|

وقتِ اشاعت :   6 days پہلے

کوئٹہ :  پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سینئر نائب صدر سینیٹر سردار یعقوب خان ناصر نے کہاہے کہ مسلم لیگ (ن) ،پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ،نیشنل پارٹی وزیراعلی کیلئے اپنا متفقہ امید وار سامنے لائیں گی۔

تینوں جماعتیں انٹر پارٹی مشاور ت کررہی ہیں جس کے بعد حتمی طورپر وزیراعلی کے امید وار کااعلان کیا جائے گا 2018کے عام اتخابات وقت پر ہونے چائیں ۔

سینیٹ انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی باتیں محض افواہیں ہیں اگر چار مہینے کیلئے بھی حکومت بن رہی ہے تو اسے چلنے دیا جائے یہ بات انہوں نے جمعرات کو اپنی رہائش گاہ پر مسلم لیگ (ن) اور پشتونخواملی عوامی پارٹی کے ارکان صوبائی اسمبلی سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے وفد میں ڈاکٹر حامد اچکزئی ،عبدالرحیم زیارتوال ،لیاقت آغا ،عبیداللہ بابت ،مجید خان اچکزئی جبکہ مسلم لیگ (ن) کے میر اظہار کھوسہ ،محمد خان لہڑی ،سردار درمحمد ناصر ،شکیل بلوچ ،پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی جنرل سیکرٹری نصیب اللہ بازئی شامل تھے ۔

سینیٹر سردار یعقوب خان ناصر نے کہاکہ ہم منحرف ارکان سے کسی صورت اتحاد یا بات چیت نہیں کرینگے ہم اپنے اتحادیوں کو ساتھ لیکر چلیں گے مسلم لیگ (ن) کے چھ ارکان ،پشتونخواملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے تمام اراکین اب ایک اور یک زبان ہیں ہمار افیصلہ بھی ایک ہوگا ۔

انہوں نے کہاکہ نواب ثناء اللہ خان زہری اس وقت کراچی میں ہیں ہم ان سے بھی بات کرینگے کہ وہ آئیں اور اکھٹے ملکر مقابلہ کریں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ حکومت کے دو ہفتے کے مہمان ہونے کی باتیں محض افواہیں ہیں یہ صرف صوبے میں جمہوریت ختم کرنے اور نقصان پھیلائی جارہی ہیں چار یا پانچ مہینے کی بات ہے حکومت چلنے دینگے سینیٹ کے انتخابات ضرورہونے چاہیے اور 2018ء کے عام انتخابات بھی اپنے وقت پر ہونے چاہیے ۔

انہوں نے کہاکہ تینوں پارٹیاں فل الحال مشاور ت کررہی ہیں اور جلد ہی وزیراعلی کا متفقہ امیدوار سامنے لائیں گے۔

ہر جماعت کی نظر اگلے عام انتخابات پر ہیں اور تمام جماعتیں اسی کے تناظر میں فیصلے کررہی ہیں جو ہماری پوزیشن ہے وہ ہم پانچ ماہ کیلئے خراب نہیں کرینگے ۔

دریں اثناء پاکستان مسلم لیگ(ن)کے رکن اسمبلی سردار درمحمد ناصر کی رہائش گاہ پر مسلم لیگی اراکین اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں بلوچستان اسمبلی کے قائد ایوان کے انتخابی عمل کے لئے مشاورت کی گئی اور قائد ایوان کے لئے اتحادی جماعتوں پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی نیشنل پارٹی سمیت جمیعت علمائے اسلام و دیگر جمہوری سوچ رکھنے والی جماعتوں سے رابطے کا فیصلہ کیا گیا ۔

اجلاس میں سردار درمحمد ناصر، حاجی محمد خان لہڑی، میر اظہار حسین کھوسہ، کشور احمد جتک، ثمینہ شکیل ،انیتا عرفان نے شرکت کی اجلاس میں قائد ایوان کے انتخابی عمل کے لئے بات چیت کی گئی۔

اجلاس کے اختتام پر جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن )کے ہم چھ اراکین اسمبلی متحد ہیں اور اتفاق رائے سے قائد ایوان کے لئے قابل قبول متفقہ امیدوار کا فیصلہ کیا جائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ ہم انفرادی حیثیت میں نہیں بلکہ اجتماعی مشاورت سے اپنا حق رائے دہی کسی ایک امیدوار کے حق میں استعمال کرنے یا آزاد بینچوں پر بیٹھنے سمیت مختلف آپشن پر غور کریں گے۔

اس متعلق نیشنل پارٹی پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی سمیت جمیت علما اسلام و دیگر جماعتوں سے رابطہ کرکے متفقہ امیدوار لانے پر بھی غور کیا جائے گا جس پر مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور اس ضمن میں کل تک حتمی فیصلہ کر کے اس کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد سیاسی عمل کا حصہ تھی اور اس عمل کے بعد کی صورتحال کو جمہوری نکتہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے ۔

پاکستان مسلم لیگ کے تمام اراکین اسمبلی بلوچستان کی روایات کو مقدم رکھتے ہوئے سیاسی عمل کو سیاست تک ہی محدود رکھنے اور بلوچستان کی تیز رفتار ترقی اور پائیدار قیام امن کے لئے کوشاں ہیں ۔

تمام اراکین اسمبلی کو عوام نے اپنے مسائل کے حل کے لئے ایوان میں بھیجا ہے اور عوامی امنگوں اور توقعات پر پورا اترنے کے لئے عوامی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ ہماری رائے کے مطابق ترجیحی طورپر قائد ایوان اکثریتی پارٹی پاکستان مسلم لیگ(ن) سے ہونا چاہئے ۔

انہوں نے کہا کہ انفرادی طور پر ہم سے قائد ایوان کے انتخاب کے لئے رابطے کئے گئے ہیں تاہم ہم مشترکہ طور پر اپنے ووٹ ایک ہی امیدوار کے حق میں استعمال کریں گے یا پھر دیگر آپشن پر غور کریں گے تاہم اس بات کا حتمی فیصلہ کل بروز جمعہ ایک پریس کانفرنس میں کیا جائے گا۔