پارلیمان کی جنگ عدالت عظمیٰ میں،مستقبل میں اس کے اثرات!

| وقتِ اشاعت :  


قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے بعد سیاسی ماحول تو گرم ہے اس وقت پی ٹی آئی کے ماضی کے منحرف اراکین بھی پریس کانفرنسز کے ذریعے مبینہ کرپشن کے حوالے سے بات کررہے ہیں کہ پنجاب میں کس طرح سے آفیسران کے تبادلے اور تقرریوں کے لیے خطیر رقم لی جاتی تھی اور اس میں براہ راست کون ملوث رہے۔ بہرحال اس وقت یہ بحث جاری ہے کہ جس خط کی بنیاد پر اسمبلی کے سو سے زائد اراکین کو غدار قرار دیکر عدم اعتماد کی تحریک کو مسترد کیا گیایہ یقینا ایک سنگین اور حساس نوعیت کا معاملہ ہے جو اس وقت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے جس کا ازخود نوٹس سپریم کورٹ نے لیا ہے۔



پارلیمان کا معاملہ، اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے پر سب کی نظریں!

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں آئینی اورسیاسی بحران بدستور اپنی جگہ برقرار ہے جو عدم اعتماد کی تحریک کے روز ووٹنگ کے لیے بلائے گئے اجلاس کے دوران ڈپٹی اسپیکرقومی اسمبلی کی جانب سے رولنگ کے بعدپیدا ہو ہے۔ وزیراعظم کو بھی ڈی نوٹیفائی کردیا گیا ہے جبکہ وزیراعظم کو صدر مملکت کی جانب سے کام جاری رکھنے کا کہا گیا ہے۔



پارلیمان اور آئین کی بالادستی، ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال

| وقتِ اشاعت :  


عمران خان نے کہا تھا کہ وہ عدم اعتماد کی تحریک کے روز ہی اپوزیشن کو ایسا سرپرائز دینگے جس سے وہ حیران رہ جائینگے.ڈپٹی اسپیکر نے عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کے روز وفاقی وزیر فواد چوہدری کی جانب سے اپوزیشن ارکان پربیرونی سازش میں ملوث ہونے کو عدم اعتماد کی تحریک کے ساتھ جوڑ دیا جس پر ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر بجا فرمارہے ہیں کہ ایک بیرونی سازش کے تحت حکومت کو فارغ کیاجارہا ہے۔ جس کے بعد انہوں نے اسمبلی اجلاس کو غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا۔ وزیراعظم عمران خان کو ڈی نوٹیفائی کردیا گیا کابینہ تحلیل ہوگئی اور صدر کی جانب سے نگراں وزیراعظم کے آنے تک کام جاری رکھنے کو کہا گیا ہے۔



عدم اعتمادکامعاملہ، سپریم کورٹ کا نوٹس، اعلیٰ عدلیہ پر سب کی نظریں

| وقتِ اشاعت :  


ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد کی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے رولنگ روک دی۔قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی زیر صدارت شروع ہوا۔ وقفہ سوالات پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد آئینی حق ہے اور تحریک عدم اعتماد آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت لائی جاتی ہے۔ 7 مارچ کو ہمارے سفیر کو میٹنگ میں طلب کیا جاتا ہے اور ہمارے سفیر کو بتایا جاتا ہے کہ وزیراعظم کے خلاف تحریک اعتماد لائی جارہی ہے۔



پاکستان کسی کیمپ پالیٹکس پر یقین نہیں رکھتا، سب کے ساتھ بہترتعلقات کیلئے کوشاں

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ چند دنوں سے پاکستان میں سیاسی مداخلت اور عدم استحکام پر بحث چل رہی ہے حکومت اوراپوزیشن کی جانب سے دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات پر بھی بات کی جارہی ہے۔



عدم اعتماد کی تحریک، اپوزیشن مضبوط، حکومت کمزور، خط کا معاملہ سنگین

| وقتِ اشاعت :  


27مارچ اسلام آباد جلسے کے دوران وزیراعظم عمران خان نے ایک خط دکھایا تھا اور کہاتھا کہ ہمیں بیرونی ممالک سے دھمکی مل رہی ہے بڑی سازش کی جارہی ہے ہماری حکومت کو تبدیل کرنے کے لیے پیسے دیئے جارہے ہیں جس کے بعد ایک بڑی بحث چل رہی ہے کہ کون سے ممالک سازش کررہے ہیں اور ان کے مقاصد کیا ہیں اور کیوںکر موجودہ حکومت کو دھمکی دی گئی ہے۔ بہرحال سوالات بہت ہیں مگر اس وقت تک ان پر مفصل بحث نہیں کی جاسکتی جب تک اس خط کے مندرجات کی تفصیلات سامنے نہیں آتیں اور کون سے ممالک اس میں شامل ہیں ان کے نام سامنے نہیں آتے ۔جبکہ اپوزیشن نے خط کو مکمل رد کرتے ہوئے اسے حکومت کا حربہ قرار دیا ہے اور خط کو پارلیمنٹ میں اِن کیمرہ سیشن میں بحث کے لیے پیش کرنے کی بات کی گئی ہے مگر اس وقت ملک میں سیاسی ہلچل جاری ہے ۔



بلوچستان کی سیاسی جماعتیں اپوزیشن کے ساتھ، مرکزاورصوبوں میں تبدیلی!

