ٹرانسپورٹراور انتظامیہ میں معاملات طے پاگئے ،چیکنگ کا نظام مرتب

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ: کمشنر کوئٹہ ڈویژن کمبر دشتی کی زیر صدارت ٹرانسپورٹرز کے مسائل کے حل کے سلسلے میں اجلاس منعقدہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر کوئٹہ محمد اسحاق ،ڈپٹی کمشنر کوئٹہ دؤاد خان خلجی،کمانڈئٹ غزہ بند کرنل سجاد احمد ،ڈپٹی کمشنر مستونگ علی اکبر بلوچ، ایس ایس پی ٹریفک حامد شکیل، سیکرٹری آر ٹی اے کوئٹہ امان اللہ پائیزئی ،اسسٹنٹ کمشنر مچھ ،کوئٹہ کراچی کوچز یونین کے صدر میر حکمت لہڑی،میر دولت لہڑی ، تفتان کوچز یونین کے حاجی جمعہ خان بادینی ،منی بس ایسوسی ایشن کے حاجی محمد حنیف اور لوکل بس ایسوسی ایشن کے صدر بابو شفیع محمد کے علاوہ دیگر عہدیداران اور نمائندے بھی موجود تھے۔اجلاس میں شرکاء کا موقف سننے کے بعد فیصلہ ہوا کہ کوئٹہ کراچی روٹس کی کوچوں کی ٹول پلازہ دشت پر چیکنگ ہوگی جس کے لئے اضافی عملہ تعینات کیا جائے گا تاکہ مسافروں اور ٹرانسپورٹروں کے مشکلات کم وقت میں دور جاسکے



مری معاہدہ ،وزیراعظم نے کابینہ کی کمیٹی تشکیل دیدی نئے وزیراعلیٰ کیلئے سفارشات مرتب کی جائیں گی

| وقتِ اشاعت :  


اسلام آباد : وزیراعظم نواز شریف نے بلوچستان میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب اور مری معاہدے پر عملدرآمد کیلئے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی سربراہی میں کابینہ کی ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، کمیٹی میں وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید ، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، وزیر سرحدی امور لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ شامل ہیں۔ کمیٹی مری معاہدے پر عملدرآمد کیلئے جلد اپنی سفارشات مرتب کرے گی اور بلوچستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک نیشنل پارٹی کے رہنما میر حاصل خان بزنجو، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے صدر محمود خان اچکزئی سے ملاقات کرے گی



سردی کی شدت میں اضافے کیساتھ ہی بلوچستان میں گیس رخصت عوام ٹھٹھرکررہ گئے

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ: کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسم سرما کی پہلی برف باری کے ساتھ ہی جہاں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے وہاں گیس بھی حسب معمول رخصت ہوگئی ہے بلوچستان میں گیس کوئٹہ کے علاوہ چند ہی علاقوں کو فراہم کی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود سردیوں کے موسم میں گیس کا مکمل غائب ہوجانا ایک معمول بن گیا ہے گزشتہ روز سردی کی شدت میں اضافہ کے ساتھ ہی کوئٹہ، قلات، مستونگ، مچھ ودیگر علاقوں کو گیس کی سپلائی تقریباً معطل ہوچکی ہے لوگ شدید سردی میں متبادل کے طور پر لکڑیاں جلا کر گزارا کررہے ہیں تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں ہونے والی برف باری نے ایک جانب سردی کی شدت میں اضافہ کردیا ،، تو دوسری جانب شہر کے بیشتر علاقوں میں سوئی گیس کی عدم دستیابی کے مسلے نے سنگین صورتحال اختیار کرلی ہے وادی کوئٹہ میں بدھ کی صبح برف باری کے بعد سرد ہوائیں چلنے سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا



