پاکستان نے ترقی و پیش رفت کی جانب آگے بڑھنے اور ملک کے مفلوک الحال عوام اور محکوم اقوام کو درپیش پسماندگی اور محرومی کے مسائل اور مشکلات کو حل کر کے ان کو فرمائشی بنیادوں پر سہولیات کی فراوانی نہ سہی تو کم سے کم حد تک بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیئے جہاں… Read more »
پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے پہلی دہائی کے دوران سول انتظامیہ کی معاونت سے اور پھر بعد میں اسٹیبلشمنٹ پرست اورعوام دشمن شخصیات یا سیاسی پارٹیوں کے تعاون سے اختیارات پر براہِ راست قابض ہو کر پاکستان کے عوام پر حکمرانی کی ہے جو موجودہ دور تک مختلف شکل میں ملک کے عوام پر مسلط ہے۔… Read more »
آئین میں متعینہ ادارتی فرائض اور ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ریاست کی معیشت اور کاروبار سمیت سیاست پر قابض طالع آزما وقتاً فوقتاً آئین کو ہی لپیٹ کر ملک کے دستور العمل کو سرِ بازار کاغذ کے ٹکڑوں سے تعبیر کر کے عملاً ثابت کرتے رہے ہیں کہ ہم جب چاہیں ملک کے آئین کو نہ صرف معطل کر کے کوڑے دان میں پھینک سکتے ہیں بلکہ عدلیہ کی ممد و معاونت سے نظریہِ ضرورت کے موثر نسخے کو استعمال کر کے اِسے موم کے ناک کی طرح مغرب اور مشرق کی طرف موڑ کر درمیان میں لٹکا بھی سکتے ہیں ۔
زندگی کے تمام تر شعبوں میں پستیوں سے دوچار ہونے کے باوجود پاکستان نے یکّہ و تنہا جس میدان میں کمال کی حد تک ترقی و پیش رفت کی ہے وہ میدان اِس کے سوائے اور کچھ بھی نہیں ہے کہ اس ریاست میں آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں لوگوں کی گفتگو کو ریکارڈ کر کے بوقت ضرورت نشر کیا جاتا ہے اب یہ ” دھندہ ” تعریف یا پھر مذمت کے قابل ہے اِس دو رخی سوال کو جواب کی تْشنگی کے ساتھ شاہی دربار میں سوالی بن جانے دیجیئے۔
عمران خان کے ہاتھوں سیاست، معیشت ، ثقافت، ہمسایہ ممالک سمیت بین الاقوامی تعلقات ، اخلاقی اقدار اور روایات کو زمین بوس کرنے کے بعد ملک کی تاریخ میں یکے بعدے دیگرے پروجیکٹوں کے ٹھیکیداروں نے لگتا ہے کہ
انسان چاہے کسی بھی مذہب یا قوم اور ملک کے ساتھ وابستگی رکھتا ہو یہاں تک کہ لادین ہی کیوں نہ ہو اگر وہ کوئی جرم یا گناہ کر بھی دے تو اْس کے لئے ملک کے مروجہ قوانین یا ملک و قوم اور سماج کی اقدار و روایات کے مطابق سزا کی ایک حد مقرر ہوتی ہے
76 سال گزر جانے کے بعد کچھ لوگ اگر اب بھی پْراْمید ہیں کہ کسی نہ کسی طور پر سیاسی پارٹیوں کی جہدِ مسلسل سے نہ سہی تو قْدرت کی نادیدہ برکات کے سبب پاکستان میں سماجی اصلاح اور سْدھار کی گنجائش موجود ہے تو اِس قسم کے لوگوں کے متعلق بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ
جب عوام الناس ملک کے سیاسی اور غیر سیاسی سربراہوں کو اکثر ٹی وی ٹاک شوز ، میڈیا کانفرنسز ، مباحثوں ، سیمیناروں اور اجتماعات وغیرہ کے دوران جوش اور جذبات میں گرجتے اور برستے دیکھتے ہیں تو وہ غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں