|

وقتِ اشاعت :   March 27 – 2017

لورالائی : محکمہ صحت اور ہسپتالوں میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائیگی اور محکمہ میں کالی بھٹر یوں کے خاتمے کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں گے ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ نے لورالائی سکول آف ایف سی کی پاسنگ آوٹ پریڈ کے موقعے پر لورالائی پریس کلب کے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ ہم نے صحت کے شعبے میں اصلاحات لانے کیلئے اقدامات کئے ہیں صوبے کے مختلف ہسپتالوں کو جدید آلات فراہم کیے ہیں اور کیے جارہے ہیں اور اسی طرح ہسپتالوں اور محکمہ صحت کے دیگر اداروں کو فعال بنانے کیلئے لورالائی میڈیکل کالج اور خضدار میڈیکل کالج کو فعال بنانے کیلئے ضروری تعیناتیاں کی ہیں اور ان ضروری سازو سامان اور لازمی آلات فراہم کردیئے گئے ہیں اور بلوچستان کے عوام کو صحت کی بہترین اور معیاری سہولیات کی فراہمی کیلئے ایمبونیسز اور دیگر آلات فراہم کردیئے گئے ہیں تاکہ عوام کو صحت کی بہترین سہولیات ان کے گھر کی دہلیز پر فراہم کی جاسکیں ۔ اور اس سلسلے میں ڈاکٹرز کو پسماند ہ علاقوں میں مراعات دیکر تعینات کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں محکمہ صحت کے ملازمین کی غیر حاضری اور محکمانہ غفلت ہر گز برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے سات ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز اور دیگر عملے کو مستقل کیا ہے اور مزید یہ کہ اچھی کارکردگی اور ایمانداری سے ڈیوٹی کرنے والے عملے کو بھی مستقل کیا جائے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لورالائی ہسپتال کو جلد نشے کا ڈاکٹر اور دیگر ڈاکٹر ز کی تعیناتی بھی عمل میں لائی جائے گی اور لورالائی ہسپتال کو ٹیچنگ ہسپتال کا درجہ دے دیا گیا ان کے دیگر مسائل بھی ترجیجی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور اس طرح پورے بلوچستان کے تما م اضلاع میں انہی اضلاع کے سینئر ڈاکٹر ز کو تعینات کیا جارہا ہے انہوں نے ڈاکٹر ز سے بھی درخواست کی کہ وہ بھی اپنی اخلاقی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے سرانجام دیں گے اور اپنے اضلاع میں انسانی خدمت کو اپنا شعار بنا لیں گے ۔