امریکہ اور ایران کے درمیان حالات انتہائی کشیدگی اختیار کرتے جارہے ہیں ایک ایساماحول پیدا ہوچکا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایران پر امریکی دبا ؤ مزید بڑھے گا کیونکہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں مزید ایک ہزار فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جوکہ جنگی صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے جس کی سب سے زیادہ فکر پاکستانی سیاستدانوں کو ہونی چاہئے کہ اگر اس میں شدت آئی تو کیسی حکمت عملی اپنانی چاہئے مگر بدقسمتی سے اس وقت ملک میں سیاسی کشیدگی چل رہی ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ ملک کی واحد جماعت ہے جو صرف سندھ کے چند شہری علاقوں میں اکثریت رکھتی ہے جن میں کراچی سرفہرست ہے، متحدہ قومی موومنٹ کی تاریخی پس منظر کسی سے ڈھکا چھپا نہیں گوکہ اب اس جماعت میں تبدیلی آئی ہے۔
گزشتہ دس سالوں کے دوران ہونے والی کرپشن کے خلاف تحقیقات کو سراہا جارہا ہے کیونکہ ایک اچھا عمل ہے۔جس طرح سے کرپشن کے الزامات سیاستدانوں پر لگ رہے ہیں یہ ان کی ساکھ کو مجروح کررہا ہے اگر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے دور میں کرپشن نہیں ہوئی ہے تو یقینا وہ بھی اپنے دفاع میں قانونی راستہ اپناتے ہوئے دلائل اور ثبوت پیش کرینگے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے جس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔
ملکی سیاسی ماحول میں اچانک بہت بڑی تبدیلی دیکھنے کومل رہی ہے، پی ٹی آئی حکومت جب اپوزیشن میں تھی تو اس کی قیادت نے پہلے ہی عندیا دیا تھا کہ ملک سے چوروں، ڈاکوؤں کا خاتمہ کیاجائے گا۔
پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے خطے میں تجارتی ودفاعی حوالے سے بہت اہمیت رکھتا ہے مشرق وسطیٰ اور سینٹرل ایشیاء سے لیکر مغرب تک پاکستان باآسانی تجارتی حوالے سے رسائی حاصل کرسکتا ہے بدقسمتی سے گزشتہ کئی دہائیوں کی جنگی ماحول کی وجہ سے ایسا ماحول پیدا نہیں ہوا جبکہ سابقہ حکمرانوں نے بھی کسی ایسی پالیسی پر توجہ نہیں دی کہ کس طرح سے اپنی جغرافیائی اہمیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تجارت کو وسعت دیں۔
بلوچستان میں تعلیم اور صحت کے شعبے کی بجٹ میں مسلسل اضافہ کیاجارہا ہے، بارہا اس حوالے سے ماضی اور موجودہ حکومت کی توجہ مبذول کروائی گئی ہے کہ ان شعبوں کے لیے خطیر رقم مختص کرنے کے باوجودوہ اہداف حاصل نہیں کئے جارہے جس کی توقع تھی۔اب تک اربوں روپے دونوں شعبوں پر لگائے گئے مگر بدقسمتی سے تعلیم کی صورتحال جوں کی توں ہے۔
گزشتہ دودہائیوں سے ملک میں کرپشن کی شور سنائی دے رہی ہے، یہ پہلی حکومت نہیں کہ جو کرپشن سے پاک نظام کا دعویٰ کررہی ہے بلکہ اس سے قبل بھی اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے جمہوری وغیر جمہوری حکمرانوں نے عوام کو اس خوش فہمی میں مبتلا رکھا کہ کرپٹ لوگوں کا کڑا احتساب ہوگا۔جس کرب سے عوام گزررہی ہے۔
وزیراعظم عمران خان کا سابق صدر آصف علی زرداری، حمزہ شہباز کی گرفتاری پر کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پاکستان پر رحم آگیا ہے، جو لوگ پکڑے جارہے ہیں اس سے ہمیں فائدہ ہوگا۔کرپٹ افراد کی آگے بھی گرفتاریاں ہوں گی۔ وزیراعظم عمران خان نے یہ بات اپنی زیر صدارت تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کہی۔
ملک کی سیاسی تاریخ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہمیشہ کشیدہ رہی ہے یہ سلسلہ 70 سالوں سے چلتا آرہا ہے، البتہ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ملک کے اندر جمہوری اور غیر سرمایہ دار سیاسی جماعتوں کے اتحاد بنے جس میں ملک کے نڈر اور ایماندار سیاستدانوں نے اپنا کردار ادا کیا۔