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں بدلتے سیاسی حالات، وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ،حکومت اوراپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بازی لے جانے کے دعوئوں کے ساتھ سیاسی جوڑتوڑعروج پر پہنچ گیا ہے، لمحہ بہ لمحہ سرپرائزسامنے آرہے ہیں۔اور اب تک بظاہر اپوزیشن حکو متی جماعت اور اتحادیوں کو توڑ نے میں کامیاب دکھائی دے رہی ہے گوکہ ق لیگ نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر حکومت کاساتھ دینے کافیصلہ کرلیا مگر ایم کیوایم پاکستان فی الحال کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچی ہے مگر ملاقاتیںحکومت اوراپوزیشن کے قائدین سے جاری ہیں اور پیشکشیں بھی کی جارہی ہیں ،کسی بھی وقت ایم کیوایم اپنا فیصلہ سنائے گی۔



وسیم اکرم پلس عثمان بزدارکی قربانی، اتحادیوںکے خواہشات کی تکمیل

| وقتِ اشاعت :  


وسیم اکرم پلس عثمان بزدار کا استعفیٰ حکومت کی ڈوبتی کشتی کو بچانے کے علاوہ کچھ کبھی نہیں ہے۔ گزشتہ ساڑھے تین سالوں کے دوران وزیراعظم عمران خان یہ بات دہراتے آئے ہیں کہ عثمان بزدار کی کارکردگی سب سے بہترہے اور وہ پنجاب میں بہت اچھا کام کررہے ہیںاور سب عثمان بزدار کے خلاف ہیں بلاوجہ تنقید کرکے ان کے بہترین کارناموں کو بھی بری طرح پیش کررہے ہیں ۔یہ تمام تر باتیں وزیراعظم عمران خان ہر جگہ دہراتے آئے ہیں جبکہ پنجاب میں ان کی اپنی جماعت کے ارکان اور اتحادی عثمان بزدار سے ناخوش اور ناراضگی کا اظہار برملا کرتے آئے ہیں۔ بہرحال اب عثمان بزدار نے استعفیٰ دیدیا ہے مگر ان کی اپنی مرضی و منشا اس میں شامل نہیں جبکہ وزیراعظم عمران خان بھی ذاتی طورپر اس کی حمایت میں نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے ہر وقت عثمان بزدار کا دفاع کیاہے اور واضح طور پر یہ کہا تھا کہ جس نے بھی ہمیں چھوڑنا ہے چھوڑدیں مگر میں بلیک میل نہیں ہونگا اور عثمان بزدار کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ سے نہیں ہٹائینگے مگر سیاست لچک کا نام ہے دوقدم آگے اور چارقدم پیچھے جبکہ جھکنا بھی پڑتا ہے۔



عدم اعتماد کی تحریک ،حکومت مطمئن ، منحرف اراکین اور اتحادیوں کا پیغام

| وقتِ اشاعت :  


مسلم لیگ ق کے رہنما پرویز الہٰی کا کہنا ہے کہ ہانڈی پک چکی ہے، اب تقسیم ہو رہی ہے،سیزن میں نئے کردار آنیوالے ہیں۔انہوں نے آرٹیکل 63 اے پر ریفرنس سے متعلق کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا کہنا ہے ووٹ کاسٹ بھی ہوں گے اور گنتی بھی ہوگی۔جرم ہوا نہیں اورعدالت پہلے پہنچ گئے، ووٹ کاسٹ نہیں ہوا ریفرنس دائر ہو گیا۔ان کا کہنا ہے کہ جلسے ریلیوں سے حکومت جاتی تو اب تک سو حکومتیں جا چکی ہوتیں۔ہم نے ہمیشہ صاف ستھری سیاست کی ہے۔بیرون ملک موجود بیمار کو ابھی طبیعت کے مطابق دوا نہیں مل رہی۔ان کا کہنا ہے کہ سیاست میں اسلام کو لانے والوں کا کوئی مستقبل نہیں۔مذہب کو سیاست میں استعمال نہیں کرنا چاہیے۔مذہب کا نام استعمال کرنیوالوں کو فنگس لگے گا۔



ینگ ڈاکٹرز ہڑتال، بلوچستان کے غریب عوام ذہنی کوفت کا شکار

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے ساتھیوں کی گرفتاری اور مطالبات کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے پر صوبے بھر کے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی سروسز کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا، ڈاکٹرز اور صوبائی حکومت کی اس رسہ کشی نے مریضوں کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے۔بلوچستان کے ینگ ڈاکٹرز گزشتہ پانچ ماہ سے اسپتالوں میں سہولیات کے فقدان سمیت دیگر مطالبات لیے سراپا احتجاج ہیں۔ گزشتہ رات ینگ ڈاکٹرز ایک مرتبہ پھر حکومت کی جانب سے تسلیم شدہ مطالبات کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کے خلاف ریڈ زون میں دھرنا دینے پہنچے تو پولیس نے درجن سے زائد ڈاکٹروں کو گرفتار کر لیا۔ ینگ ڈاکٹرز نے ساتھیوں کی گرفتاری کے خلاف تمام سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی سروسز کا بائیکاٹ کیا۔ایمرجنسی سروسز کے بائیکاٹ کے باعث اسپتال آنے والے مریضوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے مریضوں کو وارڈز سے نکال کر تالے لگا دئیے گئے ہیں جبکہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے احتجاج میں مزید شدت لانے کا بھی عندیہ دیا ہے۔