ایک تھا علی جان

Posted by & filed under کالم / بلاگ.

برادر اکمل شہزاد گھمن لکھاری ہیں براڈکاسٹر ہیں کتاب ’’میڈیا منڈی‘‘ کے مصنف ہیں۔ مہربان اور انسان دوست آدمی ہیں۔ جب اسلام آباد میں مقیم تھا تو کبھی ان کے ہاں محفلیں جمتی تھیں یا کبھی میرے پاس تو بلوچستان ضرور زیر موضوع آتا تھا۔ اب ان کا کوئٹہ آنا نہیں ہوتااور میں اسلام آباد جا نہیں پاتا تو فیس بک ہی واحد ذریعہ ہے جہاں اس کے پوسٹ دیکھ کر ان کی خیر خیریت کی خبر ہو جاتی ہے۔ 

دشت کا مسافر مسیحا

Posted by & filed under کالم / بلاگ.

؂قدیم عمارت کے سامنے چار موٹر سائیکلیں کھڑی ہیں۔ کرسی پر بیٹھا نوجوان ایک شخص کی آمد پر اٹھ کھڑا ہوتا ہے اس سے سلام و دعا کرتا ہے پھر بیٹھ جاتا ہے۔ آنے والا فرد ایک کمرے کے اندر داخل ہوجاتا ہے ہم بھی یہی عمل دہرا کر اس کے پیچھے پیچھے اسی کمرے میں داخل ہوجاتے ہیں۔ کمرے کے اندر مریضوں کا مجمع لگا ہوا ہے طبیب ایک مریض کو درد کا انجکشن لگانے میں مصروف ہے۔

احتساب کا ڈھول

Posted by & filed under کالم / بلاگ.

میرے سامنے اس وقت ایک تصویر آویزاں ہے۔آنکھوں پر سیاہ چشمہ لگائے اور دبنگ اسٹائل میں کھڑا یہ شخص کسی فلم کا ہیرو لگ رہا ہے۔ تصویر کے اردگر نظر دوڑاتا ہوں تو آس پاس کھڑے باادب افراد کو دیکھ کر پھر ذہن میں ولن کاخیال آتا ہے ۔ تصویر کے نیچے کیپشن پڑھتا ہوں تو لکھا ہوا نظر آتا ہے’’ سابق مشیر خزانہ خالد لانگو سیکرٹریٹ میں خالق آباد اور قلات کے عوام کے مسائل سن رہے ہیں‘‘۔ کیپشن پڑھتے ہی خیالات گھیرنا شروع کرتے ہیں اور سوالات گرد ڈیرہ جمالیتے ہیں۔ 

رنگ تماشا

Posted by & filed under کالم / بلاگ.

ستمبر 1939کو وارسا کے مقامی ریڈیو اسٹیشن پر جب جرمن حملہ ہوتا ہے تو ریڈیو اسٹیشن میں بیٹھا نوجوان پیانو بجا رہا ہوتا ہے۔ تمام عملہ جا چکا ہوتا ہے مگر پیانو بجانے میں مگن نوجوان کو دھماکہ، دھماکہ نہیں لگتا انگلیاں کی بورڈ پہ اس وقت تک چلتی رہتی ہیں جب تک دھماکہ اسٹیشن کی شیشوں کو توڑتا ہوا اسے زخمی نہیں کرتا۔ پولینڈ کا رہائشی نوجوان ایک یہودی خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ 

خودداری سوال کرتی ہے

Posted by & filed under کالم / بلاگ.

