کورونا ویکسینیشن کا عمل شروع، عوام کا تعاون انتہائی ضروری ہے

| وقتِ اشاعت :  


پاکستان میں کورونا ویکسین لگانے کا باقاعدہ آغاز ہو گیا اور اس حوالے سے تقریب نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں ہوئی۔چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بذریعہ ویڈیولنک تقریب میں شروع ہوئے۔ کورونا ویکسین سب سے پہلے اسلام آباد میں ہیلتھ ورکرز کو لگائی گئی۔پہلے روز 40 ہزار ہیلتھ ورکرز کو ویکسین لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا جبکہ آئندہ دنوں میں روزانہ ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو ویکسین لگوا ئے جائینگے۔خیبرپختونخوا اور سندھ میں بھی کورونا ویکسین لگانے کی مہم شروع ہوگئی ہے۔ پہلے مرحلے میں ہیلتھ ورکرز اور پھر بزرگ شہریوں کی ویکسینیشن ہو گی۔



غریب عوام اور بلوچستان حکومت کے تشہیری دعوے

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان کے ساتھ زیادتیوں اورمحرومیوں کی طویل فہرست ہے اس کی ذمہ داری ہمیشہ وفاقی حکومتوں پر ڈالی گئی ہے گوکہ وفاق کا رویہ بلوچستان کے ساتھ کبھی بھی اچھا نہیں رہا جو بلوچستان کا جائز حق ہے اسے بھی نہیں دیاگیا جس طرح دیگر صوبوں میں ترقی وانفراسٹرکچر واضح طور پر دکھائی دیتا ہے ، وہاں کی عوام کی زندگی بلوچستان کے لوگوں سے بہت بہتراور پر آسائش ہے کم ازکم انہیں بنیادی سہولیات بعض حد تک میسر ہیں مگر ہمارے ہاں تو ترقی کے حوالے سے سوچنا تو اپنی جگہ ،بنیادی سہولیات تک آج تک عوام کو نہیں ملے۔ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے۔



کوروناویکسین سے عوام کومحروم نہ رکھاجائے

| وقتِ اشاعت :  


پاکستان میں کورونا ویکسینیشن کا عمل 3 فروری سے شروع ہو گا۔پاکستان میں کورونا ویکسین پہلی کھیپ پاک فضائیہ کا خصوصی طیارہ چین سے لے کر پہنچا۔ ویکسین کو اسلام آباد میں مرکزی اسٹوریج سینٹر میں منتقل کیا جائے گا۔تمام ہیلتھ گائیڈ لائنز کو مدنظر رکھتے ہوئے ویکسین وفاقی اکائیوں کو فراہم کی جائے گی جبکہ ویکسین کی منتقلی کے پلان کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرحتمی شکل دے چکا ہے۔ درجہ حرارت کو برقرار اور وقت بچانے کے لیے سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کو ویکسین طیاروں کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔ویکسین کی پہلی کھیپ مکمل طور پر کووڈ 19 کے خلاف جنگ لڑنے والے فرنٹ لائن ہیلتھ کیئر ورکرز کو لگائی جائے گی۔



بلوچستان اسمبلی میں طویل مباحثہ، عوامی مسائل اوجھل

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان اسمبلی کے حالیہ اجلاس ارکان اسمبلی کی عدم دلچسپی کا شکار ہورہے ہیں، عمومی طور پر دو سے زائد گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہونے والے اجلاس جلد ہی کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کے بعد کچھ دیر اور بعدازاں اگلے اجلاس تک کیلئے ملتوی کردیئے جاتے ہیں۔ ان اجلاسوں میں حکومتی ارکان کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے جبکہ اپوزیشن کی دلچسپی بھی محدود دکھائی دیتی ہے۔ بلوچستان اسمبلی اجلاس کے متعلق ایک تاثر یہ بھی عام ہے کہ طویل اجلاس جاری رہتا ہے جس میں توجہ دلاؤ نوٹس، بل سمیت دیگر معاملات پر ایجنڈے لائے جاتے ہیں ۔



