کوئٹہ میں میرے قیام کو ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔ کوئٹہ کی سردیوں میں ہیٹر کا مزہ لیتے ہوئے اکتا چکا تھا۔ باہر کی سرد ہوا کھانے کو من نہیں? کر رہا تھا۔ لیکن کمرے میں? مسلسل میری موجودگی میرے لیے ذہنی اکتاہٹ?کا سبب بن رہی تھی۔ سو، ذہن میں? کئی خاکے آئے133 کہاں کا انتخاب کیا جائے اور کیوں چلا جائے۔ سوال ذہن میں گردش کرتا رہا۔ خیال آیا کیوں نہ روزنامہ آزادی کے دفتر کا انتخاب کیا جائے۔ جو کسی زمانے میں? آواران سے میری خبری رپورٹنگ کا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔
اٹھارہ اگست 2009 کا سورج جیسے ہی طلوع ہوا, روزنامہ آساپ صحافت کی آبیاری کرتا ہوا غروب ہو چکا تھا۔ سورج نے دوبارہ طلوع ہونا تھا۔ پر آساپ کی کرنیں مدھم پڑ چکی تھیں. بلوچستان ایک حقیقی صحافتی ترجمان سے محروم ہونے والا تھا۔ آساپ کی بندش سے قبل اخبار کے مالک کو جان سے مارنے کی کوشش کی گئی۔ جان تو بچ گئی پر آساپ کو نہ بچا سکے ۔ یوں یہ اخبار صرف سترہ سال جی کر اٹھارہ اگست 2009 کو خالق حقیقی سے جا ملا۔۔ (انا للہ وان الیہ راجعون)۔ جان محمد دشتی لندن کو پیارے ہو گئے۔ آساپ کی جگہ ہسپتال نے لے لی۔ آساپ سے وابسطہ سو سے زائد ورکر بے روزگار ہو گئے۔
صدیق بلوچ روزنامہ ’آزادی‘ اور انگریزی اخبار ’بلوچستان ایکسپریس ‘کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ 40سال سے زائد صحافتی کیریئر رکھنے والے صدیق بلوچ بلوچستان کی سیاست اور معیشت پر گہری نظر رکھتے ہیں۔بلوچستانی سیاست اور معیشت پر ان کی ایک کتاب “Balochistan Its Politics and Economics” نام سے ہے۔ ’حال حوال‘ نے بلوچستان کے موجودہ بجٹ اور بلوچستان کی معیشت پر ان سے خصوصی گفتگو کی ہے۔ آئیے ملاحظہ کرتے ہیں۔
کیا انسان کو ایک دوسرے سے مکالمہ کرنا چاہیے کہ نہیں۔ وہ مکالمہ ہی بہتر ہوگا جو دلائل کی بنیاد پر ہو جو منطقی انجام تک پہنچانے کا راستہ فراہم کر سکے۔ جب تک مکالمہ نہیں ہوگا،ایک دوسرے کو سمجھیں گے کیسے، جانیں گے کیسے ،پھر ایک راستہ کیسے نکلے گا،
میرا ضمیر کبھی کبھار ایسے جاگ جاتا ہے بس میں سمجھتا ہوں کہ میں ہی ہوں کوئی اور تو ہے ہی نہیں اس دنیا میں ۔۔ میں اپنے من ہی من میں سوچتا ہوں کہ میں بہت اچھا کر رہا ہوں۔ اس دنیا کے باقی جتنے بھی لوگ ہیں ان سے بڑھ کر کوئی غلیظ نہیں۔
ان دنوں چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کا چرچا عام و خاص کی زبان پر ہے۔تعلیمی تباہی سے دوچار صوبہ بلوچستان جہاں سے اس کوریڈور کی گزرگاہیں ہوں گی۔ اکنامک زون لگائے جائیں گے۔ گوادر پورٹ بنے گی۔ اس کوریڈور کے لئے ہنرمند افراد کی ضرورت ہوگی جو اکنامک کوریڈور کی ضروریات پر پورے اترتے ہوں۔