اسلام آباد: پندرہویں قومی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس ( آج) پیر سے شرو ع ہو گا ، جس میں نومنتخب اراکین حلف اٹھائیں گے،سپیکر و ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی 14اگست تک سیکرٹری قومی اسمبلی کے دفتر میں جمع کرائے جا سکیں گے۔
سپیکر و ڈپٹی سپیکر کا انتخاب 15اگست بروز بدھ کو کیا جائے گاجس کے بعد وزیر اعظم کے انتخاب کا شیڈول جاری کیا جائے گا ، ممبران کی حلف برداری ،سپیکر و ڈپٹی سپیکر اور وزیر اعظم کے انتخاب کے موقع پر سیکورٹی کے انتظامات کو یقینی بنانے اور گیلریوں میں بیٹھنے کی گنجائش میں کمی کے باعث ہر ممبر کو مہمانوں کے لیے صرف 2گیلری کارڈ جاری کیے جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق 15ویں قومی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس( آج) پیر کو 13 صبح 10بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا۔افتتاحی اجلاس میں نومنتخب ممبران حلف اٹھائیں گے ، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے نومنتخب اراکین کی حلف برداری ،سپیکر و ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کا شیڈول جاری کر دیا ہے ،قومی اسمبلی کے جاری شدہ شیڈول کے مطابق 13اگست بروز پیر نومنتخب اراکین حلف اٹھائیں گے اور اراکین کی فہرست پر دستخظ کریں گے۔
سپیکر و ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی 14اگست بروز منگل 12بجے تک سیکرٹری قومی اسمبلی کے دفتر میں جمع کرائے جا سکیں گے،سپیکر و ڈپٹی سپیکر کا انتخاب 15اگست بروز بدھ کو کیا جائے گا ، جس کے بعد وزیر اعظم کے انتخاب کا شیڈول جاری کیا جائے گا،نومنتخب ممبران کی ۔
اجلاس میں شر کت اور حلف برداری ،سپیکر و ڈپٹی سپیکر اور وزیر اعظم کے انتخاب میں ووٹ ڈالنے کے لیے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی طر ف سے جاری کیا جانے والا کارڈ لازمی ہو گا،خیبرپختونخوا اسمبلی کااجلاس آج پیر 13اگست کوطلب کرلیاگیا ہے،اجلاس میں نومنتخب ارکان صوبائی اسمبلی حلف اٹھائیں گے ،گورنر خیبر پختونخوا نے سپیکر اسد قیصر کی متوقع غیر موجودگی میں متبادل نو منتخب رکن نامزد کردیاہے۔
گورنرخیبرپختونخوا اقبال ظفرجھگڑا نے خیبر پختونخوااسمبلی کا اجلاس تیرہ اگست بروزپیر کو طلب کرلیااجلاس میں نو منتخب ممبران خیبر پختونخوا اسمبلی حلف لینگے جس کے بعد سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہوگاجبکہ اجلاس میں ہاوس اف دی لیڈر کا انتخاب بھی عمل میں لایا جائے گا۔
گورنر خیبر پختونخوا نے سپیکر اسد قیصر کی متوقع غیر موجودگی میں متبادل نو منتخب رکن نامزد کردیاہے، آئین کے آرٹیکل 53 اور127 کے تحت نو منتخب رکن سردار اورنگزیب نلوٹھا بطور پریذائیڈنگ آفیسر نامزد کر دیا جبکہ سپیکراسد قیصر کی غیر حاضری کی صورت میں اورنگزیب نلوٹھا اجلاس کی صدرات بھی کرینگے،سندھ اسمبلی کا اجلاس آج(پیر) ہوگا، نومنتخب ارکان سندھ اسمبلی حلف اٹھائیں گے۔
پاکستان پیپلزپارٹی نے مراد علی شاہ کو وزیراعلی، آغا سراج درانی کو اسپیکر اور ریحانہ لغاری کو ڈپٹی اسپیکر نامزد کیاہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعلی کا مشترکہ امیدوار لانے کا فیصلہ کیا۔اپوزیشن جماعتوں کا کہناہے کہ پیپلزپارٹی کے امیدواروں کو بلا مقابلہ نہیں آنے دیں گے۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتیں سندھ اسمبلی میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے مشترکہ امیدواربھی لائیں گی۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کا ایم کیوایم سے اسپیکر اور جی ڈی اے سے ڈپٹی اسپیکر کا امیدوار لئے جانے کا امکان ہے۔
