|

وقتِ اشاعت :   July 18 – 2018

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے سانحہ مستونگ کے سوگ میں پارٹی کے تمام انتخابی جلسے منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مد میں بچ جانے والی رقم سانحہ مستونگ کے متاثرین کو دی جائے گی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک بیان میں بی این پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مستونگ بم دھماکے میں بے گناہ افراد کی جانوں کے ضیاع کے بعد بی این پی نے اپنے تمام انتخابی جلسے منسو خ کردیئے ہیں۔ انتخابی جلسوں میں پرخرچ ہونے والی رقم اب سانحہ مستونگ کے متاثرین کی مدد پر خرچ کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان نے تاریخ کے ہولناک واقعہ کا سامنا کیا ہے ایسے میں ضمیر اجازت نہیں دیتا کہ ان متاثرین کو تنہاء چھوڑیں جو اس وقت بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ٹیلیفون پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ آئندہ چند دنوں میں انتخابی مہم کے سلسلے میں بی این پی کے زیر اہتمام پنجگور،تربت، خاران اور نوشکی میں جلسوں کا شیڈول طے کیا گیا تھا۔

کوئٹہ میں بھی انیس جولائی کو جلسہ عام منعقد ہونے جارہا تھا تاہم سانحہ مستونگ کے باعث ان تمام جلسوں کو متعلقہ اضلاع کے پارٹی رہنماؤں کی مشاورت سے منسوخ کردیا گیا ہے۔خضدار میں بھی جلسہ شیڈول ہے اور خضدار کے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی مشاورت سے فیصلہ کیا جائیگا۔

ان کا کہنا تھا کہ مشکل حالات میں جمہوریت کا حصہ بننے والے بلوچستان کے عوام سوگ میں ہے ایک جانب جنازے اٹھ کر رہے ہوں اور لوگ زخموں کی کرب برداشت کر رہے ہوں تو دوسری جانب جلسے جلوس نہیں کر سکتے ۔سانحہ مستونگ بہت بڑا واقعہ ہے جس نے بلوچستان کو لہو لہو کر دیا اس واقعہ میں لوگوں کی شہادتیں اور معصوم وبے گناہ افراد کی زخمی ہونے کی مذمت زبانی کلامی ممکن نہیں ۔

بلوچستان نیشنل پارٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ انتخابی جلسوں کو منسوخ کر کے ان جلسوں پر خرچ ہونیوالی رقم سانحہ میں زخمی ہونیوالے افرادپر خرچ کی جائے گی جنہیں ہسپتالوں میں اشیاء خوردونوش ، ادویات اور دیگر سہولتوں کے فقدان کا سامنا ہے ۔

انہوں نے کہا ہے کہ ایک جانب عوام کی آہو بکاہو تو دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی جلسے جلوس کرنے کو قطعی مناسب نہیں سمجھتی ہم اپنے لو گوں کے غم میں برابر کے شریک ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں ان کے شانہ بشانہ ہے ۔

پارٹی نے مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کی ہرممکن مدد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی جلسوں کے اخراجات کی مد میں بچ جانے والی رقوم اب متاثرہ خاندانوں کی مدد کیلئے خرچ کرینگے۔ 

اس سلسلے میں بی این پی کوئٹہ کے دوستوں نے دس لاکھ روپے جبکہ بی این پی پنجگور کے دوستوں نے پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے دریں اثناء بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ امیدوار این اے272لسبیلہ گوادر سردار اختر جان مینگل مختصر دورے پر قاسم رونجھو ہاؤس بیلہ پہنچ گئے جہاں پر انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کی چیف منسٹری ہے نوکری تو ہم اس چیف منسٹری کے لےئے جدوجہد نہیں کرتے ہم اختیارات کے لےئے جدو جہد کرتے ہیں ۔

اختیارات ملے تو ہم عوام کی نوکری کرینگے بلوچستان میں امن و امان کو قائم کرنا جو کہ بلوچستان کے لےئے ضرورت ہے اقتدار میں اختیارات کی بات کرتے ہیں اختیارات کی چیف منسٹری سے عوامی مقاصد حل ہو سکتے ہیں سانحہ مستونگ واقعہ انتہاہی افسوناک ہے کئی جانیں ضائع ہوئی ہیں گو کہ بلوچستان کے حالات خراب ہیں لیکن انتخابات کا عمل جمہوری عمل ہے ۔

سردار اختر جان مینگل نے صحافیوں کے مختلف سوالوں کے جواب میں بتایا کہ بلوچستان کی ہر پارٹی کی خواہش ہوتی ہے کہ ہماری پوزیشن بہتر رہے لیکن میں بھی یہی خواہش رکھتا ہوں کہ بلوچستان بھر میں خصوصا لسبیلہ گوادر کی پوزیشن بہتر ہے لیکن الیکشن میں دعوی کرنے والی کارکردگی بھی عوام کے سامنے ہے ۔

عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا روز گار نہیں ملا عوام کے نمائندوں کا حق بنتا ہے کہ وہ عوام کے حقوق کے حصول میں کردار ادا کرکے عوام کو حقوق دلائے سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ لسبیلہ میں غربت اور تعلیمی پسماندگی اسکولز میں ٹیچرز نہیں بچوں کو پینے کے لےئے پانی نہیں عوامی نمائندے اگر ان مسائل کو حل نہیں کر سکتے تو کارکردگی کی بنیاد پر کیسے ووٹ مانگ رہے ہیں ۔

اس موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی لسبیلہ کے صدر واجہ قاسم رونجھو،سردار جہانزیب مینگل، غلام سرور جمعہ، سردار اورنگ زیب مینگل،عاصم ایڈوکیٹ رونجھو، بیرسٹر جہانزیب قاسم رونجھو،اشرف بیزان بلوچ کے علاوہ دیگر معززین بھی موجود تھے ۔

سردار اختر جان مینگل سے لسبیلہ کے مختلف علاقوں میں بیلہ، اوتھل ،لاکھڑا،گوٹھ اسماعیلانی کے لوگوں وفد کی صورت میں ملاقات کیں ملاقات میں پیپلز پارٹی کے اقبال قمر، مشتاق گلاب، ستار گلاب،لاکھڑا کے معززین دوست محمد خاصخیلی صدر پی پی پی لاکھڑا،امجد رجبانی کے علاوہ گوٹھ اسماعیلانی کے معززین میں محمد صالح،استاد محمد حسین، عبدالقادر،غلام حیدر،محمد رفیق، غلام مصطفی،کانکی کے معززین میں گل محمد گوارنجہ، عبداللہ گوارنجہ، یوسف گورانجہ،کے معززین نے ملاقاتیں کیں۔