|

وقتِ اشاعت :   May 11 – 2015

کوئٹہ : بلوچ ریپبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیر محمد بگٹی نے کہا ہے کہ فورسز نے آج علی الصبح سوئی کے قریب مٹھ کے علاقے کو گھیرے میں کر ایک کارروائی کا آغاز کیا جو دن بھر جاری رہی دوران کارروائی فورسز نے سینکڑوں گھروں میں موجود اشیا اپنے قبضے میں لینے کے بعد گھروں کو نذرآتش کردیا جبکہ بلوچ فرزند بگٹی ولد بخش علی اور سائیں داد ولد خان محمد بگٹی کی لاشیں بھی کارروائی کے دوران پھنکی گئی ہے جنہیں دو دن قبل پٹ فیڈر کے علاقے آر ڈی 238 سے اغوا ء کیا گیا تھا اور آج انہیں مزاحمت کار ظاہر کر کے شہید کردیا گیا ہے جس کا مقصد انسانی حقوق کے اداروں کے سامنے اپنے سنگین جرائم کو چھپانا ہے اپنے جاری کردہ بیان میں ترجمان نے کہا کہ فورسز مزید پانچ بے گناہ بلوچوں کواپنے ساتھ لے گئے جن کی شناخت عثمان ولد پیشا بگٹی’ لمبو ولد تراتی بگٹی’ اسماعیل ولد موالی بگٹی’ واحد ولد گاہنڑا بگٹی اور بزدار ولد بلوچان کے نام سے ہوئی ہے ترجمان نے کہا کہ جہاں عالمی دن کے موقع پر دنیا بھر میں ماؤں کے حوالے سے یاد کیا جا رہا ہے وہی ریاست بلوچ ماؤں کی گود اجاڑنے میں مصرف ہے انہونے کہا کہ ریاست کی بلوچستان میں کارروائیوں میں روزانہ اضافہ ہوتا جارہا ہے باوجود انسانیت سوز مظالم کے اقوام متحدہ سمت عالمی انسانی حقوق کے ادارے خاموشی آختیار کیے ہوئے ہیں جو باعث تشویش ہے اور اسی خاموشی کا فائدہ آٹھاتے ہوئے ریاست اپنی بلوچ کش سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہے ترجمان نے عالمی اداروں سے ایک بار بھر اپیل کی ہے کہ وہ ریاست کی بلوچ کش پالیسیوں کا نوٹس لیتے ہوئے بلوچستان میں فوری مداخلت کریں۔