تربت دھرنا، انصاف اور عدالتیں

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان حکومت کی ضلع کیچ کے مرکزی شہر میں سی ٹی ڈی کے زیرحراست قتل ہونے والے بالاچ مولابخش کے واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم ٹریبونل اس وقت متنازعہ ہوگیا



’’واجہ وتی کدء َ بزاں‘‘

| وقتِ اشاعت :  


’’واجہ وتی کدء َ بزاں‘‘ ایک مشہور بلوچی محاورہ ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے بلوچ اپنی حیثیت پہچان لیں۔ اس محاورے کے ویسے تو ہزاروں مطلب نکلتے ہیں۔



فیک انکاؤنٹر

| وقتِ اشاعت :  


نومبر کا مہینہ مکران ڈویژن کے لئے فیک انکاؤنٹرز کا بدترین مہینہ ثابت ہوا۔



اپنے کو دیکھتے نہیں ، ذوقِ ستم تو دیکھ

| وقتِ اشاعت :  


جب عوام الناس ملک کے سیاسی اور غیر سیاسی سربراہوں کو اکثر ٹی وی ٹاک شوز ، میڈیا کانفرنسز ، مباحثوں ، سیمیناروں اور اجتماعات وغیرہ کے دوران جوش اور جذبات میں گرجتے اور برستے دیکھتے ہیں تو وہ غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں



انتخابات کی تیاری، سہاگن وہی جو پیا من بھائے

| وقتِ اشاعت :  


پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ انہیں انتخابی کمیشن پر مکمل اعتماد ہے اور انتخابات شفاف ہوں گے۔ ایک طرف پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مختلف مقامات پر انتخابی مہمات کے سلسلے میں خطاب کرتے ہوئے کہتے سنے گئے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو لیول پلینگ فیلڈ دی جائے۔ دوسری جانب ان کے والد آصف علی زرداری کا انتخابی کمیشن پر اعتماد اور شفاف الیکشن کا عندیہ، کیا یہ تضاد نہیں ہے۔



دوغلے پارلیمانی سیاست دان

| وقتِ اشاعت :  


ملک کو موجودہ معاشی گرداب سے نکالنے کے لیئے مقتدرہ کے پاس جو اہداف اور عزائم ہیں وہ اِس کے سوا اور کچھ بھی نہیں کہ عرب ممالک بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں آئل ریفائینری لگاکر اور ریکوڈیک میں سرمایہ کاری کرکے ملک کو معاشی بحران سے نکال باہر کر یں گے۔



طرز حکمرانی۔ کرکٹ سے لے کر کرکٹ تک

| وقتِ اشاعت :  


انگریزوں کی روشناس کرائی ہوئی کئی چیزوں میں سے کرکٹ ایسا کھیل ہے جو کہ برصغیر کے لوگوں کے خون میں بسا ہوا ہے۔ شروع میں امیروں کے کھیل سے جلد ہی غریبوں تک پہلے شہروں اور پھر ہر گائوں اور ہر محلے تک پھیل گیا۔ آزادی کے بعد ، جلد ہی پاکستان نے دنیا کو دکھانا شروع کیا کہ وہ ہاکی کے علاوہ کرکٹ میں عالمی سطح پر ایک اہم طاقت ہے۔



لیاری سے کوئٹہ کا سفر( حصہ دوئم)

| وقتِ اشاعت :  


نوشکی سے واپسی میں تقریباً ڈیڑھ دو گھنٹے کی ڈرائیو کر کے یارجان بادینی نے ہمیں کوئٹہ کے مصروف جناح روڈ کی حدود تک پہنچایا تو خواہش ہماری یہی تھی کہ ہمیں وہ الوداع کہیں اور اپنے گھر جائیں لیکن جناب! وہ اپنے گھر ضرور گئے مگر ہمیں ساتھ لے گئے اور “شارٹ نوٹس” پر پرتکلف ڈنر سے ہماری تواضع کرکے ہی چھوڑا۔ ہم تو دور دور تک شمار میں نہیں آتے لیکن بہت کم ان جیسے لوگ باقی رہ گئے ہیں جن کی مہمان نوازی کی استقامت (stamina) پر ہمیں رشک آتا ہے۔