کچھی کینال۔۔۔ معیاری تعمیر کو یقینی بنائیں

| وقتِ اشاعت :  


گزشتہ دنوں کچھی کینال کے پروجیکٹ ڈائریکٹر نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے چیف سیکرٹری کی موجودگی میں ملاقات کی اور ان کو منصوبہ سے متعلق تازہ ترین اطلاعات فراہم کیں اور ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا کہ وفاقی حکومت کچھی کینال کی جاری



کوئٹہ مئیر کے خلاف عدم اعتماد

| وقتِ اشاعت :  


توقع کے مطابق کوئٹہ مئیر کے خلاف علم بغاوت بلند ہوگئی ابتداء سے یہ معلوم ہوگیا تھا کہ مئیر اور اس کے حمایتی کونسلرز عوامی خدمت سے زیادہ جماعتی سیاست اور مفادات کو اہمیت دیتے ہیں اس لیے ان کے لئے یہ وقت آنا تھا



زراعت کے لئے پانی کی فراہمی

| وقتِ اشاعت :  


بلوچستان ایک وسیع خطہ ہے ایک اندازے کے مطابق بلوچستان میں دو کروڑ ایکڑ سے زیادہ زر خیز زمین کاشتکاری کے لئے موجود ہے ۔ یہ بات حکمرانوں کو گزشتہ ستر سالوں سے معلوم ہے لیکن انہوں نے اتنی وسیع و عریض زمین پر کاشت کاری کیلئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی ۔ 1991ء میں جب صوبوں کے درمیان دریائے سندھ کی پانی کی تقسیم کا معاہدہ ہوگیا تو بلوچستان کو دس ہزار کیوسک اضافی پانی دیا گیا یہ صوبوں کا متفقہ فیصلہ تھا آج دن تک یعنی پچیس سال گزر نے کے بعد بھی بلوچستان کو اس کا تسلیم شدہ حق نہیں دیاگیا بلکہ جان بوجھ کر نہیں دیا گیا ۔



بھارت کا جنگی جنون

| وقتِ اشاعت :  


بھارت کا جنگی جنون آج کل سر چڑھ کر بول رہا ہے ۔ آئے دن لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور گولہ باری جاری ہے جس کا واحد مقصد پاکستان پر فوجی دباؤ بر قرار رکھناہے اور دنیا کی توجہ کشمیریوں کے زبردست احتجاج اور آزادی کے مطالبہ سے ہٹانا ہے اور دنیا پر اس وقت یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ علاقے کے امن کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے اور دونوں ملکوں کی فوجیں آمنے سامنے ہیں ۔ لہذا دنیا کشمیر کے مسئلے کو بھول جائے ، لاکھوں کشمیریوں کے بھرپور احتجاج پر توجہ نہ دے



سڑکیں بند کرنے نہ دیں

| وقتِ اشاعت :  


حکومت اور خصوصی طورپر مقامی انتظامیہ عوامی مسائل سے لا تعلق نظر آتے ہیں ، ان کو عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ گزشتہ دنوں معذور افراد نے احتجاج کیا اور سڑکوں پر مظاہرہ کیا اور ٹریفک کو بند کردیا جس کی وجہ سے دن بھر کاروبار زندگی کوئٹہ شہر میں جزوی طورپر مفلوج رہا۔ وجہ یہ بنی کہ کوئٹہ کی تمام بڑی بڑی شاہراہوں پر ٹریفک جام تھا اور لوگوں کے ہزاروں کام کے گھنٹے ضائع ہوئے جس کی براہ راست ذمہ دار صوبائی حکومت اور بالخصوص مقامی انتظامیہ ہے۔



ترک اساتذہ کی ملک بدری

| وقتِ اشاعت :  


ترک صدر اردگان کی پاکستان آمد سے چند روز قبل وفاقی حکومت نے ترک اساتذہ کو ملک بدری کا حکم تھما دیا ۔شاید ترک صدر کی آمد سے قبل طیب اردگان کو یہ تحفہ دینا مقصود تھا کہ ہم بھی ترک اساتذہ کے خلاف کارروائی کررہے ہیں ۔ حکومت کا یہ فیصلہ انتہائی افسوسناک اور یہ تعلیم دشمنی کے مترادف ہے ۔ ترک اساتذہ کے زیر تعلیم تقریباً 12 ہزاربچے ہیں ترک اسکول پاکستان میں اپنی معیاری تعلیم کے بارے میں اچھی ساکھ رکھتے ہیں



پاکستان کی دفاعی تیاریاں

| وقتِ اشاعت :  


بھارت کے رویے سے قیاس کیاجارہا ہے کہ وہ پورے خطے کے امن کو تباہ و برباد کرنے کے درپے ہے ۔ گزشتہ چار ماہ سے کشمیر کی صورت حال میں جو انقلابی تبدیلی آئی ہے اور کشمیریوں نے بھارت کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا ہے اس پر بھارت اور بھارتی حکمران چراغ پا ہیں کہ کشمیر کا مقبوضہ علاقہ ا ن کے ہاتھ سے جاتا دکھائی دے رہا ہے ۔



افغان تارکین وطن کی جلد واپسی ضروری ہے

| وقتِ اشاعت :  


جب سے وفاقی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ دسمبر کے آخر تک افغان مہاجرین کو اپنے وطن واپس روانہ کرنا چاہتاہے اس دن سے پشتون سیاسی قیادت نے حکومت پر دباؤڈالنا شروع کردیاہے کہ ان کو اتنی جلدی واپس نہ بھیجیں۔ افغان تارکین وطن کانفرنس میں پشتون رہنماؤں نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ان افغانوں کو بشمول غیر قانونی تارکین وطن کو مزید پانچ سال پاکستان میں رہنے دیا جائے جبکہ آج پشتون قوم پرست پیچھے ہیں اور مولانا حضرات فضل الرحمان اور سراج الحق جو دو بڑی مذہبی پارٹیوں کے سربراہ بھی ہیں آگے آئے ہیں اور افغان غیر قانونی تارکین وطن کے معاملے میں پیش پیش ہیں ۔



نامکمل گوادر پورٹ کا افتتاح ہوگیا

| وقتِ اشاعت :  


توقع کے مطابق گوادر پورٹ کاافتتاح ہوگیا ۔ چین سے ٹرکوں میں سامان گوادر لایاگیا اور اس کو گوادر بندرگاہ کے ذریعے مغربی ایشیاء اور افریقی ممالک کو روانہ کر دیا گیا۔ اس کا افتتاح وزیراعظم پاکستان نواز شریف ‘ آرمی چیف اور درجن بھر ممالک کے سفراء کی موجودگی میں ہوا اس میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے آئے مہمانوں کو خصوصی طورپر دعوت دی گئی تھی ۔ اس میں بڑی تعداد میں اخبار نویس موجود تھے ۔ اس موقع پر چین کے سفیر نے کہا کہ تجارتی راہداری ایک ہے مگر اس میں کئی راستے استعمال ہورہے ہیں



بلوچستان کونئے دارالخلافہ کی ضرورت

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ مسائل کا شہر بنا ہوا ہے اور روز بروز اس کے مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ شہری انتظامیہ اور صوبائی حکومت کئی دہائیوں سے اس کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہے ہیں بنیادی طورپر اس بڑے شہر کا کوئی والی وارث نہیں ہے ۔