کوئٹہ+ نوشکی: بلوچستان کے ضلع نوشکی میں خسرے کی وباء پھوٹ پڑی۔ایک ہی خاندان کے چار بچوں سمیت 11بچے زندگی کی بازی ہار گئے۔40سے زائد بچے بیماری سے متاثر ہوگئے ۔
تفصیل کے مطابق خسرے کی وباء نوشکی کے علاقے کلی قادر آباد اور ملحقہ علاقوں میں پھیلی ہے ۔ علاقہ کونسلر عبدالصمد مینگل نے بتایا کہ گزشتہ تین دنوں سے بچوں کی اموات ہورہی ہے۔ اب تک گیارہ بچوں کی موت ہوچکی ہے جبکہ چالیس سے زائد بچے متاثر ہوئے ہیں جنہیں تیز بخار کی شکایات ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں سے بچے بیمار تھے لیکن تین دن دنوں سے اموات ہونا شروع ہوئیں تو علاقے کے لوگوں کو فکر ہوگئی ۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے محکمہ صحت کے حکام سے رابطہ کرکے صورتحال سے آگاہ کیا۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹرحمید نے علاقے میں خسرے کی وباء پھیلنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ محکمہ صحت کی ٹیم ادویات لیکر علاقے میں پہنچ گئی ہے اور میڈیکل کیمپ لگا کر متاثر ہ بچوں کا علاج شروع کردیا ہے۔
انہوں نے وباء پھیلنے کی وجہ بچوں کی ویکسی نیشن نہ ہونا بتایا ہے ۔ ڈاکٹر حمید کے مطابق علاقے میں رہائش پذیر افغان باشندے اپنے بچوں کی ویکسی نیشن کرانے سے انکار ی ہیں اور ان کا افغانستان آنا جانا بھی لگا رہتا ہے اس لئے زیادہ متاثرہ بچے انہی افغان گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ متاثرہ بچوں کے والدین سے ویکسی نیشن کارڈ مانگے گئے تو وہ فراہم نہیں کرسکے ۔
علاقہ کونسلر عبدالصمد مینگل کے مطابق جاں بحق ہونے والوں بچوں کی شناخت آسمہ بنت اسداللہ ،گل رحمن ولد محمد عمر،سعیدہ بنت شیر آغا،محمد اخلاص ولد محمد خان ،زکریا ولد محمد نادر ،عزت شاہ ولد حکمت اللہ ،رضیہ بنت عبدالستار ،اسداللہ ولد رحمت گل ،ادریس احمد ولد سعید احمد ،جلیل احمد ولد سعید احمد اورجہان زیہ بنت سردار محمد کے نام سے ہوئی ہے ان میں چار بچوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ علاقے میں مزید میڈیکل ٹیمیں بجھوائی جائیں تاکہ اس وباء کو قابو کیا جاسکے۔
نوشکی خسرے کی وباء پھوٹ پڑی11کمسن بچے جاں بحق علاقے میں تشویش کی لہر
![]()
وقتِ اشاعت : October 20 – 2017