قندھار / چمن: طالبان کی جانب سے باب دوستی گیٹ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد پاکستان نے افغان سرحد سیل کردی۔ افغان طالبان کی جانب سے افغانستان کے بیشترعلاقوں کے بعد چمن سے متصل باب دوستی گیٹ کا کنٹرول بھی سنبھال لیا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحد سیل کردی گئی ہے، اور سیکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔
جوہانسبرگ: جنوبی افریقہ میں سابق صدر کو جیل بھیجنے پر ہنگامے پھوٹ پڑے جس میں 45 افراد ہلاک ہو گئےجنوبی افریقہ میں سابق صدر جیکب زوما کی گرفتاری کے بعد مظاہرین نے بیشتر شاپنگ مالز، بینک اور دفاتر لوٹ لیے۔ اس دوران پولیس نے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا۔
برسلز: یورپین کمیشن نے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر پاکستان اور ایران کے لیے امداد کا اعلان کر دیا۔یورپین کمیشن کے مطابق پاکستان اور ایران کو 2 کروڑ 20 لاکھ یورو کی امداد دی جائے گی جبکہ پاکستان کو 70 لاکھ یورو کی امداد غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعہ دی جائے گی جو افغان مہاجرین، میزبان کمیونٹیز کے لیے کام کر رہی ہیں۔
مشرقی چین کے شہر سوزہو میں سیجی کیؤان ہوٹل کی عمارت گرنے سے کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور متعدد لاپتہ ہوگئے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق وزارت برائے ہنگامی صورتحال کی انتظامیہ نے جائے وقوعہ کی طرف امدادی ٹیمیں روانہ کر دی ہیں۔
بغداد:عراق میں کورونا مریضوں کے لیے مختص اسپتال میں آتشزدگی سے 52 افراد ہلاک ہوگئے۔ عراق کے جنوبی صوبے ذی قار کے شہر ناصریہ میں کورونا مریضوں کے لیے مختص اسپتال میں آتشزدگی کے باعث 52 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، واقعہ کے بعد شہری دفاع کی ٹیموں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر آگ بجھانے کے لیے امدادی کارروائیاں شروع کردیں اور زخمیوں کو دوسرے اسپتال منتقل کیا۔
عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ لوگ کورونا کی ایک سے زائد قسم کی مختلف ویکسین نہ لگوائیں۔ڈبلیو ایچ اوکی چیف سائنٹسٹ کا کہنا ہے کہ ایک سے زائد کمپنیوں کی ویکسین لگوانا خطرناک رجحان ہے کیونکہ اس کے صحت پر اثرانداز ہونے سے متعلق اعداد و شمار انتہائی کم ہیں۔
اسلام آباد: مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا نے کبھی پاکستان میں فوجی اڈے نہیں مانگے، پاکستان میں یہ مسئلہ توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جس پر واشنگٹن میں سب کو حیرانی ہے۔تفصیلات کے مطابق مغرب کے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا نے پاکستان میں کبھی فوجی اڈے نہیں مانگے، مغرب کے ایک سینئر سفارت کار کا اپنا نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جس نے فوجی اڈے کی درخواست کی ہو لیکن اس کے باوجود یہ مسئلہ پاکستان میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