کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان وچیئرمین گورننگ باڈی گوادر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت اجلاس میں گوادر کی ترقی کے مختلف منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں گورننگ باڈی کے اراکین رکن قومی اسمبلی عیسیٰ نوری، رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی، صوبائی مشیر جی ڈی اے کہدہ بابر، چیف سیکریری بلوچستان اورنگ زیب حق، سابق چیف سیکریٹری بلوچستان احمد بخش لہڑی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی وترقیات، سیکریٹری خزانہ اور چیئرمین میونسپل کمیٹی گوادر بابو گلاب اجلاس میں شریک تھے جبکہ گورننگ باڈی کے سیکریٹری ڈی جی جی ڈی اے ڈاکٹر سجاد بلوچ نے اجلاس کو ایجنڈ ا میں شامل مختلف نکات اور اپنے ادارے کی کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دی۔
اجلاس میں گوادر کے ترقیاتی ادارے کو درپیش مسائل کے فوری حل اور اس کی کارکردگی کومزید بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ادارے کے تحت گوادر کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے سے متعلق کئی فیصلوں کی منظوری بھی دی گئی۔
اجلاس میں جی ڈی اے کے جاری ترقیاتی منصوبوں کے لئے پانچ سو ملین روپے ، گوادر بزنس پلان کے جاری منصوبوں کی برج فائنانسنگ کے لئے پانچ سو ملین روپے کے علاوہ جی ڈی اے کے 2016-17ء کے ترمیمی بجٹ جبکہ 2017-18ء کے سالانہ بجٹ کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں جی ڈی اے کے تین مختلف منصوبوں کے پی سی۔ِِِون کو بھی منظور کیا گیا۔ اجلاس میں گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو مالی طور پر خودانحصاری کی جانب گامزن کرنے کے لئے نجی اراضی مالکان کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اور مشترکہ منصوبوں کے منظوری بھی دی۔
گورننگ باڈی نے پیشکان اور سربندر جیٹیوں کے آپریشن اور مینٹیننس کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ان جیٹیوں کو نجی شعبوں کے اشتراک سے چلانے کے لئے سفارشات پیش کی جائیں۔ اجلاس میں ایجنڈے میں شامل جی ڈی اے کے بعض انتظامی امور جن میں جی ڈی اے ملازمین اور آفیسران کی ترقیوں کے کیسز بھی شامل ہیں کی منظوری بھی دی گئی۔
اجلاس میں اس بات سے اتفاق کیا گیا کہ سی پیک کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے گوادر ٹاؤن کی ترقی اور مقامی آبادی کو زندگی کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کو اولین ترجیح حاصل رہے گی اس حوالے سے صوبائی حکومت میونسپل کمیٹی گوادر اور گوادر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اپنا اپنا کردار اد کریں گی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت گوادر پورٹ کی ترقی کے لئے تو فنڈز فراہم کررہی ہے لیکن گوادر ٹاؤن اور مقامی آبادی کے مسائل کے حل کے لئے اعلانات تو کئے جاتے رہے ہیں تاہم عملی طور پر اب تک کچھ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ کی ترقی بھی ضروری ہے لیکن گوادر شہر کے مسائل کے حل اور مقامی لوگوں کو زندگی کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے بغیر گوادر کی مجموعی ترقی ممکن نہیں ہوگی۔
صوبائی حکومت اس حوالے سے وسائل فراہم کرے گی تاہم وفاقی حکومت کو بھی اس جانب توجہ دیتے ہوئے کئے گئے اعلانات پر عملدرآمد کرنا چاہئے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں گوادر کے مقامی لوگوں کے بنیادی مسائل کے حل اورانہیں روزگار کی فراہمی کے علاوہ گوادر شہر کی خوبصورتی اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق سہولیات کی فراہمی کی جانب خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔
انہوں نے اس عزم کا اظہارکیا کہ صوبائی حکومت اپنے محدود وسائل کے باوجود گوادر میں پانی بجلی اور دیگر ضروریات کو پورا کرنے کے علاوہ شہر کے اہم منصوبوں کے لئے فنڈز فراہم کرے گی۔ دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ بلدیاتی اداروں کو درپیش مالی مشکلات سمیت دیگر مسائل کو حل کیا جائے گا۔
حکومت اپنے محدود وسائل کے باوجود چاہتی ہے کہ بلدیاتی اداروں کو وسائل فراہم کرکے فعال بنایا جائے۔ ہم خوش نیت اور خلوص کے ساتھ بلدیاتی اداروں کے ذریعے عوام کو نچلی سطح تک درپیش مسائل کا حل چاہتے ہیں۔
ان خیالات کا اطہار انہوں نے صوبے کی مختلف یونین کونسلوں کے نمائندوں کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جس نے منگل کے روز ان سے ملاقات کی اور انہیں بلدیاتی اداروں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔اراکین صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی، انجینئر زمرک خان اچکزئی، عبیداللہ بابت اور چیف سیکریٹری بلوچستان اورنگ زیب حق بھی اس موقع پر موجود تھے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے ڈسٹرکٹ چیئرمینوں کے اعزازیہ اور بلدیاتی اداروں کے غیرترقیاتی بجٹ کی منظوری دے دی ہے جبکہ بلدیاتی اداروں کے مسائل کے حل کے لئے قائم کمیٹی میں یونین کونسلوں کے چیئرمینوں کے نمائندوں کو بھی شامل کرکے ان کے اعزازیہ کے اجراء کی سفارشات حاصل کی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں بلدیاتی ادارے تو قائم کردیئے گئے لیکن بدقسمتی سے انہیں مسائل اور اختیارات دینے کے عمل میں حائل پیچیدگیوں اور ابہام کو دور نہیں کیا گیا جس سے یہ ادارے مالی مسائل کا شکار ہیں۔انہوں نے یقین دلایا کہ اس ضمن میں قائم کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ترقیاتی فنڈز کے اجراء سمیت دیگر مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