بلوچ گلزمین کے بعد سندھ دھرتی پر بھی مڈل کلاس عورتوں پرمشتمل ایک خاموش تحریک پنپ رہی ہے۔ یہ تحریک سندھ میں سیاسی خلاء پرنہ ہونے کی وجہ سے جنم لے رہی ہے کیونکہ بلوچستان کی طرح سندھ میں بھی ایک افراتفری اور سیاسی بے چینی کا ماحول ہے جس کی ذمہ دار سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔ بے نظیر بھٹو کے صاحبزادے بلاول بھٹو اور صاحبزادی آصفہ بھٹو آہستہ آہستہ اپنی عوامی مقبولیت کھو ر ہے ہیں۔ دونوں کا پولیٹیکل اسٹینڈ نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ وہ سیاست میں مصلحت پرستی کررہے ہیں۔
عوام کی طاقت دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔ عوامی طاقت کے سامنے طاقتورآمر ہو، ریاست ہو یا کٹھ پتلی حکومتیں سب ڈھیر ہوجاتی ہیں۔ جس کی واضح مثال ہمارے سامنے پاکستان میں حالیہ ہونے والے عام انتخابات کے نتائج تھے
8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کئی حوالوں سے غیر معتبر قرار دی جارہی ہیں ۔وفاقی جماعتوں میں جے یو آئی( ف) اور پاکستان تحریک انصاف نتائج کو چیلنج کرچکے ہیں جب کہ جماعت اسلامی اور دیگر کئی جماعتوں کو نتائج میں دھاندلی کے کھلی تحفظات اور شکایتیں ہیں۔
بلوچستان میں حالیہ عام انتخابات میں نتائج کی تبدیلیوں کے خلاف بلوچ پارلیمان پسندجماعتوں کے رہنماؤں نے اپنے اپنے احتجاجی مظاہروں میں جتوانے والوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے
پاکستان میں حکومتیں بدلتی رہتی ہیں۔ پارلیمنٹ میں چہرے بھی بدلتے رہتے ہیں۔ وزیراعظم نیا آجاتا ہے اور وزرا بھی نئے آجاتے ہیں۔ دیگر صوبوں میں خوشیوں کا سماں ہوتا ہے،