|

وقتِ اشاعت :   July 14 – 2016

بلوچستان میں حالیہ ہفتوں اور مہینوں میں آبپاشی کے لئے پانی کا بحران شدت اختیارکر گیا ہے چونکہ بلوچستان ملک کے نہری نظام کے آخری سرے پر واقع ہے اس لئے سندھ صوبے میں پانی کو روک لیا جاتا ہے اور پہلے وہاں کی تمام ضروریات پوری کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور بعد میں جو پانی بچ جاتا ہے تو اس کو بلوچستان کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ بلوچستان ملک کا سب سے بڑا اور زیادہ لا وارث صوبہ ہے اس لئے طاقتور لوگ اس کے حقوق زیادہ شدت کے ساتھ غصب کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہ مسئلہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں موجود ہے اور بلوچستان کے ساتھ سندھ بھی زیادتی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتا ۔ بلوچستان میں دو بڑی نہریں ہیں ایک پٹ فیڈر اور دوسرا کھیرتھر کنال جو نصیرآباد کو آباد کرتا ہے کیرتھر کینال کا کوٹہ اب 2400 لاکھ کیوسک پانی ہے آج کے دن اس کو صرف 1100 لاکھ کیوسک پانی مل رہا ہے یعنی کوٹے سے 1300کیوسک کم ۔ دوسرے الفاظ میں اس کے کوٹے کا نصف سے زیادہ پانی سندھ زبردستی اور طاقت کے زور پر حاصل کررہا ہے چونکہ نہری نظام میں سندھ پہلے آتا ہے اس لئے وہ زیادہ سے زیادہ پانی استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے بلکہ پہلے اپنی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے اور بعد میں بلوچستان کے لئے نہری نظام میں پانی چھوڑتا ہے چونکہ ملک میں انصاف ناکام کی کوئی چیز نہیں ہے اور نہ ہی حکمران انصاف دینے کے حامی ہیں اس لئے کمزور اور نادار کا حق پہلے چھین لیا جاتا ہے۔ 1300 لاکھ کیوسک پانی کی کمی کے باعث 90ہزار ایکڑ زمین کیر تھر کینال کے علاقے میں بنجر بن گئی ہے وفاق اور دیگر متعلقہ ادارے اس کا نوٹس نہیں لیتے اور بلوچستان کو اس کے نہری پانی کے حق سے محروم رکھا جارہا ہے جو وفاقیت کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے ۔ سکھر بیراج کا ایک انجینئر اپنی من مانی کارروائیاں کررہا ہے اور ایک آدمی نے پورے صوبے کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے اس نے 90ہزار ایکڑ نہری زمین جو زیر کاشت تھی اس کو بنجر بنا دیا ہے ۔ افسوس کی بات ہے صوبائی حکومت ان معاملوں میں کوئی دلچسپی نہیں لیتی سیاسی اور مالی امور کو اولیت دی جاتی ہے حالانکہ بلوچستان کو خوراک کی پیداوار میں کمی پیدا ہورہی ہے ہم اناج کے معاملے میں سندھ اورپنجاب کے محتاج رہیں گے اگر ہماری نہری اور زیر کاشت زمین بنجر ہو گئی۔ المیہ یہ ہے صوبائی حکومت اس کا نوٹس نہیں لے رہی ہے ۔ ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت ،سندھ حکومت کے ساتھ معاملات کو اٹھائے گی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرے گی کہ ان معاملات میں مداخلت کرے اور بلوچستان کو اس کے حق کے مطابق نہری پانی فراہم کی جائے ۔