ملک میں ایک بار پھر آڈیواور ویڈیولیکس کی سیاست شروع ہوگئی ہے جہاں ملک ایک طرف مسائل میں گِرا ہوا ہے تودوسری جانب سیاسی تنازعات حل ہونے کانام ہی نہیں لے رہیں۔ ظاہر سی بات ہے ایک طرف سے حملہ ہوگا تو دوسری جانب سے بھی اس کا جواب آئے گا اور یہ ملکی سیاست کے لیے نیک شگون نہیں ہے یہ عمل خود سیاستدانوں کی ساکھ کو متاثر کررہا ہے اس تمام عمل سے عوام میںکیا تاثر جارہا ہے کہ ہمارے سیاستدان کس طرح کا کھیل کھیلتے ہیں اور ہمارے ووٹ لینے کے بعد ہمارے ہی مسائل سے روگردانی کرتے ہوئے اپنے ایجنڈوں پر لگ جاتے ہیں۔
بلوچستان میں ترقی کے راستے بہت سارے ہیں ۔اپنے جغرافیہ ، ساحل اور معدنیات کے حوالے سے ملک کااہم خطہ ہے مگر اس کی ترقی کے حوالے سے ہر وقت صرف دعوے ہی کئے گئے عملاََ ترقی کے حوالے سے اقدامات نہیں اٹھائے گئے جس سے عام لوگوں کو فائدہ پہنچتا اور صوبہ خودکفیل ہوکر اپنا بجٹ تیا ر کرتا۔ بلوچستان میں میگامنصوبے چلنے کے باوجود بھی عام لوگ بنیادی سہولیات سے آج تک محروم ہیں اور ان محرومیوں اور پسماندگی سے سب ہی واقف ہیںلیکن اس کا ازالہ تاحال نہیں کیا گیاہے۔ سب سے بڑی ذمہ داری وفاق پر عائد ہوتی ہے کہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے سنجیدگی سے اقدامات اٹھائے ایسے روٹس بنائے جو اس خطے میں معاشی سرگرمیوں کا سبب بن سکیں اور صوبائی حکومت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو آن بارڈ لیتے ہوئے پالیسی مرتب کرے تاکہ اس پر اعتراضات نہ اٹھیں کیونکہ بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یہ شکوہ ہر وقت کیا جاتا ہے کہ بلوچستان کے وسائل سے کمپنیاں اور وفاق فائدہ اٹھاتی ہیں جبکہ ہمارے حصہ میں دھیلہ تک نہیں آتا، کچھ رقم ترقی کے نام پر دی جاتی ہے جن سے ایک منصوبہ بھی مکمل نہیں ہوسکتا جبکہ پنجاب اور سندھ اتنے خودکفیل ہیں کہ وہ اپنے منصوبے خودبناتے ہیں عوام کو سہولیات سمیت روزگار کے مواقع فراہم کرتے ہیں مگر بلوچستان کے ساتھ ناروا رویہ اختیار کیاجاتا ہے جس کی ایک طویل تاریخ ہے۔
ملک میں گزشتہ چند برس کے دوران سیاسی کلچر میں غیر اخلاقی عنصر تیزی کے ساتھ حاوی ہوتا جارہا ہے اس قدر طوفان بدتمیزی مچائی جارہی ہے کہ تمام روایات کو پامال کرتے ہوئے خواتین کی عزت ووقار کو بھی نہیں دیکھاجارہا ہے یہ ٹرینڈ پی ٹی آئی کی جانب سے شروع کیا گیا ہے سوشل میڈیا سے لیکر ہر مقام پر سیاسی مخالفین کو گھیر کران کے ساتھ غیر مہذبانہ رویہ اختیار کیاجاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس قدر نازیبا الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں جو ناقابل بیان ہیں جو بھی پی ٹی آئی مخالف ہوتاہے اس کے خلاف غلیظ ترین زبان استعمال کی جاتی ہے گھر تک کو نہیں چھوڑا جاتا ہے جبکہ قائدین کی جانب سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے، اگرکہاجائے کہ لیڈر شپ خود اس تمام ڈائریکشن میں ملوث ہے تو بیجا نہ ہوگا کیونکہ پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کے قریبی ساتھی عوامی اجتماعات میں سیاسی مخالفین کے خلاف اخلاق سے عاری باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں اور ڈنکے کی چوٹ پر یہ کہتے ہیں کہ ان کا پیچھا نہیں چھوڑینگے اور اپنے کارکنان کو بھی باقاعدہ ہدایات دیتے ہیں کہ مخالفین کہیں بھی ملیں انہیں چھوڑنا نہیں ہے۔ بہرحال جس طرح کاسیاسی کلچر پروان چڑھایاجارہا ہے اس کے انتہائی بھیانک نتائج نکلیں گے۔
وزیراعظم میاںمحمدشہباز شریف کی جانب سے آڈیولیکس کے معاملے پر تحقیقات کرنے کا فیصلہ بہترین اقدام ہے یہ محض بیان تک محدود نہ رہے بلکہ اس کی ہر طرح سے جانچ ہونی چاہئے کہ کس طرح سے وزیراعظم ہاؤس کے ٹیلیفون کالز ریکارڈ ہورہی ہیں اور کب سے یہ سلسلہ چل رہا ہے ۔عملہ کو شامل تفتیش کرتے ہوئے تمام تر معلومات لینی چاہئے جیسے کہ پہلے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے کہ جسے چند بیانات کے ذریعے رفع دفع کیاجائے اور اس مسئلے کو سرد خانے کی نذر کیاجائے ،اس لیے ان تحفظات اور خدشات کااظہار کیاجارہا ہے کہ سینیٹ سے جب خفیہ کیمرے برآمد ہوئے تو بہت زیادہ واویلا موجودہ حکومت کے رہنمائوں نے مچایا جب یہ اپوزیشن میں تھے اور اس کے بعد حکومت میں آئے تو اس کی تحقیقات تک نہیں کرائی گئی کہ ایوان بالا جس کی اہمیت اداروں کے حوالے سے بہت زیادہ ہے وہاں کس طرح سے خفیہ کیمرے نصب کئے گئے، عملہ خواب خرگوش میں تھا کہ انہیں کچھ علم نہیں ہوا، کس نے کیمرے نصب کئے ،وہ جن یا بھوت تو نہیں تھے کہ دکھائی نہ دیتے ، انہوں نے کیمرے نصب کئے یا پھر چھوٹا ساآلہ رکھ کر چلے گئے بلکہ کیمرے لگائے گئے ۔
