صدیق بلوچ کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کوئٹہ میں جاری

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ: نامور صحافی صدیق بلوچ کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی آج سے کوئٹہ میں ہوگی، بی این پی عوامی ،عام لوگ پارٹی سیاسی وسماجی رہنماؤں کا انتقال پر اظہار افسوس، پنہور سنہڑی پریس کلب میں تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا۔



بزرگ صحافی و دانشورصدیق بلوچ کیلئے فاتحہ خوانی جاری،اہم شخصیات نے تعزیت کی

| وقتِ اشاعت :  


کراچی :  بلوچستان کے نامور سینئر صحافی، بزرگ دانشور اور روزنامہ بلوچستان ایکسپریس اور روزنامہ آزادی کوئٹہ کے ایڈیٹر صدیق بلوچ کے انتقال کے تیسرے روز بھی لیاری میں ان کی رہائش گاہ پر تعزیت کیلئے سیاسی و سماجی شخصیات اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا تانتا بندھا رہا۔



دانشوروبزرگ صحافی صدیق بلوچ اب ہم میں نہیں رہے

| وقتِ اشاعت :  


کراچی (اسٹاف رپورٹر) سینئر صحافی اور زرنامہ بلوچستان ایکسپریس اور روزنامہ آزاذی کوئٹہ کے ایڈیٹر صدیق بلوچ منگل کی صبح کراچی میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 78 سال تھی۔ انہوں نے شعبہ صحافت میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔



سینٹ الیکشن میں ہم خیال گروپ کی کامیابی کیلئے کوشش کرینگے، قدوس بزنجو

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ : وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہاہے کہ سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ نہیں ہونے دیں گے ہم اپنے ہم خیال گروپ کے حمایت یافتہ امیدواروں کو کامیاب بنانے کیلئے کوشش کرینگے آصف علی زرداری مقبول لیڈر ہے ۔



بھارتی فوج کا جبر کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو نہیں کچل سکتا، آرمی چیف

| وقتِ اشاعت :  


 راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ بھارتی فوج کا جبر کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو نہیں کچل سکتا اور تمام تر مشکلات کے باوجود کشمیریوں کی جدوجہد آزادی انشاءاللہ کامیاب ہوگی۔



وزیر اعلیٰ قدوس بزنجو نے بلوچستان میں روایتی طرز حکمرانی کو تبدیل کر کے رکھ دیا

| وقتِ اشاعت :  


کو ئٹہ: 13 جنوری 2018 کو میر عبدالقدوس بزنجو نے بلوچستان کے 16 ویں وزیراعلیٰ کے طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھایاتو عام خیال تھا کہ چندمہینوں کی حکومت ملنے جلنے اور رسمی ملاقاتوں اور اجلاسوں کے بعد ختم ہوجائے گی۔



دہشتگردوں کے پناہ گاہوں کیخلاف امریکی کمانڈرزکو اختیارات دیدیئے گئے

| وقتِ اشاعت :  


واشنگٹن : وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جنوبی ایشیائی پالیسی کے تحت پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے نمٹنے کے لیے خطے میں موجود امریکی کمانڈرز کو ضروری وسائل اور اختیارات دے دیے ہیں۔