|

وقتِ اشاعت :   April 29 – 2015

کوئٹہ :وفاقی وزیر مملکت برائے تعلیم بلیغ الر حمان نے کہاہے کہ موجودہ حکومت نے سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے نئے نصاب میں طلباء کو گھریلوں اور معاشرتی ذمہ داریوں کیساتھ ساتھ جدید علوم سے آشنا اور قوم کے اصل ہیرؤز کے بارے میں آگاہی کے مضامین شامل کئے جائیں گے ہایئر ایجوکیشن ملک کے تمام یونیورسٹیوں کو برابری کی سطح پر فنڈ فراہم کررہی ہے پہلی بار یونیورسٹیوں کے فنڈ کو چالیس ارب سے بڑھا کر 70 ارب روپے کردیا گیا ہے چونکہ 18ویں ترمیم کے بعد تمام صوبوں کو اپنی مرضی سے نصاب اور کریکلم کو مرتب کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے تاہم وفاقی وزیر تعلیم صوبوں کے درمیان رابطے اور کوآرڈی نیشن کے ذریعے ملکر 2009ء کی نئی ایجوکیشن پالیسی لاگو کرنے کیلئے کام کررہی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں صوبائی مشیر تعلیم رضا محمد بڑیچ اور ایم پی اے پرنس احمد علی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ہم نے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کا تہہ کر رکھا ہے وفاقی حکومت اور صوبوں کے درمیان مل جل کر کام کرنے کی پالیسی بنائی گئی ہے 18ویں ترمیم کے بعد گو کہ صوبوں کو اپنی پالیسیاں بنانے کا مکمل اختیار دے دیا گیا ہے اور صوبوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مثبت اور اعلیٰ معیار کے نصاب اور پالیسی کو مرتب کریں انہوں نے کہا کہ آئی ٹی ایم سی فورم کے تحت وفاق اور صوبوں کے درمیان ایک کوآرڈی نیشن کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اس فورم کا ایک اجلاس ہر تین ماہ کے بعد صوبے میں جبکہ دوسرا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوتا ہے اس اجلاس میں تعلیم کے حوالے سے ہر پہلے کا جائزہ لیا جاتا ہے جس کا مقصد ہم اکٹھے ہوکر ایسی پالیسیاں ترتیب دیں جس سے تعلیمی نظام پر مثبت اثرات مرتب ہوں اس کے علاوہ کسی صوبے کی ایسی کارکردگی یا کمزوریوں کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے اگر کسی علاقے یا صوبہ میں تعلیم کی بہتری کیلئے مثبت کام ہوتا ہے تو دوسرے صوبے میں اس سے استعفادہ حاصل کرسکتا ہے انہوں نے کہا کہ کسی بھی ترقیاتی ملک میں تعلیمی نصاف اور کریکلم پر کوئی مداخلت برداشت نہیں کرتا اسی وجہ سے ان کا نظام تعلیم جدید خطوط پر استوار ہوتا ہے پاکستان میں اس طرح کے اقدامات بہت کم نظر آتے ہیں انہوں نے کہا کہ وفاق اپنی طرف سے کریکلم نہیں بناتا تاہم وہ صوبوں کی مدد ضرور کرتاہے اور انہیں وسائل بھی فراہم کررہا ہے انہوں نے کہا کہ صوبوں کو یہ بھی اختیار دیا گیا ہے کہ وہ نصاب میں ریجنل سطح کے ہیرؤز کے کارناموں کو بھی نصاب میں شامل کریں انہوں نے کہا کہ نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2009ء کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو ہنگامی بنیادوں پر اپنا کام کررہی ہے ہایئرایجوکیشن کمیشن تمام صوبوں کو یکساں بنیادوں پر فنڈز فراہم کررہی ہے تاہم بلوچستان جیسے پسماندہ علاقوں کی یونیورسٹیوں کو اضافی فنڈز فراہم کیا جاتا ہے موجودہ حکومت نے پہلی بار یونیورسٹی کے بجٹ کو 40سے بڑھاکر 70ارب روپے کردیا گیا ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پالیسی میں ٹیکنیکل اداروں کو خصوصی اہمیت دی جارہی ہے اداروں کو جدید اور فعال بنایاجارہا ہے جس کی ہمیں ضرورت بھی ہے تاکہ ہم اپنے بچوں کو تعلیم کیساتھ ساتھ ٹیکنیکل ہنر سے بھی آشنا کرسکیں پاکستان میلینیم ڈویلپمنٹ گول میں بہت پیچھے ہے جس کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ تعلیمی پالیسی کمیٹی بارے پیمانے پر اعلیٰ اور ٹیکنیکل لوگوں کو شامل کیا گیا ہے بلوچستان حکومت کی جانب سے بجٹ میں اضافے اور این ٹی ایس کے سسٹم کے لاگو ہونے سے کافی مثبت اثرات مرتب ہونگے ۔