حکومتی اتحادمیںدراڑیں پڑنے کا خطرہ ، سیاسی گرماگرمی عروج پر

| وقتِ اشاعت :  


وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر قربتوں کی جہاں ضرورت حکومت کو پڑرہی ہے وہیں وزراء کے بیانات اتحادیوں کی دوری کا سبب بن رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کل تک تمام معاملات سیاسی حوالے سے اپنے خاص نمائندگان کو سونپ دیتے تھے مگر اب وہ خود بھی براہ راست اپنی جماعت کے اراکین اور اتحادیوں کے ساتھ ملاقات اور رابطے کررہے ہیں کیونکہ اس وقت نمبر گیم پورے کرنے اور اپنے ساتھیوں کو زیادہ خوش کرنے کی ضرورت ہے ناکہ ان کی دل آزاری کرکے اپنی پوزیشن کو مزید کمزور کیاجائے۔



بنی گالہ کی پہاڑی سے اترائی، باپ کا دائو پیج، قوم پرستوں کا موڈ بھی تبدیل

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں سیاسی معاملات کشیدگی کی طرف بڑھتے جارہے ہیں جبکہ وکٹوں کا گرنا اور وفاداریاں بھی تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہیں بظاہر حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر برتری کے بلند وبانگ دعوے کررہے ہیں مگر اصل حقائق سے خود بھی لاعلم ہیں کہ عین وقت پر کون کس طرف پلٹا مارے گا، دنگل کے سیاسی پہلوان ذاتی طور پر اب تک یہ طے نہیں کرپارہے کہ انہیں کس طرف جانا ہے ،سب کی نگاہیں ہوا کے رخ کی طرف ہیں مگر کھیل دلچسپ انداز میں جاری ہے۔ بہرحال وفاق کے بعد صوبوں میں بھی عدم اعتماد اور تبدیلی لانے کے حوالے سے سیاسی صف بندی شروع ہوچکی ہے کیا حکومت اور کیا اپوزیشن کیا خدشات کیا تحفظات نظریہ ضرورت یا مفادات موقف بدلتے بیانات یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اب بڑی سیاسی جنگ چھڑ چکی ہے بازیگر اپنی کاریگری میں لگ چکے ہیں۔



سیاسی دنگل، نفسیاتی برتری کی جنگ، عدم اعتماد کی تحریک

| وقتِ اشاعت :  


سیاسی پارہ ہائی ہوتا جارہا ہے اور بیان بازی میں شدت آرہی ہے، بڑے لیڈران ایک دوسرے پر تنقید کے نشتر چلارہے ہیں اور یہی ہونا تھا کہ سیاسی محاذ آرائی ذاتی اور نجی زندگی کے معاملات اور گھر تک پہنچ جائے گی یہاں وہ سب کچھ بیان کرنا بھی غیر مناسب ہوگا کیونکہ صحافتی اقدار واصولوں کے تحت تنقید کے خدوخال کو مناسب انداز میں عوام تک پہنچایاجائے اور سیاست میں تنقید کی گنجائش موجود نہیں مگر اس میں اخلاقی اقدار جو سیاسی ،معاشرتی لحاظ کے مطابق ہو اور مہذب معاشرے کی بہتر ترجمانی کرسکے اس لیے یہاں پر صرف اس تنقید کو زیر بحث لایاجارہا ہے جو روایتی انداز میں سیاسی حوالے سے عموماََ ایک جماعت دوسرے پر کرتی آئی ہے۔ بہرحال اب سیاسی دنگل مکمل طور پر سج گیا ہے ہرپل ایک نئی سیاسی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے سیاسی جماعتیں وکٹ گرانے پر لگ گئے ہیں دونوںطرف سے اکثریت کے دعوے کئے جارہے ہیں۔



وقت کم مقابلہ سخت، میدان مارنے کیلئے حکومت اوراپوزیشن سرگرم

| وقتِ اشاعت :  


وقت کم اورمقابلہ سخت ہے، حکومت اوراپوزیشن نے ایک دوسرے کو مات دینے کے لیے کمرکس لی ہے۔ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کرانے کے ساتھ یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس نمبر گیم پورے ہیں، مفاہمت کے بادشاہ نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ عددی تعداد سے بڑھ کر بھی اراکین ہمارے ساتھ ہیں ان کے نام بھی لے سکتا ہوں۔ بہرحال انتہائی دلچسپ گیم اس وقت سیاسی حوالے سے چل رہا ہے اس تمام عمل میں اراکین قومی اسمبلی کی اہمیت بڑھ گئی ہے جنہیں پہلے نظرانداز کیاگیا اب ان سے بھی رابطے کئے جارہے ہیں ،جبکہ پنجاب کے اراکین اسمبلی اس پورے عمل میں اہم کھلاڑی کے طور پر میدان میں موجود ہیں۔



