|

وقتِ اشاعت :   October 11 – 2018

کوئٹہ: پاکستان میں متعین چینی سفیر یاؤ جنگ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت نے سی پیک معاہدہ پر نظر ثانی کی ہے اور راہداری منصوبے کو مزید وسعت دینے اور زیادہ تیزی سے کام کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔ اگلے مرحلے میں مشترکہ اور سماجی اقتصادی منصوبوں پر توجہ دینے ، بلوچستان اور خیبر پشتونخوا کو زیادہ وسائل اور منصوبے دینے کا فیصلہ ہوا ہے ۔ سی پیک میں سعودی عرب سمیت سرمایہ کاری کے خواہشمند کسی ملک یا کمپنی کی شمولیت پر اعتراض نہیں، انہیں راہداری منصوبے میں شمولیت پر خوش آمدید کہا جائیگا۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کی تجویز پر کوئٹہ میں سماجی اقتصادی سینٹر قائم کیا جائیگا۔یہ بات انہوں نے کوئٹہ کے دو روزہ دورہ کے اختتام پر پریس کلب کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر کراچی میں متعین سندھ اور بلوچستان کیلئے چین کے قونصل جنرل وانگ یو، گوادر پورٹ اورحبکو اورسیندک سمیت بلوچستان میں مختلف منصوبوں پر کام کرنیوالی چینی کمپنیوں کے حکام بھی موجود تھے۔ چینی سفیر یاؤ جنگ نے کہا کہ سی پیک معاہدہ ایک باقاعدہ فرہم ورک کے تحت ہوا ہے اور یہ دونوں حکومتوں کی ویب سائٹ پر موجود ہے کوئی بھی وہاں جاکر اس کا جائزہ لے سکتا ہے۔ نئی حکومت نے بھی اس کا جائزہ لیا ۔ 2013ء میں جب سی پیک کا معاہد ہ ہوا تو سابقہ حکومت قائم تھی۔ انتخابات کے نتیجے میں نئی حکومت بنی اور اس کا سی پیک کا جائزہ لینا او رنظر ثانی کرنا فطری بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ ہم نے اس معاہدے کا جائزہ لیا اور نظر ثانی کی لیکن یہ بھی سچ ہے کہ چین اور پاکستان کی حکومتیں سی پیک کو مزید وسعت دینے اور اس پر تیزی سے کام کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔سی پیک کے تمام زیر تکمیل منصوبوں پر دونوں ممالک کی جانب سے کام جاری جاری رکھنے اور انہیں مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اگلے مرحلے میں مشترکہ سرمایہ کاری اور سماجی اقتصادی شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔ ہم نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ مغربی صوبوں (بلوچستان اور خیبر پشتونخوا) کو مزید وسائل دیئے جائیں گے ۔حکومت نئے ایجنڈے ،وژن اور سوچ کے ساتھ آئی ہے تاہم معاہدہ میں یہ بات شامل ہے کہ ہر فیصلہ باہمی مشاورت سے کیا جائے گا۔ نئی حکومت کے ساتھ بات چیت کے بعد ہم آگے بڑھ رہے ہیں ۔یہ مشترکہ فیصلہ بھی ہوا ہے کہ سی پیک مزید قابل استعداد فریقین کی شمولیت کیلئے کھلا ہوگا ۔ سعودی عرب نے سی پیک منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے چین سمجھتا ہے کہ سی پیک ریجنل پلیٹ فارم ہے ہمیں سی پیک منصوبوں میں سعودی سرمایہ کاری پر کوئی اعتراض نہیں ۔ہم سی پیک میں شمولیت کے خواہشمند استعداد رکھنے والے ہر فریق کو خوش آمدید کہیں گے۔ یہ فریق کوئی مخصوص ملک ہی نہیں بلکہ کوئی بین الاقوامی اقتصادی ادارہ بھی ہوسکتا ہے۔ سی پیک میں پہلے ہی کئی دیگر ممالک کی کمپنیاں اور ادارے شامل ہیں ۔کراچی لاہور اور کراچی تا پشاور موٹر ویز پر ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور ایشین انفراسٹرکچر جیسے ادارے کام کررہے ہیں ۔ ہم نئی پاکستانی حکومت کے ساتھ اس بات پر متفق ہے کہ نئے شراکت داروں کو خوش آمدید کہا جائیگا۔ سی پیک سے متعلق بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کے اعتراضات سے متعلق سوال پر یاؤ جنگ نے واضح کیا کہ چین سی پیک کے مغربی اور مشرقی روٹ کی تفریق نہیں کرتا ہم پورے پاکستان کو دیکھتے ہیں ہم قومی اور ملکی سطح پر چلتے ہیں ۔ بعض حلقوں کی جانب سے شکایات ہوئی ہیں جسے ہم سمجھتے ہیں ۔ سی پیک میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران انفراسٹرکچر پر کام کیا گیا ۔سی پیک کے بیشتر پراجیکٹ گوادر میں ہی ہیں ۔ ہم گوادر کے علاوہ حب میں پاورپلانٹ کا بڑا منصوبہ چلارہے ہیں کوئٹہ میں فنی تربیت کا ادارہ بنایا جارہا ہے۔ سی پیک طویل مدتی منصوبہ ہے اور پانچ سال اتنے بڑے انفراسٹرکچر کے حامل منصوبے کیلئے کافی وقت نہیں مرحلہ وار آغے بڑھنے کیلئے مزید وقت چاہیے۔ بلوچستان طویل ساحلی پٹی رکھتا ہے لیکن ایسا گوادر کے علاوہ مزید پانچ سے چھ بندرگاہوں پر کام کرنا سائنسی طور پر درست نہیں ہوگا۔ جہاں انفراسٹرکچر موجود ہے اسے استعمال کیا جائیگا ۔ مغربی روٹس کیلئے بھی ہم موٹرویز اور ہائی ویز کے منصوبے رکھتے ہیں۔ گوادر کو افغانستان اور وسطی ایشیا سے منسلک کرنے کیلئے بلوچستان اور خیبر پشتونخوا اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں زرعی شعبے بالخصوص پھلوں کی پیداوار اور پراسیسنگ کے معاملے پر تکنیکی معاونت فراہم کرنے کریں گے۔صوبے میں لوگوں کی معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے چینی کمپنیاں اور حکومت اقدامات کرے گی ۔سی پیک کا سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کو ملنا چاہئے۔چینی سفیر نے بتایا کہ انہوں نے کوئٹہ کے دورے کے موقع پر بلوچستان کی نئی قیادت گورنر ، وزیراعلیٰ، اسپیکر، چیمبر آف کامرس، سیاسی و قبائلی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور پہلی دفعہ کوئٹہ میں چین کی قومی دن کی تقریب کا اہتمام کیا۔ انہوں نے بتایا کہ چین اور پاکستان دیرینہ دوست ہیں پاکستان میں وفاق اور صوبے میں نئی حکومت بننے کے بعد شراکت داری اور باہمی تعاون میں مزید وسعت آرہی ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان تمام ہی شعبوں میں تعاون ہورہا ہے ۔ بلوچستان سی پیک کے فریم ورک کا بہت اہم حصہ ہے۔ نئی حکومت کے ساتھ ہم نے سی پیک پر بات چیت کی ہے اب ہم سی پیک کا ایک نیا چہرا اور نیا مرحلہ دیکھنا چاہتے ہیں اس سلسلے میں نئی راہیں کھل رہی ہیں۔ بلوچستان سی پیک کے اگلے مرحلے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ گزشتہ پانچ سالوں میں ہم نے سی پیک کے ذریعے چار چار چیزوں پر توجہ دی جن میں گوادر پورٹ، انفراسٹرکچر ، توانائی اور اسپیشل اکناک زون شامل ہیں۔ اسپیشل اکنامک زون سے متعلق ہمارے مذاکرات جاری ہیں ہم اس کے تحت باہمی تعاون میں مزید وسعت لانا چاہتے ہیں۔ اگلے مرحلے میں مشترکہ سرمایہ کاری بالخصوص نجی سطح پر دو طرفہ کاروباری تعاون اوراسپیشل اکنامک زون پر توجہ ہوگی۔ سماجی اقتصادی شعبے کی ترقی کی یہ تجاویز نئی حکومت کی جانب سے آئی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان اور بلوچستان حکومت بھی نچلی سطح پر ترقی کے مواقع بڑھانے کے خواہشمند ہیں۔ وہ غربت کے خاتمے اور نچلی سطح پر ترقی کیلئے مقامی صنعتوں اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیت میں اضافہ چاہتے ہیں۔ چین بھی سی پیک کے فریم ورک میں ان شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔ چینی سفیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سے سی پیک سے متعلق تفصیلی بات چیت ہوئی۔ ہم نے ان سے تجاویز اور آئیڈیازلینے کیلئے یہاں آئے کہ چین کس طرح صوبے کی سماجی اقتصادی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان مقامی ضروریات کے بارے میں بہت واضح طور پر جانتے ہیں انہوں نے زراعت، آبپاشی، گلہ بانی، پھلوں کو محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے ،ان کی پروسسنگ اور بہتر مارکیٹنگ اور ساحلی علاقوں میں ماہی گیری کے شعبوں میں تکنیکی معاونت کی فراہمی پر زور دیا ہے۔ چین اس سلسلے میں ہر ممکن مدد فراہم کرے گی ۔ ہم نئی حکومت کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرینگے۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان وسائل سے مالا مال ہے خاص طور پر یہاں زراعت، گلہ بانی کے شعبوں میں باہمی طور پر کام ہوسکتا ہے اور ہم نے چیمبر ز آف کامرز کو بھی دعوت دی کہ مشترکہ طور پر کام کیا جائے۔ ہم مقامی سطح پر مینو فیکچرنگ کی استعداد میں اضافے میں مدد کرسکتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ چینی سرمایہ کاری ، مشنری اور ٹیکنالوجی کے ذریعے مقامی صنعتوں کو وسائل کی تلاش میں مدد دیں ۔ معدنیات، خوراک اور سمندری پیدوار کے ذریعے بلوچستان میں اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ مل سکتا ہے۔ہم نے ان شعبوں میں باہمی تعاون پر بھی بات چیت کی اور وفاقی سطح پر بھی ہم مختلف تجاویز پر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باہمی بات چیت میں اس چیز پر اتفاق پایا گیا ہے کہ سی پیک کے اگلے مرحلے میں پاکستان کے مغربی صوبوں بلوچستان اور خیبر پشتونخوا اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں مزید وسائل اور منصوبے دیئے جائیں گے ۔بلوچستان کو سی پیک سے زیادہ فائدہ ملنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت میں اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ سی پیک کے ذریعے مقامی اور روایتی تجارتی راہداریوں میں بھی تعاون کو بڑھانا چاہیے ۔افغانستان ، سینٹرل ، مغربی اور حتیٰ کہ سمندر پار مشرق وسطیٰ تک رسائی اور تجارت کیلئے بلوچستان انتہائی اہم ہے اور اس سلسلے میں بلوچستان کا مستقبل میں انتہائی اہم کردار ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ ہم باہمی روابط کو بڑھانا چاہتے ہیں ۔ بلوچستان میں چینی زبان کے مرکز، صوبے کے مختلف علاقوں میں فنی تربیت کے مراکز کے ساتھ کھیلوں کے فروغ میں بھی تعاون کو بڑھانا چاہتے ہیں۔ پاکستان اور چین روایتی دوست اور شراکت دار ہیں اورتقریباً معاشرے کے تمام ہی شعبوں میں باہمی تعاون موجود ہیں ۔ سی پیک اس باہمی تعاون کا ایک نیا حصہ ہے ۔ پاکستان میں بھی لوگ سی پیک کو ایک بڑے موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں ہم اس بات سے ماتفق ہے کہ سی پیک بلوچستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالے گا ۔ یہاں کی حکومتیں بھی خواہشمند ہیں اور میں نئی حکومت سے بہت متاثر ہوا ہوں کیونکہ ان کی ترجیحات میں عوام اور نچلی سطح پر ترقی ہیں۔ نئی حکومت سے بات چیت کے بعد ہم زیادہ اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ ہم پاک چین کے درمیان باہمی تعاون اور شراکت دار ی میں بلوچستان کو مزید فائدہ دینے سے متعلق تجاویز کا خیر مقدم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ چین بلوچستان کے طلبا کو سکالرشپ پروگرام جاری رکھے گا۔چین بلوچستان کے جاری منصوبوں میں آنے والے علاقوں تعلیم اور صحت کی سہولیات دی رہی ہے ۔پاکستان کے 22 ہزار طلبا ء چین میں تعلیم حاصل کررہے ہیں جو غیرملکی طلباء میں سب سے بڑی تعداد ہے۔ اس کے علاوہ چینی حکومت اور کمپنیاں سال دو سو سے پانچ سو طلبا کو سکالرشپ فراہم کررہی ہیں ۔ چینی سفیر نے کہاکہ چائنا یونیورسٹی بھی نوجوانوں کو اپنے طور ہر سکالرشپ دیتی ہے جو دنیا بھر کے طلباء کیلئے ہوتی ہے اس سے بلوچستان کے طلباء بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کوئٹہ میں قونصلیٹ کے قیام سے متعلق تجاویز اپنی حکومت کے سامنے رکھیں گے تاہم کراچی کا قونصل خانہ سندھ کے ساتھ ساتھ بلوچستان اور گوادر کے تمام پروجیکٹ اور معاملات کودیکھ رہا ہے ۔مستقبل میں ہم بلوچستان میں مختلف مراکز قائم کررہے ہیں ان مراکز میں بھی ویزا اور کاروباری سرگرمیوں سمیت مختلف سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ کراچی میں متعین چینی قونصل جنرل وانگ نے اس موقع پر گفتگو میں کہا کہ چینی سفیر کے دورہ کوئٹہ سے چین کے ساتھ باہمی تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔ ہم نے گزشتہ روز ایک ہزار اسکول بیگس، اسٹیشنری سیٹ اور دو ہزار فٹبال بلوچستان حکومت کو عطیہ کئے کیونکہ ہم صوبے میں تعلیم اور کھیلوں کا بھی فرو غ چاہتے ہیں۔ ہم پر امید ہیں کہ بلوچستان کا ایک روشن مستقبل ہوگا اور اس کی ترقی میں تعلیم بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیندک، حبکو ، گواد رپورٹ سمیت مختلف چینی منصوبوں پر کام کرنیوالی چینی کمپنیاں بلوچستان میں سماجی ذمہ داریوں کو بھی نبھارہی ہیں اور مقامی آبادیوں کو صاف پانی، تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں تعاون فراہم کررہی ہیں۔ دریں اثناء پا کستان میں متعین چینی سفیر مسٹر یاؤ جنگ(Mr.Yao Jing)نے کہا ہے کہ صنعت و تجا رت سے وابستہ افراد کسی بھی ملک اور صو بے کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ، سی پیک منصو بے اور چائنا پاک کوآپریشن میں پرائیویٹ سیکٹر کا کردار انتہا ئی اہمیت کا حا مل ہے ،اقتصادی ترقی اور معاشی خوشحالی کے لئے دونوں ما لک کے سر ما یہ کا روں کا جوائنٹ وینچروقت کی اہم ضرورت ہے،چین بلو چستان میں 5سے 10سوشل اکنا مک سیکٹر بنا نے کے لئے کو شاں ہیں ، ہم جا نتے ہیں کہ پا کستان اور بلو چستان میں لو گوں کی بڑی تعداد غر بت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے ،پا کستان اور بلو چستان میں غربت پر قا بو پا نے کے لئے اپنے ملک کے طرز پرمقا می افراد کو ہنر مند بنا نے و دیگر اقدا ما ت کے لئے ہمہ وقت تیا ر ہیں ، چینی سرمایہ کار اور بزنس مین بلوچستان میں زراعت، معدنیات، صنعت، توانائی اور دیگر شعبوں میں مقامی شراکت داروں کے ساتھ شراکت داری کرنے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں،اگلے سال فروری اور مارچ میں چائینز سرمایہ کار یہاں آئیں گے،براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ سے بلوچستان کی مقامی معیشت او ر سماجی شعبہ مستحکم ہوگا، خو شی ہے کہ اقتصادی اور معاشی ترقی کے لئے پاکستان کی نئی وفاقی اور بلوچستان کی صوبائی حکومتیں پر عزم ہیں،منرل پروسیسنگ اور زرعی شعبے ودیگر میں ہر ممکن تعاون کے لئے تیار ہے، کو ئٹہ میں قونصلیٹ کے قیام کے لئے اعلیٰ حکام سے با ت چیت کی جا ئے گی ،بلو چستان کے صنعت و تجا رت سے وابستہ افراد کو ویزوں کے اجراء کے لئے تما م تر آ سا نیاں پیدا کی جا ئیں گی ۔ان خیا لا ت کا اظہا ر انہوں نے ایوان صنعت و تجا رت کو ئٹہ کے دورہ کے موقع پر چیمبر آ ف کا مرس کے عہدیداران اور ممبران سے اظہار خیا ل کر تے ہو ئے کیا اس موقع پر چینی سفیر مسٹر یاؤ جنگ(Mr.Yao Jing) کے ہمرا ہ چین کے کراچی میں متعین قونصل جنرل اور بلوچستان کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والی چینی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیدار بھی مو جو د تھے ۔چینی سفیر اور ان کے وفد میں شامل دیگر حکام کا ایوان صنعت و تجا رت کو ئٹہ پہنچنے پر چیمبر آف کا مرس کے سنیئر نا ئب صدر صلاح الدین خلجی،نا ئب صدر یا سین رئیسا نی ،سابق نا ئب صدر محمد ایوب خلجی ،ایگزیکٹیو ممبران و دیگر نے استقبال کیا اور انہیں چیمبر آ ف کا مرس آ نے پر خوش آ مدید کہا ۔بعد ازاں ایوان صنعت و تجا رت کے سنیئر نا ئب صدر صلا ح الدین خلجی نے چیمبر آ ف کا مرس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر تے ہو ئے کہا کہ بلو چستان بیش بہاقد رتی معدنی وسا ئل سے ما لا ما ل ہے بلکہ اس کے پھل ،سبزی جا ت اور دیگر بھی اپنا ثا نی نہیں رکھتے ،پا کستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صو بے میں نہ صرف سی پیک کا محور گوادر مو جو د ہیں بلکہ یہ صو بہ افغانستان اور ایران کے ساتھ طویل سرحدات اور ساحل بھی رکھتا ہے بلکہ بلو چستان