کوئٹہ ،مستو نگ اور زیارت میں موسم سر ما کی پہلی برفباری سردی کی شدت میں اضافہ

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ: کوئٹہ میں بارش اور برفباری کے بعد موسم سرد ہوگیا۔ مستونگ، زیارت، کان مہترزئی اور دیگر علاقوں میں بھی برفباری ہوئی ۔ کوئٹہ چمن شاہراہ پر پھسلن کے باعث ڈرائیوروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تفصیلات کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب کوئٹہ اور گرد و نواح میں ہلکی بارش کا سلسلہ شروع ہوا اور رات گئے کوئٹہ کی فضاؤں پر گہرے بادل چھا گئے۔ بدھ کی علی الصبح برفباری شروع ہوئی جو تقریباً دس بجے تک جاری رہی ۔ برفباری کے بعد کوہ چلتن، کوہ مہرداراور دیگر پہاڑوں نے سفید چادر اوڑھ لی جس سے وادی کوئٹہ کی دلکشی میں اضافہ ہوگیا۔حسین موسم سے لطف اندوز ہونے کیلئے شہروں کی بڑی تعداد نے ہنہ جھیل، ہنہ اوڑک، تکتو ، ہزارگنجی نیشنل پارک کے علاوہ تفریحی مقامات اور پارکوں کا رخ کیا۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے دوستوں اور اہلخانہ کے ہمراہ پرنس روڈ، ایئر پورٹ روڈ ، کچلاک اور شہر کے دیگر مقامات پر واقع کھانے پینے کے مراکز کا بھی رخ کیا اور گرما گرم کھانوں سے سردی کا مقابلہ کیا۔



اصل ’’مالک ‘‘کوئی اور ہے مری معاہدے پر عملدرآمد ہوتا نظر نہیں آرہا ، حافظ حسین احمد

| وقتِ اشاعت :  


سبی : جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات سابق سینیٹر و پارلیمنٹرین حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ مری معاہدے پر عملدرآمد ہوتے نظر نہیں آرہا آئندہ کے اڑھائی سال بھی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی صورت میں اصل مالک بلوچستان میں حکومت کریں گے، ناراض بلوچوں کو رضامند کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بلوچستان کے ساحل و سائل پر اختیارات صوبے کے حوالے کئے جائیں، بلوچستان پیکیج کے ذریعے مسائل حل نہیں ہوسکتے،حالات کو بہتر بنانے کے لیے بلوچستان کے عوام میں پھیلی احساس محرومی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے، ناراض بلوچوں کو رضامند کرنے کے لیے اگر ہمیں ٹاسک دیا جائے اور مکمل اختیارات دئیے جائیں تو ناراض لوگوں قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے بلوچستان میں واپس لاسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ پریس کلب



وزارت اعلیٰ کا امیدوار نہیں ، سرفراز بگٹی

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ : وزیر داخلہ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ نہ میں پہلے وزارت اعلیٰ کی دوڑ میں تھا اور نہ اب ہوں مسلم لیگ (ن) بلوچستان کا پارلیمانی گروپ نواب ثناء اﷲ زہری کی قیادت میں متحد ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں۔من گھڑت خبروں کے ذریعے پارلیمانی گروپ میں بد گمانیاں پیدا کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ مری معاہدہ ایک حقیقت ہے جس کی پاسداری اتحادی جماعتیں کریں گی۔صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر داخلہ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس خبر کی سختی سے تردید کی کہ جس میں کہا گیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے پارلیمانی لیڈر نواب ثناء اﷲ زہری نے وزارت اعلیٰ کیلئے ان سے رابطہ کیا ہے۔ وزیر داخلہ میر سرفرازبگٹی نے اس خبر کو من گھڑت اور پارلیمانی گروپ میں دراڑیں ڈالنے کی سازش قرار دیتے



ٹرانسپورٹروں کا فورسز کے رویئے کیخلاف احتجاج ،قومی شاہراہیں بند کر دیں ،حکام سے مذاکرات میں پہیہ جام ہڑتال موخر

