|

وقتِ اشاعت :   March 1 – 2015

اسلام آباد : پاکستان میں تنقید پر سعودی عرب میں پائے جانے والے اشتعال کے پیش نظر ریاض کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف کو سرپرائز ‘ دعوت نامے’ نے متعدد حلقوں کو دورے کے ایجنڈے کے حوالے سے حیرت میں مبتلا کردیا ہے۔ وزیراعظم کے دفتر نے جمعے کی شب رائے گئے جاری ایک بیان میں کہا تھا ” سعودی عرب کے نئے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود نے وزیراعظم کو مارچ کے پہلے ہفتے میں سعودی عرب کے دورے کا خصوصی دعوت نامہ ارسال کیا ہے”۔ قومی سلامتی اور خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے ڈان کو بتایا کہ اس دورے کے دوران باہمی عاون کے معاملات زیربحث آئیں گے جو کہ سعودی عرب میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد پہلا موقع ہوگا، وزیراعظم نے سعودی عرب کا آخری دورہ شاہ عبداللہ کی تدفین کے موقع پر کیا تھا۔ اب تک سعودی عرب کے نئے دورے کے لیے تاریخوں کا تعین نہیں کیا گیا ہے حالانکہ سعودی دعوت نامے میں وزیراعظم کو مارچ کے پہلے ہفتے کے دوران آنے کا کہا گیا ہے۔ سعودیوں کی جانب سے کوئی عندیہ سامنے نہیں آیا کہ میاں نواز شریف سے ملاقات کے دوران کیا کچھ زیربحث آئے گا تاہم سفارتی اور خارجہ پالیسی کے مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کا جواب موجودہ صورتحال کی تناظر میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ان کے بقول سعودی حکام اس وقت پاکستان میں پھیلنے والے ان الزامات پر بہت زیادہ اضطراب کا شکار ہیں کہ سعودی ریاست انتہاپسندی اور دہشت گرد گروپس کو فنڈنگ کررہی ہے۔ سعودی سفارتخانے نے غیرمتوقع اقدام کے طور پر کچھ روز قبل اپنی پوزیشن کو کلیئر کرنے کی کوشش کی تھی مگر تنازع کے اختتام کی بجائے اس سے سفارتخانے اور دفتر خارجہ کے درمیان نچلی سطح کا تنازع کھڑا ہوگیا۔ سفارتخانے کے مدارس کو فنڈنگ کے حوالے سے دعویٰ کی ڈھکی چھپی تردید کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ” سعودی عرب کی جانب سے اقتصادی معاونت اور منصوبوں کی مد میں معاونت کا پراسیس وزارت خارجہ کی جانب سے متعلقہ محکموں اور حکومت پاکستان کے اداروں کی مشاورت کے ساتھ ہوتا ہے”۔ کچھ حلقے دعویٰ کرتے ہیں کہ سعودی عرب کے پاکستان کے لیے نامزد سفیر عبداللہ زہرانی کی آمد میں تاخیر کی وجہ بھی تعلقات میں چھپی کشیدگی ہے۔ ذرائع کے مطابق سفیر عبداللہ زہرانی کی آمد آٹھ ہفتے قبل متوقع تھی۔ پاکستان میں آٹھ ماہ سے کوئی سعودی سفیر نہیں اور علی سعید عصری کو پہلے پاکستان کے لیے نامزد کیا گیا تھا مگر ان کا نام مشرق وسطیٰ کے حالات کی وجہ سے واپس لے لیا گیا۔ عبداللہ زہرانی اسلام آباد اور بیروت میں علی سعید عصری کے نائب کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ ایک تجزیہ کار کے مطابق ریاض اسلام آباد سے اس بات پر ناخوش ہے کہ وہ ڈیرھ ارب ڈالرز دیئے جانے کے موقع پر ہونے والی ڈیل کے مطابق اپنا عزم پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس مالی معاونت کا اعلان گزشتہ سال نئے سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز السعود کے بطور ولی عہد دورہ پاکستان کے موقع پر کیا گیا تھا۔ اگرچہ پاکستنا انکار کرتا رہا ہے کہ یہ رقم مخصوص مقاصد کے لیے دی گئی تھی تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ریاض کے خطے میں مفادات کا تحفظ کرنا تھا۔ ایران کے جوہری پروگرام پر سیاسی فریم ورک کی ڈیڈلائن قریب آنے پر ریاض بہت زیادہ متفکر ہے۔ ایک سفارتی ذرائع نے بتایا کہ سعودی عرب کو ایران کے مقابلے کے لیے پاکستان کی مدد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے اور ریاض اسلام آباد کو اس کے وعدے یاد دلانا چاہتا ہے۔ سعودی عرب کو امریکا کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے والی پیشرفت پر بریفننگ دی گئی ہے۔ وزیراعظم کا ریاض کا دورہ اس وقت ہوگا جب ایران اور چھ عالمی طاقتیں حتمی معاہدے کی تفصیلات کو آخری شکل دیں گی اور اس موقع پر ریاس اسلام آباد کو اپنی جانب دیکھنا چاہتا ہے۔ نواز شریف نے سعودی عرب میں سرمایہ کاری کررکھی ہے اور توقع ہے کہ اس بار انہیں مختلف سلوک کا سامنا ہو۔ سعودی ریاست کا نیا سیٹ اپ پاکستان کو اتنی ہمدردی سے نہیں دیکھ رہا جتنا مرحوم شاہ عبداللہ دیکھتے تھے۔