وسطی ایشیائی ریا ستوں کیلئے بھی گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے ، انہوں نے کہا کہ بلو چستان میں بیرو نی سر ما یہ کا روں کے لئے ما ہی گیری،زراعت، کا ن کنی ، گلہ با نی س،یت مختلف شعبوں میں وسیع مواقع مو جو د ہیں ،جن سے چینی سر ما یہ کا روں کو فا ئدہ اٹھا نا چا ہئے ،انہوں نے کہا کہ چیمبر آف کا مرس کو ئٹہ کی روز اول سے ہی کو شش رہی ہے کہ ہمسا ئیہ اور خاص چین جیسے دوست مما لک کے ساتھ مثالی تجا رتی تعلقات کو فروغ دیا جا سکے،انہوں نے بلو چستان کے صنعت و تجا رت سے وابستہ افراد کے لئے ویزوں کے اجرا ء کے لئے کو ئٹہ میں قونصلیٹ کھولنے،چیمبر اور سر ما یہ کا روں کے دو طرفہ وفود کے ایک دوسرے کے مما لک کے دورے کر نے ،صنعت کا ری و دیگر شعبوں میں دو طرفہ تعاون پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس سے دو نوں ما لک کے درمیان تجا رت میں پا ئے جا نے والے عدم توازن کا خاتمہ ہو گا بلکہ تجا رت کو فروغ ملے گا۔چیمبر آف کا مرس کے دورے کے موقع پرچینی سفیر مسٹر یاؤ جنگ(Mr.Yao Jing)نے اظہار خیا ل کر تے ہو ئے کہا کہ سب سے پہلے تو میں چیمبر آف کامرس کے عہدیداران و ممبران کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ہمیں یہاں آ نے کی دعوت دے کر عزت بخشی ہما را بلو چستان آ نے کا مقصد یہاں کی صنعت و تجا رت سے وابستہ افراد کے ساتھ مل کر ان کی تجا ویز اور آراء جا ننا ہے بلکہ ہم چا ہتے ہیں کہ بلو چستان کے سر ما یہ کا روں کے ساتھ چینی سرمایہ کار اور بزنس مین بلوچستان میں زراعت، معدنیات، صنعت، توانائی اور دیگر شعبوں میں مقامی شراکت داروں کے ساتھ شراکت داری کر تے ہو ئے ان شعبوں کو ترقی دیں ،انہوں نے کہا کہ اس دورہ بلو چستان کے دوران انہوں نے گو رنر اور وزیر اعلیٰ بلو چستان ،چیف سیکرٹری و دیگر حکام سے ملا قا تیں کیں انہیں خوشی ہے کہ نئی وفا قی اور حکومت ملک کو معاشی اور اقتصادی لحاظ سے ترقی کی راہ پر گامزن کر نے کے لئے ایک واضح ویژن رکھتی ہیں انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک اور صو بے میں اقتصادی اور معا شی خوشحالی کے لئے پرائیویٹ سیکٹر کا کردار انتہا ئی اہمیت کا حا مل ہوا کر تاہے اقتصادی ترقی اور معاشی خوشحالی کے لئے دونوں ما لک کے سر ما یہ کا روں کا جوائنٹ وینچروقت کی اہم ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ سی پیک منصو بے کے تحت گزشتہ پا نچ سال ہم نے پا ور پلانٹس و دیگر کے قیام یعنی انفرا اسٹریکچرپر کا م کیا اب سی پیک نئے اسٹیج پر ہیں اسی لئے دونوں مما لک کے درمیان ہم نئی اور مثبت تعاون چاہتے ہیں ،انہوں نے کہاکہ ہم حکومتی اور پرائیویٹ سطح پر پاکستان اور بلوچستان کی تیکنیکی ،مالی اور دیگر معاونت کیلئے تیار ہے ،انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں معدنیات بہت زیادہ ہیں کیوں نہ منرل پروسسنگ کیلئے جوائنٹ وینچر کیاجائے ،انہوں نے کہاکہ قونصل جنرل اور دیگر نے بھی بلوچستان کے صنعت وتجارت سے وابستہ افراد کے پوائنٹس نوٹ کرلئے ہیں،انہوں نے کہاکہ فروری یا پھر مارچ میں چینی سرمایہ کار پاکستان آئیں گے ،ہم لائیواسٹاک ،فشریز ،زراعت ،کانکنی ودیگر کیلئے ایک مضبوط مارکیٹنگ سسٹم، پروسسنگ نظام ودیگر چاہتے ہیں ،سیب کی جوس کیلئے چائنا بہت بڑی مارکیٹ رکھتاہے ہم بلوچستان کے ایکسپورٹر ز کو انکریج کرینگے ،انہوں نے کہاکہ اس میں شک نہیں کہ سی فوڈ کے حوالے سے بھی یہاں بہت سے مواقع موجود ہیں ،انہوں نے کہاکہ چین میں غربت کے خاتمے کیلئے جو طریقہ کار اختیار کیاگیاتھا اسی طرح ہم پاکستان اور بلوچستان میں بھی غربت کے خاتمے کیلئے کام کرینگے ،چینی سفیر نے بلوچستان میں 5سے 10سوشل اکنامک سینٹر بنانے کے عزم کااظہار کیا اور کہاکہ ہم مقامی افراد کو معاشی طورپر خوشحال کرنے کیلئے نہ صرف مختلف شعبوں میں تربیت دینگے بلکہ ان کی ہر ممکن معاونت کی جائیگی،انہوں نے کہاکہ ایجوکیشن سروسز سمیت دیگر بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہیں،انہوں نے کہاکہ ہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ سی پیک کیلئے نئے ورکنگ گروپس بھی بنارہے ہیں بلکہ ہم واضح کرناچاہتے ہیں کہ بلوچستان کی ترقی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں ،انہوں نے کہاکہ ہم سی پیک اور چائنا پاک کواپریشن کے تحت لوکل مینوفیکچرنگ ودیگر کی شروعات ومضبوطی چاہتے ہیں ہم دوطرفہ وفود کے ایک دوسرے کے ممالک جانے کے حق میں ہے انہوں نے کہاکہ ہمیں دوطرفہ تجارت میں عدم توازن کے خاتمے کیلئے بھی کوششیں کرناہونگی کیونکہ چین سے60بلین جبکہ پاکستان سے 2بلین کی ایکسپورٹ ہورہی ہے اس کیلئے ضروری ہے کہ ایکسپورٹ کوالٹی اور دیگر پر یہاں توجہ دی جائے ،یہاں کے پھل اپنا ثانی نہیں رکھتے اگر یہاں کے انار چین لائے جائیں تو شائد کوئی وہاں کے مقامی انار کا نہ پوچھے ،انہوں نے کوئٹہ میں قونصلیٹ کے قیام سے متعلق کہا کہ ہم اس مسئلے کو اعلیٰ حکام کے سامنے اٹھائیں گے ،ہم معاشی لحاظ سے ابھرتے بلوچستان کیلئے ہرممکن تعاون کیلئے تیار ہیں ،انہوں نے کہاکہ ہم بلوچستان کی صنعت وتجارت سے وابستہ افراد کو ویزوں کی اجراء کیلئے چاہتے ہیں کہ یہاں سے ایک فوکل پرسن مقرر کیاجائے ،انہوں نے کہاکہ ہم سی پیک اور چائنا پاک کواپریشن میں پرائیویٹ سیکٹر کو میجرحصہ دینا چاہتے ہیں ،انہوں نے کہاکہ ہم اس وقت بالکل بھی اچھا محسوس نہیں کرینگے جب یہاں کے صنعت وتجارت سے وابستہ افراد کو خدشات اور تحفظات ہوں ہم ان کی آراء اور تجاویز لیکر ان پرعملدرآمد کرائینگے ،اس موقع پر چیمبرآف کامرس کے سابق نائب صدر محمد ایوب خلجی ،سیف اللہ پراچہ ،بدرالدین کاکڑ،سید ظہور آغا،امجد صدیقی ایڈووکیٹ نے بھی چینی وفد کو مختلف تجاویز دیں اور انہیں بلوچستان میں موجود سرمایہ کاری کے مواقعوں سے آگاہ کیا ،چیمبرآف کامرس کے سابق نائب صدر محمد ایوب خلجی نے چیمبر آف کامرس کے پیٹرن انچیف غلام فاروق کی جانب سے چینی وفد کاشکریہ اداکیا اورکہاکہ ہم دوطرفہ تجارت کے فروغ کیلئے چین کے ساتھ ہرممکن تعاون کیلئے تیار ہے ،تقریب کے آخر میں چینی سفیر کو چیمبرآف کامرس کی جانب سے یادگاری شیلڈ پیش کیاگیا۔