عزت یا غیرت ہے کیا؟

| وقتِ اشاعت :  


پانچ ستمبر عورتوں کے لئے ایک سیاہ دن ثابت ہوتا جارہا ہے۔ اس روز عورتوں کو بے دردی سے قتل کرنے کے دو بڑے واقعات رونما ہوئے۔ پہلا واقعہ رواں سال پانچ ستمبر کو خیببر پختونخوا کے علاقے سوات جبکہ دوسرا پانچ ستمبر 2020 کو بلوچستان کے ضلع کیچ میں رونما ہواتھا۔ یہ واقعات غیرت کے نام پر سرانجام دیے گئے۔



وزیراعظم انوارالحق کاکڑمنافرت کے خلاف آہنی دیوار

| وقتِ اشاعت :  


ایک ایسے خطہ میں جہاں کچھ عناصر اقلیتوں پر ہونے والے ظلم و ستم پر نا صرف خاموشی اختیار کرتے ہیں بلکہ اس معاملے کودھندلانے کی کوشش بھی کرتے ہیں جیسا کہ بھارتی شہر منی پور میں مسیحی برادری کی حالتِ زارپر کیا جارہاہے۔ پاکستان کے نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ عدم برداشت اور جنونیت کی قوتوں سے نفرت کرتے ہوئے اقلیتوں کے حقوق اور تحفظ کے زبردست اور واضح علمبردار اور حامی کے طور پر سامنے آئے۔



زندہ دل بزنجو

| وقتِ اشاعت :  


آج20اگست ہے میرحاصل بزنجو کی تیسری برسی، وہ شخص جوزندگی کی علامت تھا خراب ترین حالات میں بھی جس کے چہرے پر مسکراہٹ سجی ہوتی تھی یقین نہیں آتا کہ وہ مرگیا میرحاصل بزنجو سے ہماری شناسائی تین دہائیوں سے زیادہ عرصے پرمشتمل ہے یہ جنرل ضیاء کے خونی مارشل لاء کا دورہے قید،کوڑے،پھانسیاں اورعقبوت خانے سیاسی کارکنوں کا مقدرہیں۔



میرغوث بخش بزنجو دوراندیش سیاست دان تھے

| وقتِ اشاعت :  


میرغوث بخش بزنجو قابل ترین سیاستدانوں میں سے ایک ہیں وہ اسلام آباد میں ملک کے لیے ایک بڑا اور اہم کردارادا کرسکتے تھے،لیکن اپنی بلوچ شناخت اور بلوچ کاز سے وابستگی کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا۔ (معروف امریکی صحافی سلیگ ایس ہیرسن کی کتاب ”In Afganistan Shodon”سے اقتساب) لیکن حقیقت یہ ہے کہ… Read more »



بابا بزنجو اور مارشل لائی مظالم

| وقتِ اشاعت :  


میر غوث بخش بزنجو نے طویل قید و بند کی زندگی گزاری ۔ وہ ہمیشہ اپنے اصول، قول و فکر اور نظریے سے جڑے رہے ۔ میر بزنجو کی سیاست کی سمت ہمیشہ یک طرفہ رہی ۔ اُنہوں نے جمہوریت کا نہ صرف ساتھ دیا بلکہ جمہوریت کو پروان چڑھایا ۔



بجھا گیا ہے عدو میرے عالی قدر چراغ

| وقتِ اشاعت :  


8 اگست 2016 بلوچستان کی تاریخ کا وہ سیاہ دن تھا کہ جس کو بھلانے میں صدیاں درکار ہوں گی کیونکہ اس روز صوبے اور ملک میں شعوری جدوجہد کے سرخیلوں، امن کے پیامبروں، سماجی انصاف کے علمبرداروں، ترقی پسند سوچ کے مفکروں، عدلیہ کی وقار کی سربلندی کے پروانوں کے قافلے کے ہردل اؤل دستے میں شامل ستر وکلاء کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشتگردی کا نشانہ بناکر ہم سے جسمانی طور پر الگ کیا گیا۔



پنجرہ پل

| وقتِ اشاعت :  


پنجرہ پل وادی بولان کے بیچ واقع ہے۔ وادی بولان اور گرد نواح میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور سیلابی صورتحال نے سندھ بلوچستان قومی شاہراہ NA 65 کوبولان پنجرہ پل کے مقام پر راستہ مکمل بندکردیا ہے۔ پنجرہ پل زیر آب آنے کے بعد ہر قسم کی ٹریفک رک گئی ہے۔کوئٹہ سے پنجاب اور سندھ کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ ہزاروں گاڑیاں اور مسافر بولان میں مختلف مقامات پر محصور ہو کر گئے ہیں۔ کسی زمانے میں انگریزوں نے یہ پل بنایا تھا جو پنجرہ پل کے نام سے مشہور ہوا۔غالباً 1985 ء میں ایک زوردار سیلاب آیا جس کی وجہ سے یہ لوہے کا پل ٹوٹ گیا تھا اور پھر اس وقت یہاں سے تقریباً دس فٹ اوپر کرکے سیمنٹ سریا کے لمبے بلاکس سے مقامی سطح پرپل تعمیر کیا گیا۔ پل کے درمیان میں ایک گول پلر دیا گیا تھا، جس پر پہ پل کھڑا تھا۔