس سے قبل اجلاس میں جمعیت العلماء اسلام کی حسن بانو رخشانی کے توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں وزیر تعلیم طاہر محمودخان نے کہا کہ حکومت نے بی اے بی ایس سی کو ختم کرکے چار سالہ بی ایس پروگرام متعارف کرانے کی منظوری دے دی ہے ۔
انہوں نے تحریری جواب میں بتایا کہ ایجوکیشن پالیسی2009ء کے مطابق2018ء تک بین الاقوامی سطح پر پاکستان میں دو سالہ ڈگری کورس کو چار سالہ ڈگری سے تبدیل کیا جانا ضروری تھا اور اس سلسلے میں ہائیر ایجوکٗشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق اس کا سلسلہ وار اطلاق10نومبر2015سے ابتدائی طور پر چار کالجز میں کیا گیا تھا ۔
بعدازاں دوسرے مرحلے میں مزید38کالجز میں چار سالہ بی ایس کا نفاذ کیا گیا جو کہ نہایت کامیابی سے جاری و ساری ہے ۔ پرائیویٹ طلباء2018ء تک بی اے کا امتحان دے سکتے ہیں ۔
اس موقع پر جے یوآئی کی حسن بانو رخشانی اورشاہدہ رؤف نے پرائیویٹ بی اے ختم کرنے کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں خواتین کو ریگولر تعلیم حاصل کرنے میں مشکلات درپیش ہیں جبکہ ایسے بھی طلباء وطالبات ہیں جو پیسوں کی کمی اور دیگر وجوہات کی بناء پر ریگولر تعلیم حاصل نہیں کرسکتے اس لئے ان پر پرائیویٹ بی اے کے دروازے بند کرنا زیادتی ہے ۔
وزیر تعلیم نے اراکین کو یقین دہانی کرائی کہ اگر اسمبلی کے اراکین چاہیں تو اس پر بات ہوسکتی ہے اور اس پرائیویٹ بی اے کے آپشن پر بھی سوچا جاسکتا ہے ۔
اس موقع پر سپیکر راحیلہ حمیدخان درانی نے کہا کہ وزیر تعلیم کی جانب سے ایک اچھا بیان آیا ہے تاہم یہ عوامی نوعیت کا ایک ایسا مسئلہ ہے جو بحث طلب ہے انہوں نے توجہ دلاؤ نوٹس کو نمٹانے اور اس مسئلے کو تعلیم کی قائمہ کمیٹی کے حوالے کرنے کی رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایوان کی قائمہ کمیٹیاں ایک اہم فورم ہے جس پر تمام مسائل پر بحث کرکے اچھا حال نکالا جاسکتا ہے ۔
اس موقع پر شاہدہ رؤف نے کہا کہ قائمہ کمیٹی ایک اہم فورم ہوتا ہے مگر افسوسناک طو رپر یہ بات نوٹ کی گئی ہے ممبران کمیٹی اجلاسوں میں نہیں آتے ۔ سپیکر نے اس پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ قائمہ کمیٹیوں کے اراکین ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور کمیٹی اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت یقینی بناتے ہوئے قانون ساز میں اپنا کردار ادا کریں اگر کوئی ممبر اجلاسوں سے مسلسل غیر حاضر رہتا ہے اور نہیں آتا تو اس کے لئے بھی ہم قواعد لارہے ہیں ۔
اجلاس میں نیشنل پارٹی کے رکن سردار اسلم بزنجو نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خضدار کی تحصیل کرخ کے ایک علاقے سن چکو میں گیس کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے ہیں مگر موجودہ حلقہ بندی میں اس علاقے کو بلوچستان کی بجائے سندھ میں شامل کیا گیا ہے یہ اقدام بلوچستان کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے اگرچہ یہ چھوٹا سا علاقہ ہے مگر یہ شروع دن سے بلوچستان کا حصہ رہا ہے ۔
سندھ حکومت نے پہلے بھی اس طرح کی کوشش کی تھی مگر بلوچستان حکومت نے یہ ناکام بنادی اب حلقہ بندی میں اس علاقے کو سندھ میں شامل کیا جانا انتہائی تشویشناک ہے ۔ جے یوآئی کے سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ اسی سے ملتا جلتا ایک مسئلہ ان کے حلقے کے پنجاب سے متصل علاقے میں پیش آیا ہے جہاں فورٹ منرو کے راستے بلوچستان کی زمینو ں کو پنجاب سے بجلی لائی جارہی ہے ۔
قانونی طو رپر یہ نہیں ہوسکتا ہمیں خدشہ ہے کہ آج وہاں بجلی لائی جارہی ہے کل وہاں بھی خضدار کے علاقے کی طرح مسئلہ پیش آجائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب سے ہماری طرف تجاوزات کا سلسلہ جاری ہے اس کا نوٹس لیا جانا چاہئے ۔
بلوچستان اسمبلی اجلاس ،بیورو کریسی کی عدم موجودگی پر اراکین اسمبلی کا شدید احتجاج
![]()
وقتِ اشاعت : March 28 – 2018