“روٹی” سپر پاور

| وقتِ اشاعت :  


بالآخرعالمی طاقتوں کو اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا پڑا،متفقہ طورپر تسلیم کیا گیا کہ مہلک جنگی ہتھیاروں سے نہیں بلکہ روٹی (معیشت) میسر ہونے سے عالمی طاقت بنا جاسکتا ہے۔



اقتدار کی لزتیں

| وقتِ اشاعت :  


مستقبل کیلئے ایک بہتر نظام حکومت اور کچھ اقدار کا تعین کیے بغیر فقط اِس ادراک پر رختِ سفر باندھنا کہ متضاد طرزہائے معیشت پر یقینِ محکم کے حامل دومتصادم بڑے”سپرپاور” کے درمیان،جو ایک دوسرے کیساتھ مخاصمت کی حدتک تضادات اور اختلافات رکھتے ہیں،آباد ہونے کے سبب “بفر” کے طور پر مسافتِ ہستی چونکہ گزرہی سکتی ہے۔



مکران کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال اور آنے والے عام انتخابات

| وقتِ اشاعت :  


تین اضلاع پنجگور ،کیچ اور گوادر پر مشتمل مکران ڈویژن جغرافیائی لحاظ سے اس خطے کا ایک اہم علاقہ ہے، پاکستان چائنہ اکنامک کوریڈور کے بعد عالمی قوتوں کی نظریں بھی اس خطے پر مرکوز ہیں۔



’گڈ ٹو سی یو‘ قاضی صاحب!

| وقتِ اشاعت :  


جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے قاضی القضاۃ کا منصب سنبھالتے ہی اس بات کا حلف اٹھایا ہے کہ ’’ میں اپنے فرائض و کارہائے منصبی ایمان داری، اپنی انتہائی صلاحیت و نیک نیتی کے ساتھ اوراسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور اور قانون کے مطابق انجام دوں گا،سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کی پابندی کروں گا اور یہ کہ ذاتی مفادات کو اپنے سرکاری فرائض یا اپنے فیصلوں پرحاوی نہیں ہونے دوں گا۔



مْدبرینِ درسگاہ خاص

| وقتِ اشاعت :  


دو،تین دھائیوں یا اِس سے آگے ملک کی سیاسی تاریخ کو سامنے رکھ کر دیکھاجائے تو لگتاہے کہ بلوچستان،کے پی کے اور سندھ کے چند برگشتہ قائدین اور ایک دو جماعتوں کے دیگر سارے سیاستدان اور پارٹیز ایک منفرد مکتبہ فکر سے نہ صرف متاثر ہیں بلکہ کسی نہ کسی طور پر “درسگاہ ” کی پیداوار ہیں اور حصولِ اقتدارکے متعلق اْس آفاقی نقطہ نگاہ کے ساتھ فکری ہم آہنگی رکھتے ہیں ۔



بلوچ کا سستا خون

| وقتِ اشاعت :  


کراچی کی بلوچ آبادیوں کو پھر سے گینگ وار،منشیات فروش اور جرائم پیشہ افراد کے حوالے کردیا گیا ہے۔



مفکرینِ مشرق

| وقتِ اشاعت :  


اگلے سال فروری،مارچ تک انتخابات ہوں بظاہر لگتا نہیں ہے اسباب وعلل یہ کہ ملک میں قابو سے باہر مہنگائی، بے لگام بیروزگاری اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ وزیر اعظم بننے کے لیئے شہباز شریف کی خواہش ناتمام نے پنجاب میں نواز لیگ کی جڑوں کو ہلاکر رکھ دیاہے جن کو پروجیکٹ عمران خان کی ذلّت آمیز ناکامی کے بعد اور ایک نئے پروجیکٹ کی تکمیل سے قبل عارضی طورپر آگے لانے کا منصوبہ ہے۔