اسلام آباد ایک بار پھر دنگل بننے جارہا ہے سابق وزیراعظم وچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ پہلے ان کی تیاری نہیں تھی مگر اب وہ مکمل تیاری کے ساتھ اسلام آباد آئینگے۔ دھمکی آمیز لہجے میں عمران خان نے وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی جبکہ وزیراعظم کے خلاف سخت رویہ اپنایا ہے۔
بلوچستان میں لوگوں کی اکثریت کا ذریعہ معاش کا انحصار زراعت پرہے مگر زمینداروں کو بہت ساری مشکلات اول روز سے درپیش ہیں ،پانی نہ ہونے کی وجہ سے زراعت کا شعبہ پہلے سے ہی متاثر تھا مگر حالیہ سیلاب نے زمینداروں کو بری طرح متاثر کردیا ہے کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں، زمینیں زیرآب آگئیں ،مال مویشی مرگئے ہیں جوکسان کل تک بہترین زندگی گزار رہے تھے اب ان کو کھانے کے لالے پڑ گئے ہیں ،ان کی نظریں امداد پر ہیں کہ انہیں کسی طرح مالی مدد ملے تاکہ دوبارہ وہ اپنی زمینوں کو آباد کرکے کاشتکاری کرسکیں۔ اس وقت ہنگامی بنیادوں پر اس حوالے سے کام کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ نقصانات بہت زیادہ ہوئے ہیں زمینداروں کے علاوہ دیگر طبقات کے کاروبار بھی تباہ ہوگئے ہیں، مال وجان کا بڑا نقصان ہوا ہے جان کا ازالہ تو نہیں ہوسکتا مگر مالی نقصانات کوپورا کرنے کے لیے اقدامات اٹھاکر زخموں پر مرہم رکھا جاسکتا ہے۔
ملک میں لاپتہ افراد کا مسئلہ گزشتہ دو دہائیوں سے چل رہا ہے اور یہ اپنی جگہ ابھی تک موجود ہے ، بلوچستان لاپتہ افراد کے حوالے سے سب سے زیادہ متاثر ہے اور سب سے زیادہ مسنگ پرسنز بھی بلوچستان کے ہیں جبکہ لاشیں بھی بلوچستان سے زیادہ برآمد ہوئی ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے حکومتوں نے متعدد بار یقین دہانی کرائی مگر اس کے باوجود بھی قابل ذکر تعداد میں لاپتہ افراد بازیاب نہیں ہوئے بلکہ بہت ہی کم افراد بازیاب ہوکر گھر پہنچے۔ اس حساس نوعیت کے معاملے کو سنجیدگی کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت ہے۔ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی جانب سے عرصہ دراز سے احتجاج کیاجارہا ہے کیمپ قائم ہے بچے جوان ہوگئے مگر والد گھر واپس نہیں آسکا، بہنیں مائیں، بھائی سب اپنے پیاروں کی راہ تھک رہے ہیں کہ کب ان کا پیارا بازیاب ہوکر گھر لوٹ آئے گا اور آنگن میں خوشیاں آئینگی۔امید اور دلاسہ سے آگے بڑھ کر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اور اس کیس کو مستقل بنیادوں پر دیکھنا چاہئے ،سرسری بیانات اور تسلی سے یہ معاملہ حل نہیں ہوگا کیونکہ ماضی ہمارے سامنے ہے کہ محض بیانات تک گمشدگی کے مسئلے کو حل کرنے کی یقین دہانیاں کرائی گئیں مگر چند ماہ بعد مسئلہ سرد خانے کی نذر ہوگیا۔
سندھ اور بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی مشکلات میں کمی آنے کے بجائے روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے، متاثرین وبائی امراض میں جکڑتے جا رہے ہیں اور اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی کا بھی سامنا ہے۔بلوچستان کے ضلع نصیرآباد کے سیلاب متاثرین گیسٹرو اور ملیریا سمیت مختلف وبائی امراض کا شکار ہو رہے… Read more »
بلوچستان میں نچلی سطح پر تعلیمی اداروں کی زبوں حالی، اساتذہ کی غیرحاضری بہت بڑا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں یہ مسئلہ کئی عرصہ سے چل رہا ہے حالانکہ گزشتہ تین حکومتوں کے دوران بجٹ میں سب سے زیادہ رقم تعلیم کے لیے مختص کی جاتی رہی اور… Read more »