مائنس عثمان بزدار، عدم اعتماد کی تحریک، آئندہ چند روز اہم

| وقتِ اشاعت :  


اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی۔اپوزیشن نے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے بھی ریکوزیشن جمع کرا دی۔ ریکوزیشن قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی گئی۔



عدم اعتمادکی تحریک، وزیراعظم اور اپوزیشن میدان میں

| وقتِ اشاعت :  


وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے حوالے سے حکومت اوراپوزیشن حلقوں نے رابطوں میں تیزی پیدا کردی ہے اب تو وزیراعظم خود میدان میں اترے ہیں اور دو جلسے بھی کرچکے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت مارچ کے ساتھ ملاقاتیں بھی کررہے ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن میں پیپلزپارٹی کا مارچ پنجاب سے اسلام آباد کی طرف بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف پی ڈی ایم مختلف حکمت عملیوں پر بیک وقت کام کررہی ہے ۔سابق صدر آصف علی زرداری ذاتی طور پر ملاقاتوں اور رابطوں میں لگے ہوئے ہیں ۔



ملک میں بدامنی کی نئی لہر، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی ضرورت

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں ایک بارپھر دہشت گردی کی ہوا چل پڑی ہے جسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ کوئٹہ کے بعد پشاور میں دھماکہ ایک خطرناک صورتحال کی نشاندی کررہا ہے جبکہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں دہشت گردی کے خطرات موجود ہیں جس میں ملک کے بڑے شہر سرفہرست ہیں ۔اس وقت ضروری ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات ایک طرف رکھ کر دہشتگردی کے حالیہ واقعات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس سے نمٹنے کیلئے مشترکہ پالیسی بنائیں اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس حوالے سے اہم بیٹھک لگائے تاکہ بروقت دہشتگردوں سے نمٹا جاسکے وگرنہ صورتحال مزید گھمبیر ہوجائے گی۔



ملک میں بدامنی کی نئی لہر، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی ضرورت

| وقتِ اشاعت :  


ملک میں ایک بارپھر دہشت گردی کی ہوا چل پڑی ہے جسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ کوئٹہ کے بعد پشاور میں دھماکہ ایک خطرناک صورتحال کی نشاندی کررہا ہے جبکہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں دہشت گردی کے خطرات موجود ہیں جس میں ملک کے بڑے شہر سرفہرست ہیں ۔اس وقت ضروری ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات ایک طرف رکھ کر دہشتگردی کے حالیہ واقعات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس سے نمٹنے کیلئے مشترکہ پالیسی بنائیں اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس حوالے سے اہم بیٹھک لگائے تاکہ بروقت دہشتگردوں سے نمٹا جاسکے وگرنہ صورتحال مزید گھمبیر ہوجائے گی۔ ملک پہلے سے ہی بحرانات اور چیلنجز کا سامنا کررہا ہے دوسری جانب امن وامان کا مسئلہ بھی پیداہوچکا ہے اگر ایک پیج پر سب اکٹھے نہ ہوئے تو ملک میں بڑے بحرانات پیدا ہوسکتے ہیں لہٰذا حالیہ واقعات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے جس کے لیے ایک میکنزم تیار کیاجائے ۔



رمضان پیکج، مہنگائی میں مزید کمی کا امکان

| وقتِ اشاعت :  


حکومت نے یوٹیلیٹی اسٹورز پر بڑا رمضان پیکج دینے کی تیاری کرلی۔اطلاعات کے مطابق یوٹیلیٹی اسٹورز پر 8 ارب28 کروڑ روپے کا رمضان ریلیف پیکج دینے کی تجویز ہے جس کے تحت 19 اشیائے ضروریہ پرسبسڈی دئیے جانے کا امکان ہے۔



تحریک عدم اعتماد، حکومت اوراپوزیشن نے کمرکس لی

| وقتِ اشاعت :  


تحریک عدم اعتماد کے مسودے کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔ تحریک پر80 سے زائد اپوزیشن اراکین کے دستخط کرائے گئے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے پارٹی رہنمائوں کوچائے پربلایا۔ملاقات کے دوران مسودہ پر مشاورت مکمل کرکے قیادت سے جمع کرانے کی ہدایت کا انتظار ہوگا۔ تحریک کے مسودے پر پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن، جے یو آئی ف، اے این پی، بی این پی مینگل اور دیگر کے دستخط ہیں۔اپوزیشن نے اسمبلی اجلاس بلانے کی ریکوزیشن بھی تیار کر رکھی ہے۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے چیمبر کو الرٹ کردیا گیا ہے۔ تحریک عدم اعتماد اور ریکوزیشن کسی بھی وقت جمع کرائی جا سکتی ہے۔