دشتِ مکران کا نام سنتے ہی ذہن میں امن و امان کی خراب صورتحال آتی ہے۔ آئے دن جھڑپوں اور مقابلوں کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ لاشوں کا ملنا کوئی نئی بات نہیں۔ آج دشت مکران وار زون میں تبدیل ہوچکا ہے۔ موجودہ خراب صورتحال کے پیچھے لوگوں کی محرومیاں ہیں۔ کیونکہ احساس محرومی ایک انسانی کیفیت ہے جو کسی بھی احساسِ محرومی کے مریض میں جذبات، کسی پریشانی یا غصے کے نتیجے میں واقع ہوتے ہیں۔احساسِ محرومی وہ دماغی یا ذہنی ناخوشگوار کیفیت ہے جو اپنے مقصد یا خواہشات کے پورا نہ ہونے پر محسوس کی جاتی ہے۔
بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اگر یوں کہا جائے کہ صرف بلوچستان ہی ملک کے آدھے حصے پر مشتمل ہے تو بیجا نہ ہوگا۔ 1972سے بلوچستان کو صوبے کا اسٹیٹس ملنے کے بعد بلوچستان کو وفاق میں ہر دور میں ہی نظر انداز کیا جاتا رہا ہے بلکہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ وفاق میں بلوچستان کے ملازمتوں کا کوٹہ انتہائی کم ہے یا یوں کہیئے کہ یہ کوٹہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے بلوچستان کی کل آبادی ایک کروڑ تیس لاکھ کے لگ بھگ ہے جس کے لیے وفاقی محکموں اور ملازمتوں میں صرف چھ فیصد ملازمتوں کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔
کتب خانہ ایک ایسا ادارہ ہے جہاں کتابوں کی شکل میں انسانی خیالات، تجربات اور مشاہدات کی حفاظت کی جاتی ہے تاکہ ایک شخص کے خیالات سے نہ صرف اس کی نسل بلکہ اس کے بعد آنے والی نسلیں بھی استفادہ کرسکیں۔کتاب، مکتب اور مکتبہ، یہ تینوں چیزیں قوموں کی زندگی میں بڑی اہمیت کی حامل ہوا کرتی ہیں۔ ہر قسم کی ترقی کے دروازے انہیں کنجیوں سے کھْلا کرتے ہیں۔ یہ تینوں حصولِ علم و تعلیم کے بنیادی ذرائع ہیں۔ علم، نور ہے۔ علم، انسانیت کا زیور ہے۔ علم ہی سے جائز و ناجائز میں فرق کیا جاتا ہے۔ دین و دنیا کی ساری کامیابیاں اور بھلائیاں اسی علم پرموقوف ہیں۔
پولیو ایک ایسی بیماری ہے جو بچوں میں عمر بھر کی معذوری پیدا کرتی ہے اس کا کوئی علاج نہیں مگر حفظ ما تقدم کے طور پر پولیو کے قطرے پلا کر ہم اپنے بچوں کو اس موذی مرض سے نجات دلا سکتے ہیں اس کے علاوہ بچوں میں پیدا ہونے والی 9 دیگر بیماریاں بھی ہیں جو بچوں کی شرح اموات میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں، بچوں کا ان بیماریوں سے تحفظ اس وقت یقینی بنائی جا سکتی ہے جب ان بیماریوں کے خلاف انکی ویکسسینیشن ہوگی- بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اب بھی پولیو اور خسرہ جیسی بیماریاں دندناتے پھر رہی ہیں جہاں باقی دنیا نے ان بیماریوں پر قابو پا لیا ہے۔
نظام انصاف کا معاملہ یہ ہے یہاں دہشت گردوں کے ”حقوق“ کی بڑی فکر ہے۔ پشاور ہائیکورٹ نے کیوں سینکڑوں دہشت گردوں کو ’بے قصور‘ قرار دیا؟ اسی طرح ڈینیئل پرل کے قاتلوں کے بارے میں عدالتی فیصلے کو کیا کہیں گے؟دنیا کی کس تہذیب یافتہ معاشرے میں دہشت گردوں کو کھلا چھوڑنے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟ ایسے فیصلوں سے ہمارے عدالتی نظام کی جگ ہنسائی ہوتی ہے۔ اگر قانون نافذ کرنے والی قوتوں کو اعلیٰ عدلیہ اس طرح بے دست وپا کردے گی تو ملک میں امن عامہ کا بحران مزید سنگین ہوگا۔ سونے پر سہاگا یہ کہ عدالتوں سے کرپٹ عناصر کو کمزور بنیادوں پر ضمانتیں مل جاتی ہیں جس کی وجہ سے احتساب مذاق بن کر رہ گیا ہے۔
ریاست مدینہ مسلمانوں اور کفار دونوں کیلئے رول ماڈل تھا جہاں مسلمان عقیدتاً اور کفار یقین اور سچائی کی بنیاد پر ہی اس کو تسلیم کرتے تھے جہاں تمام طبقات مسلم اور نان مسلم کیلئے یکساں نظام و قانون تھا کسی نواب،سردار، چوہدری، ملک،ٹکری، سید کو عام عوام پر فضیلت یا فوقیت حاصل نہ تھی… Read more »
تحریر:ڈاکٹر فضل ودود ایک ادنیٰ صاحب عقل آدمی بھی امن کی اہمیت کو تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔امن ہو تو معاشرے کا پہیہ چلے گا اور ہر باصلاحیت فرد کو اپنی قابلیت کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔دنیا آہستہ آہستہ گلوبلائزیشن کی طرف رواں دواں ہے اور ہر معاشرہ کثیر الثقافتی معاشرہ… Read more »
تحریر:محبوب شاہوانی بلوچستان جو پاکستان کا آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا اور رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ہونے کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل سے مالا صوبہ ہے مگر وفاق کی جانب سے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، چھوٹے صوبوں کے ساتھ ناروا سلوک اور ان کے حقوق غصب کرنے کی وجہ… Read more »
تین ماہ میں عالمی ادارہئ صحت نے اپنے سابقہ اندازوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس وبا کی ’دوسری‘ بلکہ ’تیسری‘ وبا کا امکان ہے۔ آئی ایم ایف اور امریکا کہہ چکے ہیں کہ وبا کے باعث پیدا ہونے والا معاشی بحران 2022تک جاری رہے گا۔ آئے دن کاروبار اور صنعتوں… Read more »
لیاری کو ایک بار پھر جرائم پیشہ افراد کے حوالے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لیاری کی سیاسی اور سماجی کلچر کو بندوق کے ذریعے کنٹرول کرنے کی منصوبہ بندی ہورہی ہے۔ علاقے میں جرائم پشہ افراد نے انٹری دے دی اور ہر گلی میں اپنی سرگرمیاں شروع کردیں۔ منشیات کی فروخت سرعام جاری ہے۔ کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے آنکھیں پھیر لیں۔آج کل لوگ لیاری کو جرائم، منشیات اور گینگ وار کی علامت سمجھتے ہیں لیکن یہ اصل لیاری نہیں ہے۔ بدقسمتی سے حکومتی اداروں کے ساتھ ملکر ہمارے میڈیا نے لیاری میں موجود ٹیلنٹ کو نظرانداز کیا۔