امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے غزہ امن معاہدے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس پر تمام مسلم اور عرب ملکوں نے اتفاق کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے غزہ امن معاہدے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس پر تمام مسلم اور عرب ملکوں نے اتفاق کیا ہے۔
ملک میں موجودہ حکومت معاشی استحکام، عالمی سطح پر اہم ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کو مضبوط کرنے میں کامیاب ہورہی ہے۔
پاکستان کو غربت میں اضافے اور مہنگائی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جس کا براہ راست تعلق عوام سے ہے جو معاشی مسائل سے دوچار ہیں۔
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ریکو ڈیک منصوبے کے حتمی معاہدات اور مالی ذمہ داریوں کی منظوری دیتے ہوئے منصوبے کی مجموعی لاگت میں 14 فیصد اضافے کے بعد پہلے مرحلے فیز ون کے لیے 7.723 بلین امریکی ڈالر کی منظوری دی جبکہ پہلے تخمینہ 6.765 بلین ڈالر تھا۔
بلوچستان میں ہر چند ماہ بعد محکموں میں بے ضابطگیوں کی رپورٹ سامنے آتی ہے۔
گزشتہ دنوں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جون 2025 تک ملک پر قرضوں اور واجبات کے اعداد وشمار جاری کردئییجن کے مطابق وفاقی حکومت کا قرض مالی سال2025 میں 13 فیصد بڑھا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دارالحکومت ریاض میں باہمی دفاعی معاہدہ ہوگیا۔
بلوچستان اور ملک کے معاشی مستقبل گوادر میں بنیادی سہولیات کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے حکومت بلوچستان کی جانب سے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جارہے ہیں خاص کر گوادر میں پانی کا مسئلہ بہت دیرینہ ہے جہاں قلت آب کی وجہ سے لوگ شدید پریشان ہیں اورٹینکرز سے مہنگی قیمت پر پانی خرید کر اپنی ضروریات پوری کرنے پر مجبور ہیں۔
دور حاضر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم اظہار رائے، مکالمے، تشہیر کا ذریعہ بنا ہے جہاں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی رائے کا کھل کر اظہار کرتے ہیں جس میں مثبت اور منفی دونوں پہلو موجود ہوتے ہیں۔ اگر اخلاق کے دائرے میں رہ کر کسی سے اختلاف رکھا جائے تو یہ ایک اچھی بات ہے مگر بدقسمتی سے سوشل میڈیا کا غلط استعمال اب بہت زیادہ ہوتا جارہا ہے جس میں نفرت انگیزی، انتشار، شخصیات کی پگڑی اچھالنا شامل ہے ۔
ملک میں سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، خیبرپختونخواہ، پنجاب، گلگت بلتستان سب سے زیادہ متاثر ہیں، جانی و مالی نقصانات بڑے پیمانے پر ہوئے ہیں جبکہ سندھ بھی متاثر ہے مگر پنجاب اور کے پی میں زیادہ نقصانات ہوئے ہیں ،ایک ہنگامی صورتحال ہے لوگوں کے مکانات منہدم ہوئے ہیں ،فصلیں تباہ ہوئیں، انفراسٹرکچر بری طرح متاثر ہوا ہے، ایسے حالات میں عالمی مدد انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ نقصانات نہ ہوں، متاثرین کی بحالی کیلئے جنگی اقدامات کی ضرورت ہے۔