ملک میں گیس عوام کو کسی بھی موسم میسر نہیں ہے اگر صارفین کو کسی روز گیس نصیب ہوتی ہے تو اس کا پریشر بالکل کم ہی ہوتا ہے جس کی وجہ سے تقریباً گھریلو صارفین کی اکثریت گیس سلینڈر استعمال کررہی ہے کیونکہ خود کو ذہنی اذیت سے بچانے کیلئے سلنڈرز میں مہنگی گیس بھر کر صرف ناشتہ اور کھانے کے اوقات گیس استعمال کرتے ہیں جبکہ سرد علاقوں میں تو سردی سے بچاؤ کیلئے دن رات گیس سلینڈر کا استعمال کیا جاتا ہے۔ گیس کمپنی لوٹ مار کا ذریعہ بن چکی ہے صارفین کو کوئی سہولت میسر نہیں گیس فراہم نہ کرنے کے باوجود بھاری بھرکم بلز بھیجے جاتے ہیں ،غریب عوام کا جینا محال ہوچکا ہے،
پاکستان نے نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے فارمولے میں تبدیلی کا آئی ایم ایف کا مطالبہ مسترد کردیا۔ اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف نے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔
ریاست کو چلانے کیلئے حکومتی نظام موثر اور دیانتداری سے کام کرے اور جمہوریت کے اصل روح کو اپناتے ہوئے فیصلے کرے تو ملک میں مسائل کا خاتمہ یقینی ہو جاتا ہے گوکہ چند مسائل ضرور درپیش رہتے ہیں مگر ملک معاشی، سیاسی مسائل سے دوچار نہیں ہوتا۔
ملک میں نئی حکومت آنے کے بعد کابینہ کی تشکیل کا مرحلہ شروع ہوچکا ہے جبکہ ابتدائی کابینہ میں پیپلز پارٹی شامل نہیں ہے اس بات کا قوی امکان ہے کہ اگلے مرحلے میں پیپلز پارٹی کو کابینہ کا حصہ بنایا جائے گا
منافع خوروں نے رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی ہر چیز مہنگی کردی، ماہ صیام کے دوران منافع خور مافیا نے مہنگائی سے متاثر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کردیا۔
پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زردار ایک بار پھر صدر مملکت بن گئے ہیں جو حکومتی اتحادی جماعتوں کے مشترکہ امیدوار تھے۔ پاکستان میں صدر مملکت کے کردار کے حوالے سے ماضی میں بہت سارے سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں خاص کر پی ٹی آئی کے دور میں تو سابق صدر عارف علوی کے متنازعہ کردار پر اپوزیشن جماعتوں اور اس کے بعد پی ڈی ایم حکومت نے بہت اعتراضات اٹھائے ،ان کے کچھ ایسے اقدامات تھے جو ایک صدر مملکت کی بجائے ایک پارٹی رکن کے طور پر سامنے آتے رہے ہیں ۔