پی ٹی آئی اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ بات چیت کے بالکل موڈ میں نہیں ہے ان کی پہلی اور آخری چوائس اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کرنا ہے ۔پی ٹی آئی کی جانب سے سیاسی مذاکرات کے معنی اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات ہے جبکہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پی ٹی آئی کو کسی طرح کا بھی رسپانس نہیں مل رہا،تمام تر کوششوںکے باوجود بھی بات نہیں بن رہی۔ پشتون خواہ میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو سیاسی مذاکرات کی ذمہ داری دی گئی ہے جنہوں نے گزشتہ دنوں صدر مملکت آصف علی زرداری اور نواز شریف سے بات چیت کے متعلق بات کی تھی مگر اس بیان کے بعد پی ٹی آئی نے فوری ردعمل دیتے ہوئے پیپلز پارٹی، ن لیگ، ایم کیو ایم پاکستان سے کسی بھی بات چیت کیلئے انکار کردیا
حکومت نے آئندہ مالی سال 2024-25 کیلئے 8.5 کھرب خسارے پر مشتمل 18 کھرب 87 ارب سے زائد کا بجٹ پیش قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں اجلاس ہوا۔
پاکستانی شہریوں کو اپنے اور اہل خانہ کے شناختی کارڈ بنوانے کیلئے شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، معمولی تکنیکی مسائل پر انہیں سخت ترین شرائط سے گزارا جاتا ہے، ایسے متعدد کیس روزانہ نادرا آفس میں سامنے آتے ہیں اس کی وجوہات جاننا ضروری ہیں کہ کیونکر حقیقی ملکی شہریت رکھنے والوں کو نام ، پتہ یا دیگر کوئی معمولی تبدیلیجیسے کاموں کے لیے نادرا کے مختلف دفاتر کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں ۔چند صارفین کا یہ بھی شکوہ ہے کہ نادرا عملہ سے ہی ناموں کے اندراج کے دوران غلطیاں ہوتی ہیں کیا ایک اہم اور حساس ادارے میں اتنے نااہل لوگ بیٹھے ہیں جو دوران اندراج غلطی کر جاتے ہیں اور اس کا خمیازہ پاکستانی شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔
گزشتہ دنوں حکومت بلوچستان اور آکسفورڈ پاکستان پروگرام کے سمجھوتے کی دستاویزات پر دستخط ہوگئے ، اب بلوچستان کے طلباء سکالرشب پر اس نامور یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرسکیں گے اور اپنے صوبے کی خدمت کرسکیں گے۔
ملکی معیشت میں بہتری آرہی ہے، مہنگائی کی شرح بھی بدستور کم ہورہی ہے ملکی معیشت کی مستقل بہتری کیلئے سیاسی استحکام ناگزیر ہے جس کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کا کردار کلیدی ہے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کا آغاز انتہائی ضروری ہے ۔
صارم برنی کا کیس اس حوالے سے ایک بہت بڑا دھبہ ہے جس نے خود اس گھنائونے عمل کا اعتراف کرلیا ہے۔صارم برنی کچھ عرصے سے امریکا میں موجود تھے ،ان کے خلاف انسانی اسمگلنگ کی شکایات پر ایف آئی اے کی جانب سے انکوائری بھی چل رہی تھی۔
ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی آنے لگی ہے جس کے مثبت اثرات عام مارکیٹوں میں بھی نمایاں دکھائی دے رہی ہیں موجودہ حکومت کی معیشت پر توجہ اور ملک میں سرمایہ کاری لانے سے مستقبل قریب میں ملکی معیشت مزید بہتر ہونے کا امکان ہے۔