بلوچستان کے مکران ڈویژن میں تعلیم دشمن عناصر ایک مرتبہ پھر سرگرم ہوگئے ہیں۔ تعلیمی اداروں کو جلانے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ۔ یکے بعد دیگرے اسکولوں کو نذرآتش کیا جارہا ہے۔ یہ واقعات بلیدہ، تربت، پسنی اور دیگر علاقوں میں رونما ہورہے ہیں۔ جس کا مقصد علاقے میں ایک ڈر اور خوف پھیلانا ہے۔ ان عناصر کو سرپرستی حاصل ہے۔ بغیرسرپرستی کے ایسے واقعات ممکن نہیں۔ 27 اکتوبر 2023 کو ساچ پبلک اسکول میناز بلیدہ پر فائرنگ کی گئی۔ دیواریں گولیوں سے چھلنی ہوگئیں۔
بحریہ ٹاؤن کے سربراہ و بانی ملک ریاض بے لگام گھوڑے کی طرح سندھ کی زمینوں پر قابض ہیں۔ ہزاروں ایکڑ اراضی کو اونے پونے داموں لے چکا ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے آنکھیں بند کرکے سرکاری اور مقامی سندھی اور بلوچوں کی اراضی ملک ریاض کی جھولی میں ڈال دی۔ انڈیجینیس لوگوں کی جانب سے مزاحمت کرنے پر سرکاری مشینری استعمال کی گئی۔ جعلی اینکاؤنٹر اسپیشلسٹ راشی پولیس افسران کا استعمال کیا گیا۔ مقامی لوگوں کو اغوا کیا گیا۔ گن پوائنٹ پر مقامی لوگوں سے ان کی جدی پشتی اراضی کے دستاویزات پر دستخط کروائے گئے۔
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی واپسی پر انگریزی روزنامے دی نیوز نے اپنے اداریئے میں لکھا کہ پنجاب کے فرزند کی واپسی۔ مسلم لیگ ویسے تو پاکستان کی بڑی جماعت ہونے کا دعویدار ہے لیکن کیا حقیقت میں میاں نواز شریف پنجاب کے ہی لیڈر ہیں؟ یہ سوال یقیناً دوبارہ زیر بحث ہے۔
پاکستان روئے زمین پر شاید وہ واحد ملک ہے کہ جہاں انتخابات میں کامیابی سے لے کر حکومت سازی کے سفر تک کسی کو معلوم نہیں پڑتا کہ بھاری اکثریت کس کو حاصل ہو گی ؟پاکستانی سیاست کے تناظر میں اِس پیچیدہ سوال کو سمجھنے کے لیے ہر خاص و عام کو ادارہ جاتی سرویز پر نظریں جما نے کی ہر گز ضرورت پیش نہیں آتی ۔
بلوچستان، پاکستان کا سب سے محروم صوبہ ہے جس کی کوریج کے ہر پہلو کو مین سٹریم میڈیا نے نظر انداز کیا ہے۔ نیوز چینلز، اردو اور انگریزی کے قومی اخبارات اسے اس طرح نظر انداز کرتے ہیں جیسے یہ پاکستان کا حصہ ہی نہیں۔ موجودہ دور میں مین اسٹریم میڈیا کی جانب سے نظر انداز کرنا صوبے کی حالت زار کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
صوبہ پنجاب کی موجودہ آبادی بارہ کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے۔ یہ دنیا میں دس کروڑ آبادی رکھنے والے آٹھ ممالک سے زیادہ نفوس پرمشتمل ہے۔ پنجاب کی آبادی کو مزید صوبوں میں تقسیم کرنا ناگزیر ہے۔ یہ سیاسی بنیادوں پر نہیں بلکہ انتظامیہ بنیادوں پر ضروری ہے تاکہ موجودہ صوبہ پنجاب کے پسماندہ علاقوں کی پسماندگی دور ہوسکے۔ پنجاب کی تقسیم ملکی مفاد میں ہے۔ موجودہ صوبہ پنجاب میں الگ الگ زبان، ثقافت اور نسل کے لوگ آباد ہیں۔ ان کی بھی پنجابیوں کی طرح ایک الگ شناخت ہے۔ جو ایک تاریخی حقیقت ہے۔
مانا کہ قومی اسمبلی میں بلوچ نمائندوں کی تعداد آٹے میں نمک سے بھی کم ہے ۔ ،اِس کلمیاتی مظہر کو وسعت دیکر ہم اِس نکتے کے ساتھ جوڑ دینے کی کوشش کریں گے۔ کہ کے پی کے اور سندھ کے تمام ممبران کو بلوچ نمائندوں کے ساتھ ملا کر یکجا کر دیا جائے تو… Read more »
سب جانتے ہیں کہ اِس خطہِ ارض میں تجارتی اور کاروباری مقاصد کی توسیع و تکمیل کے لیے اگر پاکستان کو کوئی حیثیت حاصل ہے تو اِس کا ستون بلوچستان کا جغرافیائی محل وقوع ہے بلوچستان عالمی تجارتی گزرگاہوں کی شہ رگ پر واقع ہونے کے سبب بلوچ قوم کے لیئے اْنکے آبا ؤ اجداد کی دْور اندیشانہ ذہانت اور قدرت کی جانب سے ایک انمول تحفہ ہے۔ بلوچستان اپنے وسیع و عریض ساحل سمندر اور قدرتی وسائل و معدنی ذخائر کی بنا پر بھی ایک اہم سر زمین ہے ان خطوط پر دیکھا جائے تو بلوچ وطن کو تو ترقی و خوشحالی کے دائمی نقش و پیکر اور معراج سے آگے مواصلاتی ساخت کے اعتبار سے زیب و زینت اور دلکشی میں روئے زمین پر شداد کی جنت نْما پْر تکلف باغ سے دوبالا اور آرام و آسائش کا منبع ہونے کے سبب جنت نظیر ہو جانا چاہیئے تھا۔
‘‘پاک چائنہ ایکانومک کوریڈور’’ (سی پیک) کھٹائی میں پڑگیا۔ منصوبہ اپنے سیکنڈ فیز میں داخل ہونے کے لئے فنڈز کی کمی کا سامنا کررہا ہے، منصوبے کے پہلے فیز پر چین اب تک 26 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے، جبکہ اس منصوبے کا کل تخمینہ 50 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