اپوزیشن کا وزیراعلی کے عہدے کے لئے مشترکہ امیدوار پی ٹی آئی سے لایاجائے گا۔ دریں اثناء بلوچستان کی نئی صوبائی اسمبلی کا پہلا اجلاس پیر کی صبح گیارہ بجے ہوگا۔ صوبائی اسمبلی کے باہر اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔اسمبلی کی طرف جانے رالے راستے سیل کردیئے جائیں گے اور پانچ سو سے زائد اہلکار سیکورٹی پر مامور ہوں گے۔
پہلے اجلاس میں نومنتخب ارکان اسمبلی حلف اٹھائیں گے۔اسپیکر راحیلہ حمید خان درانی ان سے حلف لیں گی۔ جس کے بعد اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جائیں گے۔ جانچ پڑتال کے بعد امیدواروں کی فہرست لگے گی اور اس کے بعد اسمبلی کا شام چار بجے دوبارہ بلایا جائیگا جس میں نئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب خفیہ رائے دہی کے ذریعے عمل میں لایاجائے گا۔
اسپیکر کا انتخاب عمل میں لائے جانے کے بعد راحیلہ حمید درانی نے نومنتخب اسپیکر سے حلف لیں گی اور سکبدوش ہوجائیں گی۔ بلوچستان عوامی پارٹی کی سربراہی میں چھ جماعتی اتحاد میں شامل جماعتوں ،تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی، بی این پی عوامی اور جمہوری وطن پارٹی نے بلوچستان اسمبلی کے نئے قائد ایوان کیلئے جام کمال اور اسپیکر کیلئے عبدالقدوس بزنجو کو نامزد کیا ہے۔ اتحادی جماعتیں تاحال ڈپٹی سپیکر کے عہدے کیلئے نامزدگی کا فیصلہ نہیں کر سکی۔
بی این پی مینگل اور ایم ایم اے نے حزب اختلاف میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں اپوزیشن جماعتوں نے قائد ایوان ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدوں پر انتخاب لڑنے یا نہ لڑنے کا فیصلہ کرنے کیلئے اجلاس کیا جو رات گئے تک جاری رہا۔
بلوچستان اسمبلی میں چار خواتین اور اقلیت کی ایک مخصوص نشست ملنے کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی 24 نشستوں کے ساتھ اس وقت سب سے بڑی پارلیمانی جماعت ہے۔ متحدہ مجلس عمل اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے ارکان کی تعداد 10، 10 ہیں۔ دونوں جماعتوں کو خواتین کی دو دو اور ایک ایک اقلیتی نشست ملی ہے۔
تحریک انصاف کو خواتین کی ایک نشست الاٹ کی گئی ہے جس کے بعد ان کے ارکان کی تعداد 7 ہوگئی ہے۔عوامی نیشنل پارٹی کو خواتین کی ایک نشست ملنے کے بعد مجموعی نشستیں چار ہوگئی ہیں۔ بی این پی عوامی کے دوارکان ہیں۔
صوبائی اسمبلی میں جے ڈبلیو پی ،مسلم لیگ ن اور پشتونخوامیپ کا ایک ایک رکن ہے۔ خواتین کی ایک نشست پر بی این پی عوامی اور پی ٹی آئی کے درمیان قرعہ اندازی ہوگی۔ اگر بی این پی عوامی کو یہ نشست ملی تو ان کے کل ارکان کی تعداد تین ہوجائے گی اور اگر پی ٹی آئی کو خواتین کی یہ نشست ملی تو ان کے ارکان کی تعداد بڑھ کر 8ہوجائے گی۔حکومتی اتحاد کے ارکان کی مجموعی تعداد 40بنتی ہے ۔
65کے ایوان میں حکومت سازی کیلئے 33ارکان کی ضرورت ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ بلوچستان اسمبلی کی کل 65 میں سے 60 نشستوں پر امیدوار حلف اٹھاسکیں گے۔
ایک نشست سردار اختر مینگل کے چھوڑنے کے باعث خالی ہوگی۔ خواتین کی ایک نشست الاٹ ہونے کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ دو نشستوں پی بی 41 سے ایم ایم اے کے کامیاب امیدوار زابد علی ریکی اور پی بی 26 سے ایچ ڈی پی کے احمد علی کوہزاد کی کامیابی کے نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن نے روکے ہوئے ہیں۔ جبکہ پی بی 35 پر انتخاب امیدوار سراج رئیسانی کی بم دھماکے میں شہادت کے باعث ملتوی کردیئے گئے تھے۔
قومی وتین صوبائی اسمبلیوں کے ارکان آج حلف اٹھا ئیں گے
![]()
وقتِ اشاعت : August 13 – 2018