عجب غضب کی کہانیاں جنم لیتی ہیں ایسی کہانیاں بے سر و پا معاشرے میں گھومتی دکھائی دیتی ہیں۔ مگر خودداری کے ہاتھوں مجبور یہ کہانیاں کسی کے سامنے سوال نہیں کرتیں بلکہ خودداری ان سے سوال کرتی رہتی ہے سوال در سوال کرتی رہتی ہے مگر انسان ہے کہ مجبور اپنی فطرت اور حالات کے آگے کبھی گھٹنے ٹیک ہی دیتی ہے۔ بس پھر کیا ہے کہ خودداری سوال کرنا چھوڑ دیتی ہے آدمی خودداری سے سوال کرنا شروع کر دیتا ہے۔یہ سوال وہ سوال مگر جواب گمشدہِ خاک۔ کہاں تلاش کریں۔ 

تعلیمی بوٹی پر چٹخارہ دار مصالحوں کا تجربہ

Posted by & filed under کالم / بلاگ.

میرا دوست کہتا ہے کہ آدمی کو کبھی بھی ایک خوراک ہضم نہیں ہوتی وہ خوراک بدلتا رہتا ہے۔ کبھی گوشت تو کبھی سبزی، کبھی دال چاول وغیرہ وغیرہ۔۔ یہ تو اچھا ہی ہے کہ پانی کوئی ذائقہ نہیں رکھتا ورنہ آدمی بوقت ضرورت اسے تبدیل کرنے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتا۔

حمل کلمتی کی بے بسی

Posted by & filed under کالم / بلاگ.

کہتے ہیں کہ بچہ جب تک روئے نہیں ماں اسے دودھ نہیں پلاتی۔ حالانکہ ماں کو بخوبی پتہ ہوتا ہے کہ بچہ کب سیرِ شکم ہوگا اور کب خالی پیٹ۔ بچہ جب بڑا ہو جائے تو اس کے چھوٹے موٹے مطالبات سامنے آتے رہتے ہیں کچھ پورے ہوتے ہیں کچھ سنی سن سنی کردی جاتی ہیں۔ کچھ بچے خاموشی اختیار کرتے ہیں اور کچھ بچے مار پیٹ کر تے ہیں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ناراض ہو کر چلے جاتے ہیں۔ بچے اور گھر والوں کے درمیان انا کا مسئلہ آجاتا ہے نہ گھر والے بچے کو مناتے ہیں اورنہ ہی بچہ مان کر واپس آجاتا ہے ۔

آواران کی سڑکیں قدوس بزنجو کی راہیں تھک رہی تھیں

Posted by & filed under خصوصی رپورٹ.

انسان کو زندہ رہنے کے لیے خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ رہنے کے لیے مکان کی، بولنے کے لیے زبان، دیکھنے کے لیے آنکھیں اور چلنے کے لیے پاؤں کی۔ غرض ایک معیاری زندگی گزارنے کے لیے انسان کو بنیادی سہولیات سے آراستہ ہونے، فاصلوں کو کم کرنے کے لیے سواری،رابطے کے لیے موبا ئل فون اور انٹرنیٹ وغیرہ وغیرہ کی ضرورت پڑتی ہے۔

اغواکار بمقابلہ سرکار

Posted by & filed under کالم / بلاگ.

نیورو سرجن ڈاکٹر ابراہیم خلیل 48روز بعد بازیاب ہو کر گھر واپس پہنچ گئے ،زندہ واپسی کی خبر ان کے اہل خانہ کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ ان کی یہ بازیابی تاوان کے عوض عمل میں آئی۔ 13دسمبر 2018کو شہباز ٹاؤن کوئٹہ سے انہیں اغوا کیا گیا تھا جبکہ ان کی بازیابی کراچی سے عمل میں آئی ۔

جدوجہد جاری رہے

Posted by & filed under کالم / بلاگ.

کینسر کے مرض میں مبتلا دس سالہ حمل ظفر آغا خان ہسپتال کراچی میں زیرعلاج ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے خطیر رقم کے مطالبے نے ان کے والد ظفر اکبر اور دیگر ساتھیوں کو سوشل میڈیا پہ تعاون کی اپیل کرنے پر مجبور کیا۔ اپیل کے بعدبڑے پیمانے پر چندہ مہم کا سلسلہ شروع کیا گیا۔