کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی صدارت میں 55 منٹس کی تاخیر سے شروع ہوا، جس کے ایجنڈے میں توجہ دلاؤ نوٹس، آڈیٹ رپورٹس، غیر سرکاری قراردادیں اور وقفہ سوالات شامل تھے۔ اجلاس کے دوران سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے ارکان منظور کاکڑ، بلال احمد اور دیگر سینیٹرز نے بلوچستان اسمبلی کا دورہ کیا اور اسمبلی کی کارروائی کا مشاہدہ کیا۔ اجلاس میں وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی کی جانب سے بخت محمد کاکڑ نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی مختلف رپورٹس ایوان میں پیش کیں، جن میں پرفارمنس آڈیٹ رپورٹ برائے پیکیج آف کچھی واٹر سپلائی پروجیکٹ فیز II، نصیر آباد بابت مالی سال 2014 تا 2023 (آڈٹ سال 2023-24)، اسپیشل آڈیٹ رپورٹ برائے اکاؤنٹس آف دی پروونشل کوآرڈینیٹر ایکسپینڈڈ پروگرام آن ایمیونائزیشن (EPI) مالی سال 2018-19 تا 2022-23، آڈٹ رپورٹ ان دی اکاؤنٹس آف دی گورنمنٹ آف بلوچستان (آڈٹ سال 2024-25)، اور آڈٹ رپورٹ ان دی اکاؤنٹس آف لوکل گورنمنٹ اینڈ لوکل کونسلر بلوچستان (آڈٹ سال 2024-25) شامل تھیں۔