تبدیلی کیوں نہیں آتی؟؟

Posted by & filed under خصوصی رپورٹ.

تبدیلی آنے میں اتنا وقت کیوں لگتاہے؟ جو تبدیلی کا نعرہ لگاتے تھکتے نہیں تھے وہ آج خود کیوں تبدیل ہو گئے؟ کیا تبدیلی کے لیے جو راستہ انہوں نے چنا وہ غلط تھا؟ وہ لوگ توقعات پر پورا اترنے میں کیوں کامیاب نہ ہو سکے؟ پھر سوال اٹھتا ہے کیا تبدیلی خود بخود آجاتی ہے یا اس تبدیلی کے لیے خود کو کسی راستے پر ڈالنا پڑتا ہے؟ کیا تبدیلی کے لیے صرف تبدیلی کی راہ دیکھنا کافی ہے؟ ملا کو مسجد میں تبدیلی کا نعرہ لگاتے سنا، سیاستدان کو انقلاب کا نعرہ لگاتے سنا، جج کو منصف ہونے کا دعویدار ہوتے دیکھ لیا۔ میڈیا کو معاشرتی سدھار کی صدا لگاتے دیکھا۔ نعرہ لگانے والے تو توانا ہوتے گئے مگر معاشرے میں تبدیلی کے کوئی آثار کہیں دکھائی نہیں دیئے۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں جہاں نئے مسائل نے جنم لیا وہیں معاشرے کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کے کئی

معذوروں کا عالمی دن

Posted by & filed under خصوصی رپورٹ.

آج بھی یہ سوال معاشرے کے ایوانوں میں گونج رہی ہے کہ کیا معاشرے نے معذور افراد کو اپنا حصہ بنا لیا ہے یا ابھی تک انہیں یہ احساس دلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ معاشرے میں ایک اور مخلوق کی صورت میں اپنا وجود رکھتے ہیں۔ 3دسمبر کو معذوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے اس دن کے منانے کا خاص مقصد معذوروں کے مسائل وضروریات نیز اسکی صلاحیتوں اور کارکردگی سے متعلق معاشرے اور حکومت کو متوجہ کرنا ہے۔ تاکہ مختلف اداروں کی بامقصد منصوبہ بندی ہوسکے۔اور آئندہ کا لائحہ عمل طے ہوسکے پاکستان کی قومی پالیسی 2007میں معذوروں کے حقوق اور حیثیت کا تعین کیا گیا ہے۔ لیکن اس پر عملدرآمد کے لئے جسطرح کے اقدامات کی ضرورت ہے

زمینی خوبصورتی اور انسانی کردار

Posted by & filed under خصوصی رپورٹ.

زندگی سے اگر قدرتی مناظر کو جدا کیا جا ئے تو یقیناًزندگی کی خوبصورتی برقرار نہیں رہ سکتی۔ کسی کامقولہ ہے کہ صبح اٹھتے ہی اگر آپکی نظریں سبزہ زار پر پڑ جائیں تو یقیناًآپکے دماغ کے دریچے کھل سکتے ہیں اور آپ کھل کھلا سکتے ہیں۔ تو یعنی انسان اور ان شجروں کا رشتہ صدیوں پرانا ہے اسی رشتے کو برقرار رکھنے کے لئے مہذب قوموں نے انکی بقاء کے لئے جدو جہد کی ہے اور عملی جدو جہد کی ہے۔ اور ماحول کو خوشگوار بنانے کے لئے اور اسے پروان چڑھانے کے لئے درختوں کو اگانے کا کام کیا ہے۔
ایک دن راہ چلتے چلتے اچانک میری نظر ایک ایسی درخت پر پڑی

اکیسویں صدی کا ٹڑانچ

Posted by & filed under خصوصی رپورٹ.

ٹڑانچ میں اکیسویں صدی ابھی تک نہیں پہنچی اس کے باسی آج بھی انیسویں صدی کے باشندے لگتے ہیں اور اسی میں جی رہے ہیں۔ آیا وہ اپنی اسی زندگی کے ساتھ خوش ہیں یا انہیں جینے پر مجبور کیا گیا ہے؟ ٹڑانچ کے بارے میں سنا تو تھا لیکن کبھی جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ بیلہ میں ٹڑانچ سے آئے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ نام پوچھنے پر ان میں سے ایک نے اپنا نام بابو بتایا۔ پہلے یہ سمجھا کہ چونکہ ہمارے ہاں کلرک کو بابو کہتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ یہ کسی ادارے میں ‘بابو گیری’ کا کام کرتے ہوں۔

یہ بی بی سی لندن ہے۔۔

Posted by & filed under خصوصی رپورٹ.

یہ بی بی سی لندن ہے اب آپ رضا علی عابدی سے خبریں سنئیے‘‘ اپنے دور کی خوبصورت آواز کے ساتھ ایک خوبصورت نام ۔ خبریں سننے کے لئے سامعین کی ایک بڑی تعداد ریڈیو کے گرد جمع ہوکر بیٹھ جاتے تھے۔ پھر کس کی مجال کہ دوران خبر کسی خبر پر تبصرہ کرتا بس ایک گھنٹہ ساکت ہوکر گزارنا پڑتا تھا۔