کوئٹہ:پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما، سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اور چیف آف جھالاوان نواب ثناءاللہ خان زہری نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ بیک وقت کئی شہروں پر حملوں کا مقصد پورے صوبے کی صورتحال کو سبوتاژ کرنا اور عوام کو یرغمال بنانا تھا تاہم بلوچستان کے غیور عوام اور سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے اس ناپاک خواب کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے
کوئٹہ:سینئر صوبائی نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان و صوبائی وزیر زراعت و کوآپریٹو بلوچستان میر علی حسن زہری نے کوئٹہ، نوشکی، مستونگ، قلات، خاران، گوادر اور پسنی سمیت بلوچستان کے مختلف شہروںمیں ہونے والے بیک وقت دہشت گرد حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے حمایت یافتہ فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی یہ بزدلانہ اور گھناونی کارروائیاں پاکستان کے امن، سلامتی، خودمختاری اور ترقی کے سفر کو سبوتاڑ کرنے کی ناکام کوشش ہیں، جنہیں کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔انہوں نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ کوئٹہ سمیت دیگر شہروں میں سرکاری املاک اور ریڈ زون کے قریب حملے دشمن کی بوکھلاہٹ اور شکست خوردگی کا واضح ثبوت ہیں تاہم ہماری بہادر سیکیورٹی فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو پسپا کر کے نہ صرف بڑے جانی نقصان سے بچایا بلکہ قوم کے حوصلے بھی بلند کیے، جو قابل تحسین اور قابل فخر اقدام ہے۔
بی بی سی میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق مستونگ پولیس حکام کے مطابق مستونگ جیل پر ہونے والے حملے کے دوران 27 قیدی بھی جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔نوشکی ضلع نوشکی میں حکام کے مطابق ڈپٹی کمشنر کے گھر پر بھی حملہ کر کے اُنھیں یرغمال بنا لیا گیا ہے۔مقامی پولیس اہلکار کے مطابق خاران میں ملازئی قومی اتحاد کے چیئرمین میر شاہد گل ملازئی کے گھر پر ہونے والے حملے میں شاہد گل سمیت سات افراد جان کی بازی ہار گئے۔ پولیس کے مطابق اُن کے گھر اور گاڑی کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا۔
لاہور:وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فتنہ الہندوستان کی جانب سے بلوچستان کے امن کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کو بری طرح ناکام بنانے اور دشمن کے ارادوں کو خاک میں ملانے پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و جوانوں کو شاباش دی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کی اور حملے ناکام بنانے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کیا۔
کوئٹہ : گزشتہ 12 ماہ کے دوران بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے 700 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک، جبکہ صرف گزشتہ دو دن میں 70 کے قریب دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا گیا ہے۔
کوئٹہ: جمال رئسانی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا بلوچستان میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کے بعد ممکنہ جوابی کارروائیوں کو سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے ذریعے ناکام بنانا اُن کی مضبوط آپریشنل تیاری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے مشیر نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان میں چند مقامات پر شدت پسندوں نے حملوں کی کوشش کی ہے جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ناکام بنا دیا ہے جبکہ دوسری جانب کوئٹہ شہر میں دھماکوں اور فائرنگ کے بعد ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے۔