|

وقتِ اشاعت :   April 11 – 2022

وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی۔ اپوزیشن کے 174 ارکان نے ان کے خلاف ووٹ دیا۔عمران خان ملکی تاریخ کے پہلے وزیراعظم ہیں جن کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی ہے۔ نئے وزیراعظم کا انتخاب آج ہوگا۔اسپیکر اسد قیصر کے مستعفی ہونے کے بعد ایوان ایاز صادق کے حوالے کرگئے جس کے بعد ان کی صدارت میں اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی۔اس دوران حکومتی ارکان نے احتجاجاً اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور ایوان سے چلے گئے۔

بعد ازاں ایوان میں 5 منٹ کیلئے گھنٹیاں بجائی گئیں اور دروازے بند کردیے گئے جس کے بعد ایاز صادق نے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پڑھ کر سنائی اور ایوان کا اجلاس ملتوی کردیا گیا۔جس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ تلاوت قرآن پاک سے باقاعدہ شروع ہوا اور پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے قرارداد پیش کی جس کے بعد رائے شماری کا آغاز ہوا۔اس دوران 174 ارکان نے عدم اعتماد کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اور یوں عمران خان عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے جانے والے ملک کے پہلے وزیراعظم بن گئے۔تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ ان تمام ساتھیوں نے جیلیں کاٹی ہیں، ماضی کی تلخیوں میں نہیں جانا چاہتے،ہم اس قوم کے دکھوں اور زخموں پر مرہم رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم کسی کو بلاوجہ جیل نہیں بھجوائیں گے۔

قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ پورے پاکستان اور ہاؤس کو مبارکباددیتاہوں، پاکستان میں پہلی بار عدم اعتماد کامیاب ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پرانے پاکستان میں سب کو خوش آمدید کہتا ہوں، محترمہ 10 اپریل 1986 کو ضیا الحق کے خلاف جدوجہد کیلئے لاہور آئی تھیں، آج 10 اپریل 2022 ہے، ویلکم بیک پرانا پاکستان کہا۔ان کا کہنا تھا کہ ظلم ظلم ہوتا ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے، جمہوریت بہترین انتقام ہے۔عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر اور متحدہ اپوزیشن کے امیدوار شہباز شریف نے قائد ایوان کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے۔اسمبلی قوانین کے مطابق برطرف وزیراعظم کی جگہ نئے قائد ایوان کا تقرر فوری طور پر کیا جانا ضروری ہے۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے نئے قائد ایوان کے لیے تقرر کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس آج دوپہر 2 بجے طلب کر رکھا ہے اور متحدہ اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے امیدوار شہباز شریف ہیں۔آج ایک نئے وزیراعظم کا انتخاب عمل میں آئے گااور اس کے بعد اتحادیوں پر مشتمل کابینہ تشکیل دی جائے گی یقینا موجودہ معاشی مسئلہ اس وقت نئی بننے والی حکومت کے لئے بڑا چیلنج جس پر ان کی توجہ ہونی چاہئے اپوزیشن اتحاد کے قائدین کی جانب سے بارہا یہ کہاجارہا ہے کہ وہ سیاسی انتقامی کارروائیوں پر یقین نہیں رکھتے بلکہ ان کی تمام تر جیحات ملک میں سیاسی استحکام اور معیشت کو بہترکرنا ہے اچھے گورننس کے ذریعے ملک کو بحران سے نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔

اپوزیشن کے لیے یہ تمام تر اقدامات اس لیے بھی ضروری ہیں کہ کیونکہ یہ حکومت مختصر عرصے کے لیے ہے اس کے بعد عام انتخابات میں انہی سیاسی جماعتوں کو عوام کے پاس جانا ہوگا عوام کے مفاد میں اقدامات انہی کے حق میں ہوگا ان کے لیے عام انتخابات میں ماحول بنے گا اور ووٹ بینک مضبوط ہوگی امید اور توقع بھی یہی ہے کہ اپوزیشن ماضی کے تلخ تجربات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سیاسی کشیدگی کی بجائے گورننس پر اپنی تمام تر توانائی صرف کرے گی تاکہ غریب عوام کے حالات میں معاشی حوالے سے بہتری آئے۔