|

وقتِ اشاعت :   March 2 – 2017

ڈیرہ مراد جمالی :اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے چیئرمین جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما مولانا محمد خان شیرانی نے کہاکہ حکمرانوں کی غلط پالیسوں کی وجہ سے ملک کو تھیٹر بنا دیا گیا ہے جس میں کرایہ کا مزدور صحافی جج جنرنیل سیاستدان ملا اور قاتل بھی کرایے پر مل جاتا ہے عالمی قوتوں کا ارادہ ہے پاکستان کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے سندھ پنجاب وطن قومی بلوچستان کے پی کے نسلی قومیت گوادر کراچی کو فکر ی قومیت کے نام پر دو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے جس کیلئے ملک میں مختلف دہشت گردوں کے گروپ سر گرم ہو چکے ہیں اور کہاکہ پانا ما لیکس ڈرامہ ہے جس میں اداکار اپنی ادا کاری کر رے ہیں عوام تماشی بنی ہوئی ہے ایسا لگتا ہے موجودہ پاکستان جناح کا پاکستان نہیں ہے اسٹیبلشمنٹ پاکستان کیلئے نہیں ہے بلکہ پاکستان اسٹیبلشمنٹ کیلئے ہے ان خیالات کا اظہار ڈیرہ مراد جمالی میں میر عبدالکریم بنگلزئی حاجی محمد بخش بنگلزئی کی رہائش گاہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سابق صوبائی وزیر مولانا عطاء اﷲ سابق امیر مولانا عبدالغنی ساسولی بھی موجود تھے انہوں نے کہاکہ اسلامی نظریاتی کونسل میں کسی فرقہ طبقے کو خوش کرنے کیلئے فیصلے نہیں کیئے جاتے ہیں بلکہ مکمل طور پر اسلامی قوانین قرآن وحدیث کی روشنی میں فیصلہ کیا جاتا ہے اپنے دائرے سے ہٹ کر کسی کو خوش کرنے کی غلط بھی نہیں کرتے ہیں فوجی عدالتوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہاکہ 1920میں لیگ آف نیشنل سے قبل جاگیر فرد کو دی جاتی تھی بعد میں عالمی اداروں نے جاگیر اداروں کو دینا شروع کردی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کیلئے نہیں ہے بلکہ پاکستان اسٹیبلشمنٹ کیلئے ہے اب جاگیر میں جاگیردار کا اپنا اختیار ہے وہ فیصلہ عدالتوں سے کرائے یا خود کرے سیاستدان مذہبی جماعتیں جاگیر دار کو اپنی مرضی چلانے کیلئے پارلیمنٹ سے قانونی جواز کیوں دیں اور کہاکہ ادارے جرائم کرپشن کے فریقین نہیں ہیں بلکہ جرائم کرپشن کرنے والوں کو دھچکا دینے کیلئے ہیں تاکہ وہ رائے راست میں آجائیں