وزیراعظم کی خوش فہمی اور زمینی حقائق

| وقتِ اشاعت :  


وزیراعظم عمران خان اپنی حکومت سے بہت ہی مطمئن دکھائی دیتے ہیں ان کی تقاریر سے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں دو سال کے عرصہ کے دوران عوام بہت سے چیلنجز وبحرانات سے نکل چکے ہیں جبکہ ان کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی آگئی ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری، صحت اور تعلیم سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے جبکہ زمینی حقائق آج بھی اس کے برعکس ہیں کہ ملک میں عوام کس طرح کے دوہرے عذاب میں زندگی گزاررہے ہیں حالانکہ وزیراعظم عمران خان نے خود اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ نظام کو چلانے کیلئے بہت سے معاملات کو سمجھنے میں دیر لگی۔



مہنگائی کا نیاطوفان، حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان

| وقتِ اشاعت :  


یکم فروری سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔اطلاعات کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی سمری پیٹرولیم ڈویژن کو بھیج دی جس میں پیٹرول 12 روپے اور ڈیزل 10 روپے فی لیٹر مہنگا کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اوگرا نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کی سمری 30 روپے فی لیٹر لیوی کی بنیاد پر تیار کی، اس وقت فی لیٹر پیٹرول پر لیوی 21 روپے 56 پیسے اور فی لیٹر ڈیزل پر 23 روپے 9 پیسے ہے۔ حکومت لیوی میں اضافہ نہ کرکے مجوزہ اضافے کو بہت کم سطح پر بھی لاسکتی ہے۔



ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ، ملک میںکرپشن کاراج

| وقتِ اشاعت :  


ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن سے متعلق عالمی فہرست پر مبنی رپورٹ جاری کردی جس کے مطابق پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق پچھلے سال پاکستان میں کرپشن چار درجے اور بڑھ گئی، 2019 کا پاکستان کرپشن انڈیکس 120 تھا، 2020 میں 124 ہوگیا۔چیئرمین ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق کرپشن قومی احتساب بیورو (نیب) کے ان دعوؤں کے باوجود بڑھی کہ دو برسوں میں نیب نے کرپشن کے 365 ارب روپے برآمد کیے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپشن گزشتہ برس کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے۔



معاشی چیلنجز، حکومت کی نئی معاشی پالیسی کیاہوگی؟

| وقتِ اشاعت :  


وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران معاشی اعشاریوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق برآمدات اور بیرونی سرمایہ کاری میں کمی ہوئی اور مالیاتی خسارہ بڑھ گیا۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کی نسبت بیرونی سرمایہ کاری میں 29.8 فیصد کمی آئی۔رپورٹ کے مطابق بیرونی سرمایہ کاری کا حجم ایک ارب 35 کروڑ ڈالر سے کم ہو کر 95 کروڑ ڈالر رہ گیا، مالیاتی خسارہ 21 فیصد اضافہ کے ساتھ 822 ارب روپے تک پہنچ گیا۔



حکومت کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک، پی ڈی ایم خود متفق نہیں

| وقتِ اشاعت :  


پی ڈی ایم کی حکومت مخالف تحریک کا جب آغاز ہوا تو اس سے یہ تاثر ملاکہ اپوزیشن جماعتیں مستقل مزاجی کے ساتھ بغیر کسی ابہام کے اپنے ایجنڈے کے ساتھ آگے بڑھیں گی، سب سے پہلے پی ڈی ایم میں شامل تمام اپوزیشن جماعتوں نے ملک بھر میں جلسوں کا انعقاد کیا اور اس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیاجائے گا اور یہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت کو گھر نہ بھیجا جائے ۔اوراب لانگ مارچ کے ساتھ عدم اعتماد کی تحریک پر بھی بات ہورہی ہے ۔