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ : آل بلوچستان ٹرانسپورٹ ایکشن کمیٹی اور لوکل ایسوسی ایشن کی جانب سے نئے ٹائم ٹیبل 2006 ء ماڈل سے پرانی لوکل بسوں کی بندش اور سیکورٹی فورسز کے کانوائے کے نام پر گاڑیوں کو روکے جانے کیخلاف منگل کو صوبے کے مختلف علاقوں میں پہیہ جام ہڑتال کی گئی اور مختلف شاہراہوں کو ٹرانسپورٹرز نے بند کئے رکھا احتجاج کے دوران مختلف روٹس کی لوکل بسیں بھی نہ چل سکیں تاہم ان کی ہڑتال رکشہ والوں کیلئے رحمت بن گئی تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ٹرانسپورٹ ایکشن کمیٹی اور لوکل ایسوسی ایشن کی جانب سے پہیہ جام ہڑتال کی گئی جس کے دوران ٹرانسپورٹروں نے مختلف شاہراہوں کو ٹریفک کیلئے بند کئے رکھا ٹرانسپورٹروں کا مطالبہ ہے کہ کانوائے کے نام پر ان کی بسوں اور گاڑیوں کو گھنٹوں تک روکنا سراسر ظلم ہے جبکہ وہ نئے ٹائم ٹیبل اور 2006ء ماڈل تک بسوں کی



سپریم کورٹ نے لاپتہ افرادکے کیسز خارج کردیئے ،انسانی حقوق کی پامالیوں کیخلاف کل احتجاج کیا جائیگا بلوچ وائس فار مسنگ پرسنز

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ: بلوچ فار وائس مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے لا پتہ افراد کے تمام کیسز کو خارج کر دیااور ہمارے تنظیم کی طرف سے چیف آف جسٹس پاکستان کو ایک خط ارسال کریں گے جس میں چیف جسٹس آف پاکستان سے دوبارہ اس فیصلے پر نظر ثانی کے متعلق درخواست کرینگے۔ 10 دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع بلوچ فار وائس مسنگ پرسنز اور ایچ آر سی پی کے زیر اہتمام بلوچستان میں انسانی حقوق کی پاما لیوں کے خلاف کوئٹہ میں ایک احتجاجی ریلی نکالی جائیگی اور کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاج بھی کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔



بلوچستان آپریشن ،بی این ایف نے 10 دسمبر کو شٹرڈاؤن وپہیہ جام کا اعلان کر دیا

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ : بلوچ نیشنل فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ اعلامیے میں جمعرات 10 دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں جاری آپریشن ، ایک مہینے سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود بولان سے اغواء ہونے والے درجنوں خواتین کی عدم بازیابی اور لاپتہ بلوچ کارکنوں کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کی کاروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں سیاسی کارکناں کی اغواء اور انہیں قتل کرنے کی کاروائیاں روز کا معمول بن چکے ہیں۔ مقامی میڈیا سمیت دوسرے اداروں کو ریاست نے اپنے کنٹرول میں لیکر اپنے جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو دنیا سے چھپانے کی کوشش کررہا ہے۔ تاکہ مہذب ممالک بلوچستان میں جاری نہتے بلوچ عوام کی قتل عام سے بے خبر رہیں۔



گوادر سے متعلق اے پی سی اہمیت کی حامل ہوگی تمام جماعتوں کو مد عو کرینگے بی این پی

| وقتِ اشاعت :  


کوئٹہ: گوادر میں بلوچوں کو درپیش مسائل تحفظات و خدشات کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس اہمیت کی حامل ہوگی پارٹی کے لئے بلوچوں کو درپیش مسائل کے حل اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے مردم شماری بلوچستان کے مخدوش حالات و لاکھوں کی تعداد میں غیر ملکی مہاجرین کی موجودگی میں ممکن نہیں نہ اسے قبول کریں گے ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ بی این پی گوادر میں بلوچوں کو درپیش مسائل تحفظات ، خدشات کے حوالے سے اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرے گی جس میں تمام جماعتوں کو مدعو کیا جائیگا یہ کانفرنس گوادر کے اختیارات بلوچستان کو دینے ، گوادر میں مقامی بلوچوں اور بلوچستان کے عوام کو اقلیت میں تبدیل ہونے سے روکنے کی خاطر قانون سازی اور بلوچوں کو درپیش دیگر مسائل کے حوالے سے کانفرنس کا منعقد کرنا اہمیت کا حامل ہوگا