|

وقتِ اشاعت :   December 7 – 2016

گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں روزگار فراہم کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ بلوچستان ملک کا سب سے بڑا سمگلنگ زون ہے جہاں سے صنعتوں اور تجارت کا صفایا سرکاری طورپر کیا گیا ہے تاکہ بلوچستان میں روزگار کے ذریعے موجود نہ ہوں اور نہ ہی مزاحمتی معیشت کا وجود ہو ۔ صرف چند میل کے فاصلے پر کراچی کے قریب صنعتی شہر آباد کیا گیا اورجب یہ فیصلہ ہوا کہ لاہور اور وسطی پنجاب میں درجنوں صنعتی شہر قائم کرنے ہیں تو سندھ اور بلوچستان میں صنعتوں سے وہ تمام مراعات واپس لے لی گئیں اور سرمایہ کاری کا رخ وسطی پنجاب کی طرف پھیر دیا گیا۔ ابھی تک غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاری کا رخ وسطی پنجاب کی طرف ہے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب ایک ہما گیر شخصیت کے مالک ہیں آئے دن غیر ملکی دوروں پر رہتے ہیں ۔ مشیر خارجہ سے زیادہ غیر ملکی دوروں پر رہتے ہیں اور اکثر و بیشتر مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدات پر دستخط کرتے رہتے ہیں اور ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ پوری سرمایہ کاری کا محور پنجاب ہو ۔ ہمیں نہیں معلوم کہ بلوچستان میں کسی فرد واحد یا غیر ملکی کمپنی نے سرمایہ کاری کی خواہش کااظہار کیا ہو ۔ موجودہ حالات میں شاید ہی کوئی سرمایہ کار بلوچستان کا رخ کرنے کی جرات کرے گا یا اپنا سرمایہ اور اپنی زندگی کو خطرات سے دو چار کرے گا۔ اس لیے بلوچستان میں روزگار کا واحد ذریعہ صرف صوبائی حکومت اور اس کے ادارے ہیں ۔ سالانہ تیس ہزار سے زیادہ طلباء تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہو کر بے روزگاروں کی وسیع فوج میں شامل ہورہے ہیں اور اب تک یہ فوج لاکھوں میں پہنچ چکی ہے ۔ بلوچستان میں وزراء اور ایم پی اے حضرات اپنا اثر ورسوخ استعمال کرکے روزگار کے ذرائع پر جابرانہ قبضہ کرتے ہیں ۔ پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں ‘ پارٹی کے کارکنوں اور باقی بچنے کے بعد ان سب کو نیلام کرتے نظر آتے ہیں ۔ معمولی سرکاری نوکری کے لیے رشوت کا ریٹ پانچ لاکھ سے دس لاکھ تک پہنچ گیا ہے ۔ ملازمت فراہم کرنے کا کاروبار وزراء اور ایم پی اے حضرات کے ہاتھوں میں ہے ۔ میرٹ نام کی کوئی شے گزشتہ تیس سالوں سے وجود نہیں رکھتی ۔ آنے والے دنوں کا کچھ نہیں کہہ سکتے ۔لاکھوں بے روزگار نوجوان ‘ خصوصاً تعلیم یافتہ نوجوان شدید مایوسی کا شکار ہیں ان کے دل کو بہلانے کے لئے کبھی گوادراور کبھی سی پیک کی جھوٹی نوید سنائی دے رہی ہے جس کو مکمل ہونے اور فعال ہونے میں دہائیوں درکار ہیں ۔ حال ہی میں ایک اجلاس میں یہ انکشاف ہوا کہ بلوچستان میں 35ہزار آسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں اور چیف سیکرٹری نے ان پر بھرتیوں کا حکم بھی دے دیا ہے۔ لیکن ہمیشہ کی طرح یہ نوکریاں وزراء اور ایم پی اے حضرات کو کوٹہ کے طورپر تقسیم نہ کیے جائیں جیسا کہ سالانہ کروڑوں روپے کا ترقیاتی فنڈ ایم پی اے اور وزراء کو دیا جاتا ہے ۔ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ان تمام خالی آسامیوں کو پر کیاجائے اس میں صوبائی وزراء‘ ایم پی اے اور سیکریٹری صاحبان کی ذاتی پسند نا پسند اورمرضی شامل نہ ہو ۔ اگر ہوئی تو تمام ملازمتیں ان کے قریبی رشتہ داروں ‘ ان کے سیاسی نوکروں کو ملیں گی باقی بچنے والے پوسٹ نیلام ہوں گے۔ پہلے ہی معمولی پوسٹ کی بولی پانچ لاکھ روپے سے شروع ہوچکی ہے ۔ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد سے سیاست پر غیر سیاسی لوگوں خصوصاً تاجروں کا قبضہ کروایا گیا ہے حکمران چونکہ تاجر ہیں ‘ صنعت کار ہیں اس لیے وہ ملک کے تمام معاملات کو تاجروں اور صنعت کاروں کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ سیاست اور خصوصاً قومی اور صاف ستھری سیاست سے ان کا دور کاکبھی گزرہوا ہی نہیں اس لیے ملک معاشی اور سیاسی طورپر تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے ۔ بلوچستان ہر طرف سے آفات میں گھرا ہوا ہے ۔چاروں طرف ملک کے دشمن حملہ کرنے کے لیے تیار اور ہم ہیں کہ ایک چپڑاسی اور چوکیدار کو اس کا جائز حق دینے کو تیار نہیں ہیں ۔